بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / خیبرپختونخوا میں اہم فیصلے

خیبرپختونخوا میں اہم فیصلے


خیبرپختونخوا اسمبلی اور صوبائی کابینہ نے ایک ہی روز متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دی، اسمبلی نے احتساب کمیشن ترمیمی بل سمیت وزیراعلیٰ،وزراء مشیروں اور معاونین خصوصی کیساتھ پارلیمانی سیکرٹریوں، سپیکر، ڈپٹی سپیکر اور اراکین کی تنخواہوں کیساتھ دیگر الاؤنسز میں اضافے کا بل منظور کیا، اس کا اطلاق یکم جولائی 2016ء سے ہوگا، اسمبلی سے پولیس بل کی منظوری کے نتیجے میں آئی جی پی کو آپریشنل مالی اور انتظامی اختیارات حاصل ہو گئے ہیں، اس کے ساتھ پولیس میں 5فیصد بھرتی پبلک سروس کمیشن جبکہ 95فیصد سلیکشن بورڈ کے ذریعے ہوگی، صوبے میں امن وامان کے حوالے سے اختیارات دوبارہ ڈپٹی کمشنروں کو سونپ دیئے گئے ہیں، احتساب کمیشن ترمیمی بل کی منظوری کیساتھ کسی بھی ملزم کی گرفتاری احتساب عدالت کے حکم سے مشروط ہوگئی ہے، وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے اسمبلی اجلاس سے خطاب میں اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ جب نظام اور ادارے خودمختارہونگے تو نتائج سامنے آئیں گے، وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمارا کام قانون سازی اور قوانین پر عمل درآمد کرانا ہے، وطن عزیز میں سرکاری دفاتر کے نظام کو بے جا مداخلت خلاف میرٹ تقرریوں کے نتیجے میں آنے والی نااہل افرادی قوت اور وقت کے ساتھ ہم آہنگ سہولیات کے فقدان نے بری طرح متاثر کیا ہے، اداروں کے آپریشن میں باہمی رابطوں کے فقدان نے صورتحال کو اس سطح پر پہنچا دیا ہے کہ عام نوعیت کے معاملات کو یکسو ہونے میں طویل وقت لگ جاتا ہے، بعض ادارے محض اس وجہ سے کارکردگی نہیں دکھاپاتے کہ ان کی ورکنگ کیلئے قواعد وضوابط ہی نہیں، اس طرح کی صورتحال کا بھی گزشتہ دنوں وزیراعلیٰ نوٹس لے چکے ہیں، قانون سازی، انتظامی فیصلوں اور بہتری کے اقدامات سے متعلق حکومتی خلوص سے انکار نہیں کیاجاسکتا ۔

تاہم ضرورت اداروں کو عملی طورپر اس طرح خودمختار بنانے کی ہے کہ ان کے پاس کارکردگی میں مداخلت کے باعث کمزوری سے متعلق کوئی عذر باقی نہ بچے، جب تک ہمارے ادارے فعال اور خودمختار نہ ہوں گے عوامی ریلیف کیلئے حکومت کے اقدامات ثمر آور ہوسکتے ہیں، نہ ہی بہتری کیلئے بنائے گئے قوانین پر ان کی روح کے مطابق عمل درآمد ممکن ہے، اداروں کی خودمختاری کیساتھ چیک اینڈ بیلنس کا ایسا نظام بھی ضروری ہے جو کسی کو خودسر نہ ہونے دے، خصوصاً پولیس کے کیس میں عام شہری کو درپیش مشکلات کا احساس ضرور کیاجائے، جو خوف کے باعث اس فورس سے متعلق اپنی شکایت تک نہیں کرسکتا، جنرل (ر)مشرف کے دور میں تختہ مشق بننے والے نظام میں ڈپٹی کمشنروں کو ڈی سی اوبناکر اختیارات کے توازن کو متاثر کیاگیا تھا، صوبے میں ڈپٹی کمشنروں کو ایک بار پھر امن عامہ کے حوالے سے اختیارات دے دیئے گئے ہیں، کسی بھی شہر میں ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن جتنی مستحکم ہوگی وہاں لوگوں کو سیکورٹی کیساتھ ریلیف مل سکتی ہے، ڈسٹرکٹ لیول پر عوامی ریلیف کیلئے ایک ضرورت مجسٹریسی نظام کی بحالی کی بھی ہے، ضلع کی سطح پر انتظامیہ کے ذمے مارکیٹ کنٹرول کی اہم ذمہ داری بھی ہوتی ہے جس کو مجسٹریسی نظام کے ذریعے نبھایا جاتا تھا، عوام کی مارکیٹ میں نرخوں اور معیار کے حوالے سے اب بھی ریلیف اسی سے جڑی ہے، صوبائی حکومت کی جانب سے تمام شعبوں میں اصلاحات اور بہتری کے اقدامات قابل اطمینان ہی ہیں تاہم عوامی مسائل کے حل کیلئے بلدیاتی نظام کے ساتھ مجسٹریسی سسٹم کی بحالی اور اس کے نیٹ ورک میں توسیع خیبرپختونخوا کو رول ماڈل بناسکتی ہے۔