بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / پاکستان کرپشن پر قابو پانے کے حوالے سے جنوبی ایشیا میں پہلے نمبر پر آگیا

پاکستان کرپشن پر قابو پانے کے حوالے سے جنوبی ایشیا میں پہلے نمبر پر آگیا


برلن۔ پاکستان کرپشن پر قابو پانے کے حوالے سے جنوبی ایشیا میں پہلے جبکہ دنیا میں ابھرتی ہوئی معاشی طاقت چین کے بعد دوسرے نمبر پر آگیا‘ جنوبی ایشیاء میں کرپشن کے حوالے سے سری لنکا منفی چار درجے تنزلی کا شکار ہوا جبکہ بھارت کرپشن میں کمی کے حوالے سے صرف پانچ درجے بہتری لاسکا‘ پاکستان کا 2016ء میں کرپشن پر سیسپشن انڈکس میں 2پوائنٹس کا اضافہ ہوا‘ پاکستان کی کرپشن پریسپنشنز انڈیکس ( سی پی آئی) رینکنگ میں 9درجے بہتری ہوئی‘ پاکستان کا سی پی آئی انڈیکس 52سے بڑھ کر 61 ہوگیا ‘ 1996ء کے بعد پہلی مرتبہ نچلی سطح سے درمیانی دو تہائی سطح پر آیا‘ بدعنوانی کے خاتمے میں پاکستان جنوبی ایشیائی ممالک سے کہیں آگے ہے۔

بدھ کو بدعنوانی کے خاتمے کے حوالے سے درجہ بندی بارے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے 2016ء کی رپورٹ جاری کردی۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی تازہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس چین اور پاکستان کرپشن میں کمی کے حوالے سے پہلے اور دوسرے نمبر پر رہے جبکہ کرپشن سے پاک ممالک میں ڈنمارک، نیوزی لینڈ اور فن لینڈ بالترتیب پہلے، دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ میں پاکستان میں شفافیت میں اضافے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ پاکستان کرپشن میں کمی کے حوالے سے 9 درجے بہتری کے ساتھ 116ویں نمبر پر آگیا ہے۔ دنیا کے سب سے زیادہ بدعنوان ممالک میں پہلے کی طرح گزشتہ سال بھی صومالیہ، جنوبی سوڈان اور شمالی کوریا بالترتیب پہلے، دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔

1996 کے بعد پہلی مرتبہ پاکستان کرپشن میں کمی اورشفافیت میں اضافے کے لحاظ سے نچلے ایک تہائی بدعنوان ممالک کی فہرست سے باہر آچکا ہے جبکہ مودی کا نام نہاد شائننگ انڈیا صرف 5 درجے بہتری لاسکا۔ سری لنکا کرپشن کے حوالے سے چار درجے تنزلی کا شکار ہوا، بنگلا دیش دو درجے، نیپال اور ایران 7 درجے جبکہ چین 12 درجے بہتری کے ساتھ کرپشن میں کمی اورشفافیت میں اضافے کی طرف گامزن ہیں۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں 176 ممالک میں شفافیت کے لحاظ سے پاکستان 116ویں نمبر پر ہے جبکہ شفافیت کے لحاظ سے پاکستان کو پہلے کی نسبت 32 پوائنٹس زیادہ دیئے گئے ۔ 2007 میں پاکستان 139 ویں نمبر پر تھا جبکہ شفافیت کے لحاظ سے 100 میں 24 پوائنٹس حاصل کرسکا تھا۔ 2012 میں پاکستان 174 ممالک میں 139 ویں نمبر پر تھا اور اسے 100 میں سے 27 پوائنٹس دیئے گئے تھے۔

2012 ہی میں پاکستان شفافیت کے لحاظ سے 36 ویں نمبر رہا جبکہ 2013 میں نچلے درجے سے 49 ویں نمبر پر، 2014 میں 50 ویں نمبر پر، 2015 میں 52 ویں نمبر پر جبکہ 2016 میں نچلے ترین درجے سے 61 ویں نمبر پر رہا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بدعنوانی میں کمی ہوئی۔ بدعنوانی میں کمی میں پاکستان دنیا میں ابھرتی ہوئی معاشی طاقت چین کے بعد دوسرے نمبر پر آگیا جبکہ کرپشن پر قابو پانے کے حوالے سے پاکستان جنوبی ایشیاء میں پہلی پوزیشن پر آگیا ۔ پاکستان کا 2016ء میں کرپشن پر سسپنشن انڈکس میں دو پوائنٹ کا اضافہ ہوا۔ پاکستان کی سی پی آئی رینکنگ میں نو درجے بہتری ہوئی جس کے بعد پاکستان کا سی پی آئی انڈیکس 52 سے بڑھ کر 61ہوگیا۔ 1996ء کے بعد پہلی مرتبہ پاکستان کرپشن پر قابو پانے کے حوالے سے ممالک میں نچلی ترین سطح سے درمیانی دو تہائی سطح پر آیا ۔