بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / سپریم کورٹ کا حکم

سپریم کورٹ کا حکم

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے عدالت کی تسلی ہوجانے تک یوٹیلٹی سٹورز پر گھی اور تیل کی فروخت روکنے کا حکم جاری کردیا ہے، عدالت عظمیٰ نے یہ بات بھی واضح کردی ہے کہ کوالٹی کنٹرول کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد یوٹیلٹی سٹورز کے گھی اور تیل کو تلف کرنے کا فیصلہ کیاجائیگا، خبر رساں ایجنسی کے مطابق عدالت نے یہ حکم بھی جاری کیا ہے کہ ملک بھر میں فروخت ہونیوالے تمام برانڈز کے گھی اور خوردنی تیل سے متعلق کوالٹی رپورٹ 10روز میں جمع کرائی جائے اور ساتھ ہی وطن عزیز میں ٹیسٹنگ لیبارٹریز کی موجودگی اور ان کی استعداد کے بارے میں بھی رپورٹ دی جائے، عدالت عظمیٰ کی جانب سے جلد ہی ٹیٹراپیک پلاسٹک پاؤچ اور پلاسٹک کی پانی کی بوتلوں پر بھی نوٹس لئے جانے کا عندیہ دیاگیا ہے، وطن عزیز میں کمر توڑ مہنگائی ایک ارضی حقیقت ہے، حکومت کے اقتصادی اعشاریے جتنے بھی اچھے ہوجائیں جب تک عام شہری کو مارکیٹ میں خریداری کرتے ہوئے ریلیف نہ ملے تو اس کے لئے سب اعداد وشمار بے ثمر ہوں گے۔

مہنگائی کی چکی میں پسنے والے غریب اور متوسط شہری کو کھانے پینے کی اشیاء خریدنے کیلئے جانے پر ملاوٹ شدہ غیر معیاری اور مضر صحت سودا ملے تو یہ انتظامی مشینری کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہی ہے، آلودہ پانی پینے والے اس شہری کو مضر صحت غذا کے استعمال پر بیماری کی صورت میں علاج کی سہولت نہ ملے وہ انتہائی مشکلات کیساتھ نجی شعبے میں جاکر معائنہ کرائے اور بازار سے دو نمبرغیر معیاری اور جعلی دوائی ملے تو اس کے ذمہ دار اداروں کی کارکردگی کو کس زمرے میں رکھاجائے گا، مرکز اور صوبوں میں برسر اقتدار حکومتوں کو اس صورتحال پر ایڈمنسٹریشن کو مزید ڈھیل دینے سے گریز کرنا چاہئے،ملاوٹ انسانی صحت اور زندگی سے جڑا اہم ترین معاملہ ہے ،یہ کسی ایک بازار میں چیکنگ یا ایک دو چھاپوں سے حل ہونیوالا مسئلہ نہیں، اس کیلئے ایک پائیدار اور قابل عمل حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی۔

ہسپتالوں کونقصان پہنچانے پر کاروائی

محکمہ صحت نے طبی عملے کے تحفظ اور ہسپتالوں میں مشتعل افراد کی جانب سے املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات کی روک تھام کیلئے قانون کا مسودہ تیار کرلیا ہے، ہمارے سٹاف رپورٹر کی فائل کردہ رپورٹ کے مطابق حملہ آور کو 3سال قید اور 50ہزار جرمانہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے، ہسپتالوں میں توڑ پھوڑ کی صورت میں ہونیوالے نقصان کا دگنا معاوضہ وصول کیاجائیگا، طبی عملے کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے، جس کا احساس قابل اطمینان ہے، اسی طرح سرکاری املاک بھی قومی ملکیت ہیں، جن کی حفاظت انتہائی ناگزیر ہے، اس سب کے ساتھ ان حالات کا تدارک بھی ضروری ہے کہ جو اپنے کسی عزیز کی اذیت یا موت کا صدمہ سہنے والوں کومشتعل کردیتے ہیں، ایسے مشتعل لوگوں کی شکایات کے ازالے کا انتظام بھی محکمہ صحت ہی کی ذمہ داری ہے، جس کیلئے برائے نام نہیں بلکہ بامقصد مراکز شکایات کا قیام ناگزیر ہے، جب کسی بھی شہری کی شکایت کا ازالہ ہوجائے تو وہ مشتعل نہیں ہوتا خصوصاً ہسپتال میں جہاں وہ اپنے مریض کے علاج کیلئے آیا ہوتا ہے نہ کہ توڑپھوڑ کے لئے۔