بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پاکستان نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے،ترجمان دفتر خارجہ

پاکستان نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے،ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آ باد۔ ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے کہا ہے کہ پاکستان نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے،امریکہ کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون موجود ہے، افغانستان میں امن و امان کی ابتر صورتحال کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہو تی ہے ،افغانستان کے اندرونی حالات وہاں بد امنی کے ذمہ دار ہیں،پاکستان افغانستان میں امن و استحکام کے لیے پرعزم ہے ، افغان قیادت کو اپنا گھر درست کرنا ہوگا،جنگ افغانستان کے مسئلہ کا حل نہیں ہے ،پندرہ سال کی کوششوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا،کئی ممالک مختلف اشکال میں افغانستان میں امن و استحکام کے لیے کوشش کر رہے ہیں،پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر بنیادی تنازعہ ہے،عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خراب صورتحال کا نوٹس لے۔

، وزیر اعظم کے بغیر کسی دعوت نامے کے ورلڈ اکنامک فورم جانے کی خبر کی تردید کرتے ہیں۔ جمعرات کو ہفتہ وار میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے کہاکہ پارہ چنار بم دھماکے کی مزمت اور شہدا کے ورثا کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہیں ۔ پاراچنار میں ہونے والے دھماکے میں 26 معصوم انسانوں کی جانوں کے ضیاع کی مذمت کرتے ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں موجودہ صورت حال بدتر ہو گئی ہے۔عالمی برادی کو مقبوضہ کشمیر میں جاری جارحیت کا نوٹس لینا چاہیے ۔25 جنوری ہمیں ہندواڑا مقبوضہ کشمیر کی یاد دلاتا ہے ۔جس میں 25نہتے کشمیریوں کو شہید کیا گیا تھا۔کشمیریوں کے انسانی و بنیادی حقوق سے بھارت مسلسل انکاری ہے ۔پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر بنیادی تنازعہ ہے۔ جو کہ خطے کے امن کو خطرے میں ڈال رہا ہے ۔بین الاقوامی برادری مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کا نوٹس لے ۔دہشتگردی کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے بارے میں ایک سوال پر ترجمان نے کہا کہ دہشت گردی کا مذہب ، ذات ، رنگ ونسل سے کوئی تعلق نہیں۔یہ ایک عالمی مسئلہ ہے اور اسے نمٹنے کے لئے عالمی سطح پر تعاون درکار ہے۔برطانوی ہاوس آف کامنز میں مقبوضہ کشمیر پر طویل بحث ہوئی ۔ترکی میں مغوی پاکستانیوں کی رہائی کی کوششوں پر شکرگزار ہیں۔پاکستان کا کسی بھی دوسرے ملک کی نسبت انسداد دہشت گردی کا بہتر ٹریک ریکارڈ ہے۔افغانستان میں امن و امان کی ابتر صورتحال کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہو تی ہے ۔افغانستان کے اندرونی حالات وہاں بد امنی کے ذمہ دار ہیں۔

پاکستان افغانستان میں امن و استحکام کے لیے پرعزم ہے ۔پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کے لیے پہلے بھی کردار ادا کیا اور آئندہ بھی کرے گا۔گزشتہ 15 برس سے افغانستان میں فوجی ایکشن کا نتیجہ نہیں نکلا ۔بہت سے ممالک مختلف اشکال میں افغانستان میں امن و استحکام کے لیے کوشیش کر رہے ہیں ۔افغانستان میں امن خطے کے لیے ضروری ہے ۔ افغانستان میں دہشتگرد عناصر موجود ہیں۔ افغان قیادت کو اپنا گھر درست کرنا ہوگا۔ نشاندہی کے باوجود کاروائی نہیں کی گئی۔ الزام تراشی سے اپنی ناکامیاں چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔پاکستان افغانستان میں قیام امن کے لیے سیاسی طور پر ممکن مذکرات کو حل سمجھتا ہے۔جنگ مسائل کا حل نہیں ہے پندرہ سال کی کوششوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ سب سے زیادہ لڑی ہے۔ افغانستان میں ہونے والی دہشتگردی کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔وزیر اعظم نے ہدایت کی ہے کہ افغان مہاجرین کو باعزت طریقہ سے واپس روانہ کیا جا ئے گا ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم کی ڈیووس میں خطاب نہ کرنے کے حوالے سے خبر کی تردید آ چکی ہے۔ عالمی اقتصادی فورم کا خط بھی دفتر خارجہ کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔

اخبار میں جو کہا گیا کہ وزیر اعظم بغیر کسی دعوت نامے کے ورلڈ اکنامک فورم گئے اس خبر کی تردید کرتے ہیں ۔وزیر اعظم کو بھیجا جانے والا دعوت نامہ دفتر خارجہ ویب سائٹ پہ موجود ہے۔ سعودی عرب میں دہشتگردی کے الزام میں گرفتارپاکستانیوں کے معاملے سے آگاہ ہیں ۔گرفتار پاکستانیوں کے حوالے سے سعودی حکام کیساتھ رابطے میں ہیں۔پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان انسداد دہشتگردی کے حوالے میکنزم موجود ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پاکستان میں بنگلہ دیش کے سفارتی عملے کی سیکیورٹی بڑھا دی گئی ۔ سیکیورٹی کراچی میں بنگلہ دیش میں ڈپٹی ہائی کمشنر کے کمپاؤنڈ میں کریکر کی موجودگی کی اطلاع پر بڑہائی گئی۔ یہ ثابت نہیں کیا جا سکا کہ کریکر پھینکا گیا تھا یا وہیں موجود تھا۔اْڑی حملے کے الزام میں گرفتار ہونے مظفر آباد کے بچے بے گناہ ہیں ۔ اس حوالے سے بھارتی میڈیا خود کہہ چکا ہے کہ بچے کم عمر اور بے گناہ ہیں ۔دہلی میں موجود پاکستانی ہائی کمیشن نے بچوں سے رابطہ کیا ہے۔اڑی حملہ کے حوالے سے بھارت میں دو بچوں کو کنٹرول لائن سے مبینہ طور پر حراست میں لیا گیا۔

29 نومبر 2016 کوپہلی مرتبہ ان بچوں تک رسائی مانگی گئی۔ان بچوں کی ان کے خاندان کے افراد سے بھی بات چیت کرائی گئی ۔ان بچوں کے معاملہ پر ہمارا ہائی کمیشن مسلسل بھارت سے رابطہ میں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ گلگت بلتستان میں 5سے 6 دہشت گرد گرفتار کیے گئے جو کہ بھارتی انٹلی جنس را کے لیے کام کر رہے تھے ۔ان دہشت گردوں کا کام سی پیک کو سبوتازکرنا تھا ۔ دہشتگرد بھارتی خفیہ ایجنسی را کے لیے کام کرتے تھے۔ کلبھوشن یادیو نے تفتیش کے دوران کافی معلومات فراہم کیں۔ ان معلومات کی بناپرڈوزیئر تیار کیا گیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہاکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا وزیر اعظم سے رابطہ ہوا ہے۔ہم نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہیں ۔امریکی کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون موجود ہے ۔تزویراتی مزاکرات میں مختلف شعبوں پر بات چیت ہوتی ہے۔