بریکنگ نیوز
Home / کالم / زیرکفالت

زیرکفالت


ہمارے معاشرے میں چونکہ عموماً جائنٹ فیملی سسٹم ہے ۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ بچے فوراً ہی ماں باپ کو چھوڑ دیں ہاں آجکل مذہب سے دوری اور مغرب کی تقلید میں ایساہو رہا ہے کہ کچھ خاندان اپنے بچوں کو پیدائش کے بعد وہ توجہ نہیں دیتے جو مذہب اسلام نے حکم دیا ہے اسی وجہ سے لوگ ایک دوسرے سے دور ہو رہے ہیں اور خاندانی سسٹم کمزور کر دیا گیا ہے اور کچھ والدین اپنے بچوں کو پیدائش کے بعد آیاؤں کے حوالے کر دیتے ہیں یا مائیں بچوں کو اپنا دودھ پلانا فیشن کے خلاف سمجھتی ہیں اُن کے بچے اپنے والدین کے ساتھ وہ پیار اور تعظیم کا رشتہ نہیں رکھتے جو ایک بیٹے کو والدین کے ساتھ رکھنا چاہئے اور ہمارا مذہب تو یہ کہتا ہے کہ جب تمارے والدین بوڑھے ہو جائیں تو اُن کے سامنے اُف تک نہ کرو۔اور دعا کرو کہ اے ہمارے پروردگار ان کے ساتھ اسی طرح رحم کا سلوک کرنا جس طرح انہوں نے ہمارے بچپن میں ہمارے ساتھ کیا تھا مگر فیشن ایبل والدین تو بچوں کے ساتھ چونکہ وہ رحم والا سلوک نہیں کرتے جو ان کا حق ہے اسی لئے بچے بھی والدین کے ساتھ وہ سلوک نہیں کرتے جس کا مذہب ان کو حکم دیتا ہے مگر اب بھی ہمارے معاشرے کے اٹھانوے فی صد لوگ اپنے بچوں سے اور اپنے والدین سے وہی سلوک کرتے ہیں جو مذہب ان کو حکم دیتا ہے۔جہاں تک بیٹیوں کا تعلق ہے تو وہ اس وقت تک والدین کے ساتھ رہتی اور اُن پر ڈیپنڈنٹ رہتی ہیں جب تک اُن کی شادی نہیں ہو جاتی ۔ جب بیٹی کی شادی ہو جاتی ہے تو اُس کا اپنا ایک گھر ہو جاتا ہے اور اُس کے نان نفقے کا سارا بوجھ اُس کے خاوند پر پڑ جاتا ہے۔ اسی طرح سے خاندان بنتے اور نئے نئے گھر‘ گاؤں اور شہر بنتے ہیں‘ہاں اس میں والدین کے ساتھ تعلق اب ذرا سا بدل جاتا ہے کہ وہ بیٹی جو شادی سے پہلے والدین کے زیر کفالت تھی شادی کے بعد وہ خاوند کے زیر کفالت ہو جاتی ہے اور اگر خاندان ایک ہی جگہ رہتا ہے تو کفالت کا ذمہ گھر کے بڑے کا ہوتا ہے اور چھوٹے سارے اپنی کمائی بڑے کے ہاتھ پر رکھتے ہیں اور اس طرح خاندان یک جا رہتا ہے۔

شہروں میں تو اب بہت کم ایسا رہ گیا ہے اس لئے کہ شہروں میں مغرب کی ہوائیں کچھ زیادہ ہی چلتی ہیں اس لئے ہمارے پڑھے لکھے بچے جو مغرب کو اپنا آئیڈیل مانتے ہیں وہ نہ تو والدین کی طرف توجہ دیتے ہیں اور نہ بچوں کی جانب توجہ دیتے ہیں اور یوں خاندانی اکائی میں رخنہ اندازی پڑ جاتی ہے اس کیلئے اب اولڈ ایج ہوم اور بچوں کیلئے نرسریوں کا رواج پڑ رہا ہے جو ہماری نظر میں ہمارے معاشرے کیلئے اچھی بات نہیں ہے۔خیر رواج کی بات ہے ہو رہا ہے تو کون روک سکتا ہے۔مگر جن بچوں کو پرورش کے لئے نرسریوں میں رکھا جاتا ہے وہ جواب میں اسی طرح والدین کو اولڈ ہومز کی نذرکر دیتے ہیں اور جو حالت ان اولڈ ہومز میں والدین کی ہوتی ہے وہ اللہ کسی کو بھی نہ دکھائے۔ مگر اپنی جوانی میں جو کچھ والدین اپنے بچوں کیساتھ کرتے ہیں اس کا نتیجہ تو یہی ہونا ہے۔ ایک اور بات جو ہمارے معاشرے کا طرہ امتیاز تھی اور ابھی تک ننانوے فی صد پاکستا نیوں میں ہے وہ یہ کہ ہم کسی بھی طرح سے کسی کی بیٹی کا نام پبلک میں نہیں لیتے۔ اگر کسی وجہ سے گھریلو ناچاکی کی نوبت آجاتی ہے تو بھی عورت کا نام نہیں لیا جاتا بلکہ فلاں کی بیٹی یا فلاں کی بہن کہا جاتا ہے۔ جرگے میں عورت کا نام لینا معیوب سمجھا جاتا ہے مگر اب ہمارے سیاست دانوں نے ایک نئی طرح ڈالی ہے کہ وزیر اعظم کو ایک کیس میں (جس میں اُس کا نام بھی نہیں ہے) گھسیٹا جا رہا تو اس میں اسکے بیٹوں کے ساتھ اُس کی بیٹی کو بھی سر عام پکارا جا رہا ہے۔

جو ہمارے مشرقی معاشرے کی روایات کے منافی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ ایسی جماعت کے لیڈر جن کا ٹارگٹ پاکستان میں اسلامی نظام کا نفاذ ہے وہ بھی یہی حرکت کر رہے ہیں اور وزیر اعظم کی بیٹی کو جو ایک شادی شدہ عورت ہے اور جس کو کسی بھی تعریف میں وزیر اعظم کے زیر کفالت نہیں کہا جا سکتا مگر اپنی مطلب براری کیلئے اُسے زبر دستی وزیر اعظم کے زیر کفالت کہا جا رہا ہے۔ تاہم اگر کسی کو مشرقی روایات کا اور اپنے مذہب کا ذرا سا بھی پاس ہے تو اس مسئلے کو نہ ہی چھیڑے اور کسی کی بیٹی کا سر عام نام نہ ہی لے تو بہتر ہے، حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں سیاست کا انداز بدل گیا ہے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے ہرحربہ استعمال کیاجاتا ہے چاہے وہ اخلاقیات کے معیار پر پورا نہ اترتا ہو۔