بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / گھروں میں کام کرنے والی بچیوں کیلئے قانون میں تحفظ نہ ہونے پر تشویش ہے ، چیف جسٹس

گھروں میں کام کرنے والی بچیوں کیلئے قانون میں تحفظ نہ ہونے پر تشویش ہے ، چیف جسٹس

اسلام آباد۔سپریم کورٹ میں طیبہ تشدد کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاہے گھروں میں کام کرنے والی بچیوں کیلئے قانون میں تحفظ نہ ہونے پر تشویش ہے ، یہ ان کی نہیں بلکہ قانون بنانے والوں کی غلطی ہے ، طیبہ ان کی بیٹیوں کی طرح ہے ، کیس کو گہرائی سے دیکھنا ہوگا،جوڈیشل افسر کو ضمانت ملنے اور بچی حوالگی کے نکتے کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ، عدالت عظمی نے طیبہ تشدد کیس کو کی کسی ذیلی عدالت کو منتقلی کی حد تک کیس کی سماعت ایک ہفتے کے لئے ملتوی کرتے ہوئے فریقین سے معاونت طلب کرلی ہے جبکہ ملک بھر میں دیگرگھریلو ملازمین کے معاملہ کے حوالے حقوق انسانی کمیشن پاکستان اور این جی اوز کی جانب سے دائر درخواستوں پر سماعت تین ہفتے تک ملتوی کردی گئی ہے ۔بدھ کوسپریم کورٹ میں طیبہ تشدد کیس ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی سرابرہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بچوں سے گھروں میں کام کرانا بڑا مسئلہ ہے، ایسے معامالات دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جسٹس ثاقب نثار نے پوچھا کہ گھریلو ملازمین کیلئے کیا قانون سازی ہوئی ؟ دیکھیں گے عام قانون کے تحت کیس نمٹائیں یا غیر معمولی قدم اٹھائیں ۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملزمہ کے شوہر ایک جوڈیشل افسر ہیں اور ملزموں کیخلاف فوجداری مقدمہ چلانے کا جائزہ لیں گے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم کیس کی تہہ تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے بتایا کہ کیس کی تحقیقات مکمل ہوچکی ہیں اور مکمل چالان (آج) جمع کرائیں گے۔ دریں اثناسپریم کورٹ بار کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر نے کہاکہ بچوں پر تشدد ایک بہت بڑا ظلم ہے،فیصل آباد کی جس خاتون کا نام سامنے آیا اس کی تحقیق نہیں ہوئی،عاصمہ جہانگیرکاکہنا تھا کہ دیکھنا ہو گا اس سارے نیٹ ورک کو کون چلاتا ہے،اسی طرح کا ایک کیس لاہور میں بھی سامنے آیا ہے،چیف جسٹس نے عاصمہ جہناگیر سے سوال کیا کہ کیاآپ چاہتی ہیں اس کیس کو پنجاب میں کسی مجسٹریٹ کے سامنے بھیج دیںیااسلام آباد کے ویسٹ یا ایسٹ کے کسی جج کے پاس معاملہ بھیج دیں،عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں ایسا کیس دوبارہ نہ ہوجبکہ اس کیس سے لوگوں کی معلومات میں اضافہ ہونا چاہیے،ھم تشدد زدہ بچی کے ساتھ ہیں لیکن اس کیس میں ہمیں انصاف کے تقاضے پورے کرنے ہونگے۔ عاصمہ جھانگیرنے مزید کہاکہ پولیس رپورٹ میں کام کے لئے بچے فراھم کرنے والے مافیا کے خلاف ایک لفظ نہیں لکھا گیا ۔ان کا کہنا تھا کہ عدالت اپنا کام کرے اور دیگر شعبے اپنا کام کریں جو ان کا دائرہ اختیار ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اس کیس میں آپ وہ ٹرائل چاھتی ہیں کہ کیس ٹرائل کورٹ۔ ھائی کورٹ یا پنڈی میں عدالتوں کو منتقل کریں۔ عاصمہ جہانگیر نے جواب دیا کہ اس کیس میں ملزم کو انصاف کا حق ملنا چاھیئے لیکن جس طرح سے ملزم کو اسکے جوڈیشل افسران نے تحفظ دیا وہ سوچنے کی بات ہے۔ عاصمہ جہانگہر کا مزید کہنا تھا کہ اس کیس کو جتنی ھائیپ ملی ہے اور اب متاثرہ بچی کو انصاف نہ ملا تو سارے عمل کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ مقدمے کو منتقل کرناہے تو سوچ سمجھ کہ کرناہے طیبہ ھماری بیٹیوں کی طرح ہے۔۔ اس کیس کو گہرائی سے دیکھنا ہوگااور یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کیس ھم سن سکتے ہیں یا نہیں اگر کیس سنا تو اس نوعیت کے دیگر مقدمات بھی آسکتے ہیں ۔لیکن ہم اس نکتے کو نظر انداز نہیں کرسکتے کہ کس طرح سے ایک جوڈیشل افسر کو اس کے دیگر ساتھیوں نے ضمانت دی اور بچی والدین کے حوالے کی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ کیا یہ معاملہ سیشن کورٹ۔ ھائی کورٹ یا پنڈی کی عدالتوں کو بھیج سکتے ہیں فریقین اس بارے میں عدالت کی معاونت کریں۔ اس موقع پر ایڈیشنل سیشن جج کی اہلیہ ماہین ظفر کے وکیل سردار اسلم کا کہنا تھا کہ مقدمے میں جو دفعات شامل کی گئی ہیں وہ قابل ضمانت ہیں۔

