بریکنگ نیوز
Home / سائنس و ٹیکنالوجی / دوائیں پہنچانے کیلیے ’’گتے‘‘ کا ڈرون تیار

دوائیں پہنچانے کیلیے ’’گتے‘‘ کا ڈرون تیار


ورجینیا۔ پنٹاگون کے دفاعی تحقیقی ادارے ’’ڈارپا‘‘ نے ’’اپسرا‘‘ کے نام سے گتے سے بنا ایسا ڈرون تیار کیا ہے جو ایک کلو گرام وزن اٹھا کر 88 کلومیٹر دور تک پہنچاسکتا ہے۔

روایتی ڈرونز کا مقصد جاسوسی، نگرانی اور دشمن پر حملے کرنا ہوتا ہے لیکن یہ ہلکا پھلکا ڈرون بطورِ خاص دواؤں، خون کی بوتلوں اور دوسرے کم وزن طبی ساز و سامان کو مطلوبہ جگہ تک پہنچانے کے لیے بنایا گیا ہے۔

دلچسپی کی بات تو یہ ہے کہ اس میں کسی قسم کی کوئی دھات استعمال نہیں کی گئی ہے بلکہ اس کا ہر حصہ صرف گتے یا ایسے مادوں پر مشتمل ہے جنہیں ’’بایو ڈی گریڈیبل‘‘ (حیاتی تنزل پذیر) کہا جاتا ہے؛ یعنی کام مکمل ہوجانے کے بعد اسے پرزے پرزے کرکے کچرے میں پھینکا جاسکتا ہے اور یہ جلد ہی گل کر مٹی میں تحلیل ہوجاتا ہے۔

اس کی تیاری میں ڈارپا کے دو پرانے منصوبوں ’’اِکارس‘‘ (ICARUS) اور وی اے پی آر (VAPR) سے استفادہ کیا گیا ہے جب کہ ’’ادرلیب‘‘ نامی ادارے کی شراکت سے حتمی شکل دی گئی ہے۔ مکمل طور پر گتے سے بنے اس ڈرون کا پورا نام ’’ایریئل پلیٹ فارم سپورٹنگ آٹونومس ری سپلائی ایکشنز‘‘ یا مختصراً ’’اپسرا‘‘ (APSARA) رکھا گیا ہے۔