بریکنگ نیوز
Home / کالم / اُکھڑتی سانس ہے اور چاہ گر کی بے چینی

اُکھڑتی سانس ہے اور چاہ گر کی بے چینی

شہر اقتدار کو کبھی فائلوں گریڈوں اور کنکریٹ کی بستی کہا جاتا تھاپاکستان بھر سے ملازمتوں کیلئے آنے والے دن بھر سیکرٹریٹ کی فائلوں میں کھوئے رہتے اور سر شام سو جاتے کسی تقریب میں اکٹھے بھی ہوئے تو وہی پروموشن اور گریڈوں کی باتیں اور عید یا کسی اور لانگ ویک اینڈ میںیہ شہر سونا ہو جاتا اور یار لوگ اپنے اپنے علاقوں کا رخ کرتے لے دے کے آبپارہ کی بڑی اور دو ایک چھوٹی مارکیٹیں شام سمے ذرا سی دیر کو لوگوں سے بھر جاتیں مگر سب کے سب ایک میکانکی انداز میں اشیائے ضروریہ خرید کر گھروں کو لوٹ جاتے اسے ایک جذبات سے عاری ایک کٹھور شہر کہا جاتا پھر وقت گزرا اور بہت سے لوگ مستقل بنیادوں پر اس شہر میں رہنے لگے اور انکی نئی نسل پروان چڑھی تو شہر کی رونقیں بڑھ گئیں کالج،یونیورسٹیز اور مارکٹیں جیسے اگنے لگیں مگراس شہر طرح دار کا عمومی مزاج وہی رہا مجھے اب بھی اسکا وہ زمانہ یاد ہے جب میں ستر کی دہائی میں اسکوبنتے دیکھ رہا تھا اور تب تک پارکوں اور مارکیٹوں میں یہاں کے باسی ضرورت کی بجائے تفریح کیلئے جانا شروع ہو گئے تھے دوسری طرف سیاسی اداروں کی گہما گہمی بھی اپنی بہار دکھلانے لگی پھر یہ شہر سب کی نگاہوں کا مرکز بنا اور وہاں مستقل رہائش ایک سٹیٹس سمبل بن گئی اور شہر نے چاروں طرف اپنے پیر پھیلانے شروع کر دیئے اور اب سیاست ومعیشت سے لیکر ادب و ثقافت تک کے سارے بڑے ادارے اور حوالے اس شہر نے اپنے اندر سمو لئے ہیں اور اب اسکی رونقیں اور رعنائیاں آنکھوں کو خیرہ کرنے لگی ہیں لیکن اس سب کچھ کے باوجود مجھے لگتا ہے کہ جو کٹھور پن اس کو گھٹی میں دیا گیا؂

اس سے یہ چھٹکاراحاصل نہیں کر سکا،میرے کئی مہربان دوست اسکے معتبر مکینوں میں شامل ہیں اسلئے مجھے تو دل و جان سے عزیز ہے جب بھی اسلام آباد کاقصد کیا موٹر وے پر نیسا پور کے پاس سے گزرتے ہوئے عزیز از جاں دوست میجر عامر کو فون کر کے بتایا کہ اسلام آباد آرہا ہوں ضروری نہیں کہ ان سے ہر بار ملاقات ہو مگر اطلاع لازمی ہے اسی طرح اگر زیادہ وقت لے کر جانا ہو تو پھردوست عزیز کمانڈر خلیل الرحمن کے ہاں ایک شام کلاسیکل ‘انسٹرومینٹل موسیقی اور کملا جھریا کی جادوئی آواز سنتے ہوئے بتانا ایک خوشگوار تجربہ ہوتا ہے’’تو چپکے چپکے بول مینا ، چپکے چپکے بول ،مورے ساجن کب گھر آئیں گے‘‘ مگر اب کے جب اکادمی ادبیات کی چوتھی عالمی کانفرنس کیلئے پانچ روزہ قیام کی غرض سے اسلام آباد جانا ہوا تو کانفرنس کے معمولات نے سانس لینے نہ دیاصبح سویرے شروع ہونیوالی نشستیں شام ڈھلے تک جاری رہتیں اور پھر ہر شب نصف شب تک مشاعرہ و موسیقی کے طویل دورانیہ کے پروگراموں نے ادھ موا کر دیااب سوچتا ہوں کہ محبی مشتاق شباب پہلے دن کی تھکا دینے والی ایکسر سائز کے بعد جب اپنے ہو ٹل پہنچے تو بروقت فیصلہ کیا اور جب دوسرے دن صبح انہیں فون کیا توپتہ چلا کہ وہ پشاور واپس جانے کیلئے کوچ میں بیٹھ گئے ہیں مگر کیا کیا جائے کہ کانفرنس کی عمومی نشستیں اتنی اہم اور دل خوش کن تھیں کہ ہمیں رکنا پڑاویسے بھی ایسے اکٹھ جہاں کار ادب کو آگے بڑھانے‘ رفتار ادب سے آگہی اور ہم عصر تخلیق کاروں سے ملاقاتوں کا موقع فراہم کرتے ہیں وہاں تحریک کا باعث بھی بنتے ہیں اور سچی بات ہے کانفرنس کے ادبی موضوعات کا چناؤ عمدہ تھا اور گفتگو کیلئے پینل میں بھی نئے پرانے سارے تخلیق کار شامل تھے اب کے اس کانفرنس میں مختلف جامعات کو بھی دعوت دی گئی تھی؂