چیف جسٹس نے کہاکہ سمجھ نہیں آتا کہ بچی کے والدین کو وکیل کے پاس کون لے گیااور وکیل نے کس طرح والدین سے بیان پر دستخط کرائے اور جوڈیشل افسر نے کس طرح بچی والدین کے حوالے کی۔ چیف جسٹس نے پولیس حکام سے استفسار کیا کہ کیا اس وکیل راجہ ظہور کو تفتیش میں شامل کیا گیا۔تو پولیس حکام نے بتایا کہ وکیل راجہ ظہور کو شامل تفتیش کے لئے سمن جاری کئے ہیں۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ پولیس کا بیان دیکھ کر افسوس ہو ا کہ پولیس کہہ رہی ہے کہ کل چالان جمع کرائینگے لیکن تفتیش مکمل نہیں ہوئی۔یہ کیسی تفتیش ہے کہ بیانات مکمل ریکارڈ نہیں کئے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام پہلوؤں پر تفتیش مکمل کی جائے۔ تا کہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔ پولیس سمیت جو بھی تفتیشی ایجنسی اپنا کام نہیں کرتی تو ان کے خلاف ایکشن لینگے۔ جو افراد اس کیس میں ملوث ہیں ان کے خلاف کاورائی کی جائے۔ اس موقع پر ماہین ظفر کے وکیل کا کہنا تھا کہ پولیس کو کیس کی تحقیقات سے کسی نے نہیں روکا۔،چیف جسٹس نے کہا کہ ھمارے ملک میں بچوں کے تحفظ کا قانون ہی نہیں۔قانون بنانا عدالت کی نہیں قانون بنانے والوں کی زمہ داری ہے ۔

کیا یہ صحیح ہے کہ ایک جوڈیشل افسر کسی بچے کو کام پر رکھے۔چیف جسٹس نے سماجی کارکن سے استفسارکیا کہ بچوں کو کس طرح سے اغوا کرکے پھر ان سے کام کروائے جاتے ہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پراسیکیوشن 370 تعزیرات پاکستان کے شق کا جائزہ لے۔کیا 370 کی شق انسان کی خریداری اور فروخت کے بارے میں ہے وہ اس کیس میں لاگو ہو سکتی ہے۔ بعد ازاں عدالت عظمی نے مقدمے کی کسی ذیلی عدالت کو منتقلی کی حد تک کیس کی سماعت ایک ہفتے کے لئے ملتوی کردی ہے جبکہ ملک بھر میں گھریلو ملامین کے معاملہ کے حوالے حقوق انسانی کمیشن پاکستان اور این جی اوز کی جانب سے دائر درخواستوں پر سماعت تین ہفتے تک ملتوی کردی گئی ہے ۔یاد رہے فیصل آباد کی رہائشی کمسن گھریلو ملازمہ طیبہ کو اسلام کے ایڈیشنل سیشن جج کی اہلیہ نے شدید تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس کے بعد صلح ہونے کی خبروں پر چیف جسٹس سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا تھا ۔