بریکنگ نیوز
Home / کالم / پیشہ ورانہ تیاریاں اورچہلم!

پیشہ ورانہ تیاریاں اورچہلم!

پاکستان کیلئے داخلی اور خارجی محاذوں پر چیلنجز کی کمی نہیں‘ جن سے نمٹنے کیلئے وسیع پیمانے پر حکمت عملیوں میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ہمسایہ ممالک بالخصوص افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان اپنا کردار ادا کرے اس تناظر میں پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا حالیہ بیان قابل توجہ ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ انسداد دہشت گردی کی کاروائیوں نے پاک فوج کو آہنی دیوار بنا دیا ہے جو اس کی آپریشنل تیاری کے سلسلہ میں انتہائی اہم اضافہ ہے۔ انہوں نے قبائلی علاقہ جات اور خیبر پختونخوا میں جاری کاروائیوں میں فوجیوں کی شرکت کو سراہتے ہوئے خود کو روایتی جنگ کے چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے تیار رکھنے پر فوجی جوانوں کے کردار کی تعریف کی ہے بلاشک و شبہ ہماری افواج اپنی مشاقی‘استعداد کار‘خداداد صلاحیتوں اور پروفیشنل ازم پر کاربند ہونے کے ناطے دنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتی ہیں اور وہ ملکی سلامتی کے تقاضے نبھانے اور کسی بھی اندرونی خلفشار پر قابو پانے کے معاملہ میں ہمیشہ قوم کے اعتماد پر پورا اتری ہیں یہ افواج پاکستان ہی کا خاصہ ہے کہ وطن عزیز کے روایتی دشمن بھارت کی عددی برتری اور اسکے پاس جدید و روایتی جنگی سازوسامان کی بہتات کے باوجود ہماری افواج نے ملک کی سلامتی کیخلاف اسکے جارحانہ عزائم ہمیشہ خاک میں ملائے اور اسکی جانب سے جنگ مسلط کرنے پر اسے ناکوں چنے چبوائے قیام پاکستان کے بعد انگریز اور ہندو کی سازش کے تحت انگریز کمانڈر انچیف کی قیادت میں پاکستان کو ٹکڑوں میں بٹی افواج دی گئیں جن کے پاس جنگی حربی سامان بھی نہ ہونے کے برابر تھا مگر قائداعظم نے قائدانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر افواج پاکستان سمیت تمام قومی اداروں کو نظم و ضبط اور پروفیشنل ازم کا پابند کیا اگر 1948ء میں بھارتی فوج کے کشمیر میں داخل ہونے کے وقت پاک فوج کی کمان انگریز جنرل ڈگلس گریسی کے ہاتھوں میں نہ ہوتی‘ جنہوں نے بھارتی فوج کو کشمیر سے نکالنے کیلئے پاک فوج کشمیر بھجوانے سے متعلق قائداعظم کے احکام کی تعمیل سے انکار کردیا تھا‘ تو بے سروسامانی کے باوجود پاک فوج بھارت کے کشمیر پر تسلط جمانے کے عزائم ناکام بنادیتی اور بھارت کو کشمیر متنازعہ بنانے کی جرات ہی نہ ہوتی انہی افواج پاکستان نے بھارت کی جانب سے 1965ء میں جنگ مسلط کئے جانے پر اسکی فوجوں کے دانٹ کھٹے کئے اور ہماری افواج نے جرات و بہادری کی ایسی مثالیں قائم کیں جو آج دنیا میں ضرب المثل کے طور پر معروف ہیں۔

