بریکنگ نیوز
Home / کالم / افغان امن عمل

افغان امن عمل

اسلام آباد میں متعین افغان سفیر عمر زاخیل وال کی اکوڑہ خٹک میں جمعیت العلماء اسلام(س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق سے ملاقات اور اس ملاقات کے دوران افغان صدر اشرف غنی کی مولاناسمیع الحق کیساتھ ٹیلی فون پر ہونیوالی گفتگو اور مولا نا سمیع الحق کو افغان مفاہمتی عمل میں کردار ادا کرنیکی خواہش کے اظہار کو افغان پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ مولانا سمیع الحق نہ صرف طالبان دور حکومت میں طالبان پر گہرے اثرو رسوخ کا برملا اظہار کرتے رہے ہیں بلکہ بعد کے ادوار میں بھی وہ گاہے بگاہے یہ تاثر دیتے رہے ہیں کہ طالبان انکی دل وجان سے قدر کرتے ہیں افغان صدر نے ایک ایسے وقت میں پاکستان کے ایک نان سٹیٹ ایکٹر سے براہ راست رابطہ کرتے ہوئے افغان امن عمل میں طالبان پر اپنا اثرورسوخ استعمال کرنیکی درخواست کی ہے جب ایک جانب پاک افغان تعلقات انتہائی سرد مہری کی آخری حدوں کو چھو رہے ہیں اور دوسری جانب پاک افغان تعلقات میں سرکاری سطح پر سخت ناراضگی اور تلخی پائی جاتی ہے افغان حکمرانوں کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ امریکہ اور اسکے اتحادیوں نے یہاں ہمیشہ نہیں رہنا اور پاکستان اور افغانستان ہمسائیگی اور اسلامی اخوت وبھائی چارے کے جس اٹوٹ رشتے میں بندھے ہوئے ہیں اس سے انہیں کوئی بھی جدا نہیں کر سکتا پاکستان نے چالیس لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کو اپنے ہاں پناہ دیکر اور سوویت یونین اور بھارت کی تمام ترمخالفت اور مشکلات حتیٰ کہ پاکستان کی بقاء کو داؤ پر لگانے کے باوجود افغان عوام کیساتھ اخوت اور بھائی چارے کی جو مثال قائم کی تھی؂

اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ افغان قیادت پاکستان کی جانب دوستی اور مروت کا ہاتھ بڑھاتی لیکن اسکے برعکس افغان حکومت کی جانب سے پاکستان کیساتھ جو معاندانہ رویہ اپنایا گیا ہے اسکا پاکستان سے زیادہ نقصان خود افغانستان کو مختلف صورتوں میں اٹھانا پڑ رہا ہے ۔ طالبان دور حکومت اس بات پر گواہ ہے کہ اس مختصر دورانئے میں پاک افغان تعلقات اعتماد اور تعاون کی انتہائی بلندیوں کو چھو رہے تھے اب بھی اگر افغان حکمران سنجیدگی سے خطے میں امن وامان اور ترقی کے خواہاں ہیں تو اس کیلئے انہیں نہ صرف طالبان کیخلاف تشدد اور طاقت کے استعمال کے آپشن اور پڑوسی ممالک کیخلاف پروپیگنڈے کی عادت کو خیرباد کہنا ہوگا بلکہ اپنے پڑوسی ممالک چین ‘پاکستان ‘ایران اور روس کیساتھ اپنے اندرونی مسائل اور بالخصوص امن وامان کی صورتحال پر قابو پانے کیلئے مشترکہ مکینزم کی تشکیل پر توجہ دینا ہوگی یہ بات محتاج بیان نہیں ہے کہ دنیا کی تاریخ میں لڑی جانیوالی تمام چھوٹی بڑی جنگوں کا اختتام اور صلح وآشتی کا آغاز جنگی میدانوں کی بجائے مذاکراتی میزوں پر ہوتا آیا ہے طاقت کا استعمال ایک خاص حد تک اور ایک خاص مقصد کے حصول تک تو قابل فہم ہے لیکن اسے مستقلاً بطورریاستی پالیسی اپنانے سے کبھی بھی کسی خیر کے برآمد ہونیکی توقع نہیں کی جا سکتی لہٰذا افغان قیادت کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اگر وہ خطے میں پائیدار امن کی خواہاں ہے تو اسے طالبان سمیت تمام مزاحمتی قوتوں کو مذاکرات کی میز پر لانا ہوگا؂

بصورت دیگر بد امنی کا یہ زخم ناسور بن کر افغانستان سمیت پورے خطے کو نیست ونابود کردیگا جو بدقسمتی سے نہ صرف بعض قوتوں کا منصوبہ ہے بلکہ وہ قوتیں اس منصوبے پر عملاً کام بھی کر رہی ہیںیہ حقیقت کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ہے کہ پاکستان افغانستان کا حقیقی بہی خواہ ہے اور اسکی جانب سے اب تک افغانستان میں قیام امن کیلئے جتنی بھی کوششیں کی گئی ہیں انکا سوائے اسکے اور کوئی مقصدنہیں کہ افغانستان کو بد امنی سے نجات ملے اور یہاں پچھلے چالیس سال سے جاری جنگ وجدل کا خاتمہ ہو جسکا افغانستان کے بعد سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو ہوگااس پس منظر کے تناظر میں ڈاکٹر اشرف غنی اگر افغانستان میں قیام امن کے ضمن میں طالبان سے مذاکرات میں واقعی سنجیدہ ہیں تو انہیں ناان سٹیٹ ایکٹرز کی بجائے پاکستان کے حکمرانوں اور ریاستی اداروں سے بغیر کسی شک اور تردد کے بھر پور اعتماد کیساتھ بات کرنی چاہئے پاکستان کی قیادت انہیں ہرگز مایوس نہیں کریگی ۔