بریکنگ نیوز
Home / کالم / سیاسی فہم وفراست

سیاسی فہم وفراست


دنیا کے ہرملک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مفادات کو پیش نظر رکھے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک کی داخلہ سکیورٹی کو مضبوط کرنے کیلئے اہم اور لازمی اقدام قرار دیتے ہوئے مزید دو ایگزیکٹو آرڈرپر دستخط کئے جنکے مطابق امریکہ اور میکسیکو کی سرحد کے ساتھ دیوار تعمیر کی جائیگی جبکہ دوسرے ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے ان شہروں کے فنڈز میں کمی کا حکم دیا گیا ہے جن میں غیرقانونی طور پر رہائش پذیر مہاجرین کیخلاف سخت کاروائی اور ان کی گرفتاری نہیں کی جائیگی امریکی صدر نے واشنگٹن میں ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی میں محکمے کے نئے سیکرٹری ریٹائر جنرل جان کیلی کی حلف برداری کی تقریب کے موقع پر مذکورہ ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کئے اسکے علاوہ ٹرمپ انتظامیہ سال دوہزار چودہ میں اپنی معیاد مکمل کرنیوالے محفوظ کمیونٹیز پروگرام کی بحالی کا ارادہ بھی رکھتی ہے سابق صدر بارک اوباما اور اس سے قبل بش کے دور حکومت میں جاری رہنے والا مذکورہ پروگرام‘ مقامی اور ریاستی حکومتوں کر فنگر پرنٹس شیئر کرنے اور دیگر فیڈرل حکام کو غیر قانونی مہاجرین کی شناخت کیلئے ڈیٹا ترتیب دینے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ پروگرام کو کئی مرتبہ تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے جیسا کہ اس کے ذریعے کبھی بھی کسی امریکی شہری کو غلطی سے گرفتار کیا جاسکتا ہے تاہم حال ہی میں نافذ کئے گئے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت دیگر ممالک پر بھی دباؤ ڈالا جائے گا کہ وہ ایسے افراد کی وطن واپسی قبول کریں جنکے پاس درست امریکی ویزا نہیں ہے‘ اسکے علاوہ یہ امیگریشن اور کسٹم حکام کو اجازت فراہم کریگا کہ امریکہ سے ایسے افراد کو نکالنے کیلئے جارہانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے انکی گرفتاری عمل میں لائی جائے اسکے علاوہ نئے امریکی صدر ایک ایسے ایگزیکٹو آرڈر پر بھی دستخط کرنیوالے ہیں ۔

جس کے ذریعے سات مسلم ممالک پر ویزا کی پابندی لگادی جائیگی ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے میڈیا کو بریفنگ کے دوران ان ممالک کی نشاندہی بھی کی ہے‘ جن میں عراق‘ ایران‘ لیبیا‘ صومالیہ‘ سوڈان‘ شام اور یمن شامل ہیں۔ سابق صدر مملکت اور پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے صدر آصف علی زرداری نے نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا ہے کہ ’’دہشتگردی سے نمٹنے کا جو موقع بارک اوباما نے ضائع کر دیا‘ یہ موقع اب انہیں حاصل کرنا چاہئے‘ اس سلسلہ میں وہ فوری طور پر جنوبی ایشیاء کے لئے سینئر مندوب مقرر کر دیں اس کیلئے انہوں نے پاکستان اور مصر میں امریکی سفیر کی ذمہ داریاں نبھانے والی شخصیت این پیٹرسن کا نام تجویز کیا اور کہا کہ وہ اس ذمہ داری کیلئے ٹرمپ کا اچھا انتخاب ثابت ہو سکتی ہیں واشنگٹن ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے آصف علی زرداری نے ٹرمپ کو مشورہ دیا کہ انہیں ہمارے خطے میں رچرڈ ہال بروک جیسا سفارتکار بھیجنا چاہئے۔ ٹرمپ وہ کریں جو اوباما نے نہیں کیا انکے بقول اوباما نے پاکستان کے کسی بھی چیف ایگزیکٹو سے مناسب رابطہ نہیں رکھا انہوں نے ٹرمپ کے مخالفین کو مشورہ دیا کہ وہ ٹرمپ کو مسترد کرنے کے بجائے انہیں خطے پر اثرات چھوڑنے کا موقع دیں کسی مدبر سیاستدان کا یہی خاصہ ہوتا ہے کہ وہ حکومت میں ہو یا اپوزیشن میں‘ اسے ملکی اور قومی مفادات عزیز ہوتے ہیں۔

اور اس تناظر میں اسے بیرون ملک اپنے وطن عزیز کے مفادات کی ترجمانی کا موقع ملتا ہے تو وہ اس موقع کو ہرگز ضائع نہیں جانے دیتا۔ ٹرمپ کو خیر سگالی کا پیغام دینے کا جو کام ہمارے حکمرانوں کے کرنے کا تھا وہ امریکہ میں بیٹھے زرداری سر انجام دے رہے ہیں جو ٹرمپ کی حلف اٹھانے کی تقریب کے موقع پر واشنگٹن میں موجود تھے چنانچہ انہوں نے خطہ میں دہشتگردی کے خاتمے کیلئے ٹرمپ کو جو اقدامات اٹھانے کے مشورے دیئے وہ درحقیقت ہمارے ملکی اور قومی مفادات سے مطابقت رکھتے ہیں اوباما کے دونوں ادوار میں دہشتگردی کی جنگ کے حوالے سے پاکستان پر ہمیشہ ملبہ ڈالنے کی کوشش ہی کی جاتی رہی اور واشنگٹن انتظامیہ کا جھکاؤ ہمارے دشمن بھارت کی جانب رہا جبکہ کٹھ پتلی کابل انتظامیہ کو بھی ہم پر دشنام طرازی کیلئے کھلا چھوڑ دیا گیا اس سے خطے میں قیام امن کیلئے یقیناًپاکستان کے کردار کو نظر انداز کیا گیا چنانچہ آصف زرداری نے نئے امریکی صدر ٹرمپ کو بجا طور پر باور کرایا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کا جو موقع اوباما نے ضائع کیا اب ٹرمپ کو اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اور اب اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے انتخابی منشور کی بنیاد پر دہشت گردی کے خاتمہ کی جن ممکنہ پالیسیوں کا اعلان کیا ہے جس کے تحت انہیں صرف اسلامی دہشت گردی کا خاتمہ مقصود ہے‘ اس کے پیش نظر اُن سے پاکستان کے حوالے سے خیرسگالی کے مثبت اقدامات کی توقع نہیں تاہم انہیں پاکستان کی جانب سے ان کی اعلان کردہ پالیسیوں کے ممکنہ منفی اثرات سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا جانا ضروری ہے۔ آصف علی زرداری نے ٹرمپ کو جنوبی ایشیا کے لئے سینئر مندوب مقرر کرنے کا مشورہ دے کر غور و فکر کا راستہ کھولا ہے جس سے یقیناًپاکستان امریکہ تعلقات کے معاملہ میں بھی سازگار فضاء پیدا ہو۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: طیبہ جمال۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)