1971ء کی جنگ میں پاک فوج کو مکتی باہنی کی شکل میں بھارتی گھناؤنی سازشوں کا سامنا تھا جبکہ پاک فوج کے جوانان و افسران بری اور بحری راستے سے کٹے ہوئے ہزار میل دور مشرقی پاکستان میں دشمن سے برسرپیکار تھے چنانچہ سقوط ڈھاکہ کا سانحہ ہوا اور ہمارے نوے ہزار جوان و افسران دشمن نے جنگی قیدی بنالئے جو بڑی آزمائش کا مرحلہ تھا مگر اسوقت کی سیاسی قیادت کی فہم و بصیرت سے پاک فوج پر شکست خوردگی کے اثرات زائل کئے گئے اور دشمن کے ہاتھوں دولخت ہونیوالے پاکستان کے تحفظ و بقا کیلئے ملک کو ایٹمی قوت سے ہمکنار کرنے کا بیڑہ اٹھایا گیا جبکہ بھٹو مرحوم نے بچے کھچے پاکستان کے وزیراعظم کی حیثیت سے اپنی بہترین انتظامی صلاحیتوں کے بل بوتے پر بھارتی وزیراعظم اندراگاندھی سے شملہ معاہدہ کرکے نہ صرف نوے ہزار جنگی قیدیوں کو آزاد کرایا بلکہ بھارت کے قبضہ میں جانے والے پاکستان کا ہزاروں ایکڑ کا علاقہ بھی واگزار کرایا جس سے افواج پاکستان کا کھویا ہوا مورال بھی بلند ہوا‘ اور ان میں دفاع وطن کے تقاضے نبھانے کا ایک نیا جذبہ بھی عود کر آیا۔ افواج پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور دفاع وطن کیلئے جانیں نچھاور کرنیوالے بے پایاں جذبے نے ہی اِنہیں دنیا کی افواج میں بلند ترین مقام پر سرفراز کیا ہے۔

اس خطہ میں دہشتگردی کی جنگ میں پاکستان کے فرنٹ لائن اتحادی کے کردار کی ادائیگی کے حوالے سے امریکہ اور دوسرے نیٹو ممالک نے افواج پاکستان کی حربی دفاعی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے ان پر مکمل بھروسہ کیا اور آج بھی اس جنگ میں ہماری افواج کی ضرورت و اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اسکے کردار کی ادائیگی کا تقاضا کیا جاتا ہے جو خالص پروفیشنل ہونے کے ناطے ہماری افواج کا طرۂ امتیاز ہے افواج پاکستان کی انہی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے باعث اقوام متحدہ کی امن فورس میں عددی شمولیت سب سے زیادہ ہے اور دنیا بھر میں افواج پاکستان کا کردار تسلیم شدہ ہے چنانچہ اقوام متحدہ کے پیس میکنگ مشن کے حوالے سے دنیا کے مشکل ترین ممالک کانگو‘ صومالیہ‘ بوسنیا‘ ہرزیگووینا وغیرہ میں افواج پاکستان کے ارکان کو ہی بھجوایا جاتا رہا ہے جو وہاں بدامنی پر کنٹرول کرنے کی ان کی صلاحیتوں پر عالمی اعتماد کا مظہر ہے افواج پاکستان کی اس پیشہ ورانہ مہارت سے دنیا کے مختلف ممالک بشمول عرب ممالک نے اپنی افواج کی تربیت کیلئے بھی معاونت حاصل کی جبکہ حجاز مقدس میں خانہ کعبہ پر ہونیوالی بیرونی جارحیت کو بھی افواج پاکستان نے ہی حرم شریف کی حفاظت کرکے ناکام بنایا تھا ہمیں بلاشبہ اپنی افواج پر فخر ہے جس نے دہشتگردی کی جنگ میں دفاع وطن کے تقاضے نبھاتے ہوئے اور سفاک دہشتگردوں کے عزائم خاک میں ملاتے ہوئے اپنی جانوں کے نذرانے بھی پیش کئے ہیں۔ دہشتگردوں کیخلاف سابقہ دور کے راہ راست اور راہ نجات آپریشنز کے بعد آپریشن ضرب عضب کی صورت میں دہشت گردوں سے برسرپیکار ہیں چنانچہ انکے پیشہ ورانہ کردار کی بدولت ہی دہشتگردوں کی کمر ٹوٹی ہے اور ملک میں امن و امان کی بحالی کا راستہ ہموار ہورہا ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: سعدیہ افضال۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)