بریکنگ نیوز
Home / کالم / جن آوازوں پرمائیک عاشق تھا

جن آوازوں پرمائیک عاشق تھا

کیمرے کی آنکھ اور ریڈیو کا مائیک ہر ہما شما پر عاشق نہیں ہوتا لیکن جس کسی پر بھی وہ عاشق ہو جائیں تو اسے پھر اوج ثریا پر پہنچا دیتے ہیں آج ہم ریڈیو کے مائیک تک ہی اپنی بحث کو محدود رکھیں گے اگر کوئی آواز مائیک کو پسند آ جائے اور اس آواز کا تلفظ بھی درست ہو تو پھر تو سونے پہ سہاگے والی بات ہو جاتی ہے ۔ ان رمز کی باتوں کو صرف وہی حضرات سمجھ سکتے ہیں کہ جو ریڈیو نشریات کے ریگولر سامع ہوں ایک دور تھا کہ جب ریڈیو کیلئے براڈ کاسٹرز بھرتی کئے جاتے تو آڈیشن(Audtion) کے دوران مندرجہ بالا باریکیوں کا بہت خیال رکھا جاتا ریڈیو کے کرتا دھرتا باقاعد ہ اس بات کا اہتمام بھی کرتے کہ ریڈیو سٹیشن میں مختلف قسم کی براڈ کاسٹس کے دوران لسانیات خصوصاً درست تلفظ کے ایکسپرٹس بھی موجود ہوں تاکہ الفاظ کی ادائیگی میں براڈ کاسٹرز سے کوئی لغزش نہ سرزد ہو لیکن یہ وہ زمانہ تھا کہ جب زیڈ اے بخاری یا ان کے بھائی پطرس بخاری یا ان کے شاگرد براڈ کاسٹرز کی ٹیم کسی نہ کسی صورت میں ریڈیو پاکستان میں موجود تھی ‘ جب سے وہ پرانے لوگ رخصت ہو ئے نئے آنے والوں نے ان باریکیوں کی طرف توجہ دینی چھوڑ دی ہماری جنریشن سے تعلق رکھنے والے اکثر طالب علم پرانے براڈ کاسٹرز کو سن سن کر اپنی اردو اور انگریزی زبان کا تلفظ درست کرتے ‘ کئی پرانے نامور براڈ کاسٹرز کے نام اس وقت ذہن میں آ رہے ہیں اور کئی لوگوں کے نام بھول بھی رہے ہیں لیکن چلئے جو یاد آ رہے ہیں ان کا ہی ہلکا سا تذکرہ ہو جائے شکیل احمد ‘ انور بہزاد ‘ مسعود تابش وہ تین نا م ہیں کہ جو عرصہ دراز تک ریڈیو پاکستان سے خبریں پڑھتے تھے او ر اس کے نیوز سیکشن کی پہچان تھے۔

کیا غضب کا ان کا تلفظ تھا کم و بیش اس دور میں ریڈیو پاکستان کے مختلف سٹیشنوں سے ڈراموں میں جو آوازیں مقبول عام تھیں ان میں موہنی حمید‘ آغا طالش‘ محمد علی‘ مصطفی قریشی‘ ابراہیم نفیس‘ باسط سلیم‘ خلیل خان‘ کاظم علی شاہ ‘ ایف آر قریشی ‘ ضیاء محی الدین ‘ طاہر ہ سلیم ‘ قوی خان‘ نذیر ناجی ‘ مظفر حسین ‘ اشفاق احمد ‘ ودود منظر اور نیلسن کیمفر کے نام اگر نہ لئے جائیں تو زیاتی ہو گی بی بی سی کی اردو سروس سے ایک عرصہ تک رضا علی عابدی کا ساتھ رہا کم و بیش 30 برس تک بی بی سی اردو سروس کو جو سامعین تواتر سے سنتے ہیں وہ اس آواز سے کافی مانوس تھے ایک تو خدا نے ان کو اچھی آو ا ز سے نواز اور اس پر ان کا تلفظ بہت عمدہ تھا جو تحریریں وہ پڑھتے ان کا سکرپٹ بڑا سادہ اور عام فہم زبان میں لکھا ہوتا جو ہر قسم کے سامع کے دل و دماغ پر فوراً رجسٹر ہو جاتا رضا علی عابدی کا کمال یہ بھی تھا کہ انہوں نے برصغیر میں جس جگہ سے فرنگیوں نے ریلوے لائن شروع کی وہاں سے لیکر جس ریلوے سٹیشن پر اس کا اختتام ہوا اس تمام ریلوے ٹریک پر سفر کیا اور جس جس شہر کا ریلوے سٹیشن راستے میں آیا اس کا ذکر بھی انہوں نے ایک مورخ کے انداز میں کیا بالکل اسی طرح رضا علی عابدی نے دریائے سندھ کے منبع سے لیکر اس کے آخری حصے تک دائیں بائیں آباد شہروں کا دورہ کیا ان پرپروگرام براڈ کاسٹ کئے بعد میں ریل کہانی اور شہر دریا کے نا م سے انہوں نے اپنی ان دستاویزی قسم کی نشریات کو کتابی شکل میں پیش کیا جو عوام میں از حد مقبول ہوئیں ۔

حال ہی میں ہماری نظر سے ان کی ایک اور خوب صورت کتاب ’’حضرت علی کی تقریریں‘‘ کے عنوان سے گزری کہ جس میں انہوں نے نہج البلاغہ سے بعض مضمون چن کر ان کو سلیس اور سہل زبان میں پیش کیا ہے یہ کتاب سنگ میل والوں نے چھاپی ہے اور یہ 253 صفحات پر مشتمل ہے رضا علی عابدی کی تقریر اور تحریر کا خاصا یہ ہے کہ وہ ثقیل الفاظ کے استعمال سے اجتناب کرتے ہیں در حقیقت جتنے بھی عظیم لکھاری گزرے ہیں انہوں نے عام فہم زبان کا استعمال کیا ہے رضا علی عابدی کی آواز آپ یو ٹیوب پر بھی سن سکتے ہیں ‘ عوام کے دلوں میں گھر کر لینے والے براڈ کاسٹرز کا ذکر مکمل نہ ہو گا اگر ہم بی بی سی انگریزی سروس کے د و معروف براڈ کاسٹرز سرکک اور جان آرلٹ کا ذکر نہ کریں مسٹرکک 50 برس تک ہر ہفتے واشنگٹن سے Letter From America کے نا م سے پندرہ منٹ کی ایک براڈ کاسٹ نشر کرتے جس میں ہفتے بھر کی اہم خبروں اور واقعات کا احاطہ کیا جاتا ملکہ برطانیہ اس کو باقاعدگی سے سنتیں اور اگر کسی ہفتے کسی وجہ سے وہ اسے سن نہ پاتیں تو بعد میں اس کی ریکارڈنگ سنتیں اس طرح جان آرلٹ کو دنیا کے کرکٹ کے شائقین اس شو ق سے ٹیسٹ میچوں کی کمنٹری کرتے سنتے کہ جس طرح کسی زمانے میں ہم عمر قریشی اور جمشید مارکر کی انگریزی رننگ کمنٹری سنا کرتے تھے ۔