بریکنگ نیوز
Home / کالم / امریکہ نئے جھانسے میں نہ آئیں

امریکہ نئے جھانسے میں نہ آئیں

2017ء کا سال امریکی قیادت میں تبدیلی کا سال ہے جس کے خدوخال وائٹ ہاؤس میں طے کئے جا رہے ہیں اب تک نئے امریکی صدر ٹرمپ کے مختلف امور پر جو خیالات منظر عام پر آئے ہیں ان سے ہر ذی شعور انسان کے ذہن میں کئی سوالات ابھرے ہیں جن کے جوابات کا وہ متلاشی ہے کیا امریکہ یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اپنے تعلقات میں توازن قائم کر سکے گا ؟کیا چین کو وہ اپنے ساتھ لیکر چلے گا یا اس کیخلاف وہ اس قسم کی جارحانہ خارجہ پالیسی مرتب کریگا کہ جو سابق امریکی صدر ریگن نے سوویت یونین کیخلاف مرتب کی تھی اور جو پھر جا کر سوویت یونین کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کا باعث بنی بڑے عرصے سے اس ملک میں عام تاثر یہ تھا کہ ری پبلکن پارٹی کے صدر ڈیموکریٹک پارٹی کے صدرکے مقابلے میں پاکستان کیلئے اپنے دل میں نرم گوشہ رکھتے ہیں لیکن حالات وواقعات اس مفروضے کو درست ثابت نہیں کرتے پاکستان نے 1950ء اور 1970ء کے درمیانی عرصے میں امریکہ کی ہر معاملے میں اندھی تقلید کی نہ صرف اس کے کہنے پر ہم بغداد پیکٹ‘سیٹو اور سینٹو جیسے معاہدوں میں شامل ہوئے کہ جو سوویت یونین کش تھے بلکہ ہم نے امریکہ کی خوشنودگی حاصل کرنے کیلئے ایسے ایسے غلط کام کئے کہ جنکی وجہ سے ہم نے اپنے ہمسایہ ملک کی خواہ مخواہ میں دشمنی مول لی اس دوران پاکستان اپنی تاریخ کے ایک سنگین سانحہ سے دو چار ہوااور وہ تھا مشرقی پاکستان میں سیاسی انتشار کہ جس کا پورا پورا فائدہ اٹھا کر بھارت اور سوویت یونین دونوں نے آپس میں مل کر پاکستان کے دو ٹکڑے کرائے اس کڑے وقت میں امریکہ اگر چاہتا تو وہ مداخلت کرکے پاکستان کو تقسیم ہونے سے بچا سکتا تھا لیکن وہ خاموش تماشائی بنا بیٹھا رہا دوست ہو تو سوویت یونین جیسا کہ جس نے 1961ء کے اوائل میں کیوبا کی کھلم کھلا معاونت کرکے اسے امریکہ کی ممکنہ یلغار سے بچا لیا تھا۔

آج کل ٹرمپ آئندہ چار سال کیلئے امریکہ کی خارجہ پالیسی کے روڈ میپ کو آخری شکل دے رہا ہے جسطرح کا وہ انسان ہے اور جس طرح کی اسکی سوچ ہے اس سے بالکل بعید نہیں کہ اس کی پالیسیاں مسلم کش ہوں ‘ دنیا میں جہاں جہاں یہودیوں کے مفادات مسلمانوں کے مفادات سے ٹکرائیں گے ٹرمپ امریکہ کا وزن یہودیوں کے پلڑے میں ڈالے گا تب ہی تو سابق امریکی صدر بارک اوباما نے اسے بروقت خبردار کیا ہے کہ وہ اس حقیقت کو تسلیم کرے کہ مشرق وسطیٰ میں صرف یہودیوں کی ہی ریاست نہیں وہاں فلسطینی مسلمانوں کی بھی ایک ریاست ہے لہٰذا وہ صرف یہودی ریاست کا ڈھنڈورا پیٹنا چھوڑ دے ٹرمپ کے شرارتی اور شر انگیز ذہن کا آپ اس بات سے اندازہ لگاسکتے ہیں کہ اس نے چین کیخلاف تائیوان کو انگشت دی ہے کہ جس سے چین کیساتھ لا محالہ امریکہ کے تعلقات خراب ہو سکتے ہیں بندر کے ہاتھ میں اگر چاقو آ جائے تو خدشہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو بھی زخمی کر سکتا ہے اور دوسروں کیلئے بھی خطر ے کا باعث بن سکتا ہے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ٹرمپ کی کوشش ہو گی کہ وہ پاکستان کو اپنی ڈگڈگی پر نچائے اس کیلئے وہ ہمارے حکمرانوں کی خوشامد بھی کرے گا اور ان پر دھونس بھی ڈالے گا عقلمند انسان بار بار ٹھوکر نہیں کھایا کرتا امریکہ کے بہلاوے اور دھمکیوں کا ہمارے ماضی کے حکمرانوں نے سچی بات یہ ہے کبھی بھی ڈٹ کر مقابلہ نہیں کیا۔

اس وقت ہم چین کیساتھ سی پیک کے عظیم الشان ترقیاتی منصوبے میں اس کا بھرپور ساتھ دے رہے ہیں جو کام ہم نے شروع کیا ہے اس کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانا ہو گا امریکہ ہر وہ حربہ استعمال کرے گا کہ سی پیک میں کسی نہ کسی جگہ رخنہ پڑے پاک چین دوستی اس کیلئے سوہان روح ہے قوم موجودہ حکمرانوں سے بھی توقع رکھتی ہے اور آئندہ آنیوالے وزیراعظم سے بھی کہ وہ امریکہ کے کسی نئے جھانسے میں نہ آئیں سی پیک کو کسی قیمت پر بھی ماند نہ ہونے دیں اور اپنی تمام تر توجہ اس منصوبے کے تحت مختلف پراجیکٹس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے پر مبذول رکھیں ۔