بلکہ ان کیلئے انٹری فیس بھی رکھی گئی تھی ان علمی سیشنز میں بھی خاصی رونق رہی اور جواں سال و جواں فکر سکالرز کو سن کر بہت لطف بھی آیا اور اطمینان بھی ہوا کہ نئی نسل جدید تعلیمات سے آراستہ ہو کر اپنے اعتماد کے بل بوتے پر بہت آگے بڑھنے کی صلاحیت سے مالا مال ہے پاکستان بھر سے نئے شاعر ادیب بھی اپنے اپنے سیشنز میں اپنی دھاک بٹھانے میں کامیاب رہے تجربہ کا کوئی نعم البدل اور شارٹ کٹ نہیں ہے لیکن آغاز سفر میں ہونہار بروا اپنی شناخت کرانے میں اگر کامیاب ہو جائے تواسکا مستقبل درخشاں ہو جاتا ہے خیبر پختونخوا کے حوالے سے جتنی بھی نشستیں ہوئیں وہ بھرپور رہیں،زیتون بانو کے ساتھ ملاقات کی تقریب کے ماڈریٹر اباسین یوسفزئی تھے اور انہوں نے اسے جاندار اور شاندار بنائے رکھااس سیشن میں سارے شرکاء کے مضامین اور تاثرات خوبصورت تھے خصوصاََ جواں سال سکالر ڈاکٹر اویس قرنی نے توبہت عمدہ مضمون پڑھابس اگر کوئی بات اس کانفرنس میں شرکاء کو تنگ کر رہی تھی تو وہ ایک ہی وقت میں بہت اہم نشستوں کا انعقاد تھا اور فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ کس طرف کا رخ کیا جائے،جیسے زیتون بانو کی نشست میں شرکت کی وجہ سے مستنصر حسین تارڑ کی نشست کو ’’ مس‘‘ کرنا تھا حالانکہ انہوں نے خود مجھ سے کہا تھا کہ میری خواہش ہے کہ میں زیتون بانو کے حوالے سے بات کروں البتہ اس کانفرنس کے وہ شرکا نسبتاً آرام سے تھے جو اپنی سہولت کے مطابق وقت گزار رہے تھے اور کم کم نشستوں میں نظر آئے کچھ تو اسلام آباد کے اپنے دوستوں کیساتھ کانفرنس سے دور بسر کرتے رہے یا یہاں وہاں سیلفیاں بناتے اور فوٹو سیشن کرتے رہے جن دوستوں کی یہ پہلی پہلی کانفرنس تھی انکی ایکسائٹمنٹ کے تو ایک معنی بنتے تھے لیکن کچھ سینئر دوستوں کایہ رویہ سمجھ سے بالاتر تھا خیر یہ ایک ادبی میلہ تھا اور میلہ میں تو ہر طرح کے لوگ شریک ہوتے ہیں بات شہر اقتدار اسلام آباد اور اس کے رویوں کی ہو رہی تھی بیچ میں کانفرنس بھی آن ٹپکی جسکی مسلسل مصروفیات نے اسلام آباد کے مہرباں دوستوں سے ملنے سے روکے رکھاحالانہ نیشنل بک فاؤنڈیشن کے اسی نوعیت کے کتب میلوں میں شریک ہونے اور چار پانچ مصروف شب و روز گزارنے کے باوجود ایک بھر پور شام دل کے بہت قریب دوست میجر عامر کی معیت میں گزرتی ہے؂

جہاں بہت سے دوستوں سے ملاقاتیں ہو جاتی ہیں لیکن اب کے یہ موقع نہ ملا اور پھر جب کانفرنس کے آخری پروگرام ’’ صوفی نائٹ ‘‘کے اختتام پر نیشنل لائبریری کے گرم گرم ہال سے نصف شب کے آس پاس باہر نکلا تو اسلام آباد کی یخ بستہ ہواؤں نے ایسا استقبال کیا کہ لمحوں میں مغلوب کر دیا، کھانسی اچانک شروع ہوئی اور ایسی کہ وہاں سے عشائیہ کے لئے ہوٹل جانے کی ہمت بھی نہ ہوئی، وہ تو بھلا ہو زرعی یونیورسٹی کے عزیزی ڈاکٹر حفیظ کے جنہوں نے اپنی گاڑی میں بٹھا کر رات کے آخری پہر پشاور پہنچا دیااسلام آباد کے کٹھور شہر کی بے لگام ہوا نے جانے ایسا کیا کر دیا کہ آج دو ہفتے سے زیادہ ہونے کو آئے مگر کمرے سے باہر نکلنے کا بھی یارا نہیں ہے دوا کیساتھ ساتھ ڈاکٹر انتخاب عالم کی ڈھارس بھی بہت کام آئی اور یہ چند اکھڑی اکھڑی سطریں لکھ پایا اس دوران کھانسی سے کہیں زیادہ ڈپریشن کا شکار رہا اور نہ چاہتے ہوئے بھی بار ہا اپنا شعر پڑھنا پڑا
میری کہانی میں اب کچھ نہیں بچا !ناصر
اکھڑتی سانس ہے او ر چارہ گر کی بے چینی