بریکنگ نیوز
Home / کالم / سپریم کورٹ کے ریمارکس

سپریم کورٹ کے ریمارکس

مقدمہ ہائی پروفائل ہے سب یہی کہتے ہیں ایسے مقدمات میں ملک کے مانے ہوئے وکلاء کو دلائل کیلئے لایا جاتا ہے اور انکے دلائل مقدمے میں عدالت کی معاونت کرتے ہیں مقدمے میں شخصیات کو زیر بحث نہیں لایا جاتا بلکہ مقدمے کی نوعیت پر بات کی جاتی ہے اور مقدمے کے حق یا مخالفت پر دلائل دےئے جاتے ہیں اسطرح منصفین کو ایک راستہ دکھایا جاتا ہے جسکو سامنے رکھتے ہوئے منصفین درست سمت متعین کر کے مقدمے کے فیصلے تک پہنچتے ہیں۔مقدمہ ایک ایسے شخص کیخلاف ہے جو اس فہرست میں شامل ہی نہیں ہے جو سامنے آئی ہے اور سیاسی جماعتوں نے عموماً اور تحریک انصاف نے خصوصاً اس کو زندگی اور موت کا مسلہ بنایا ہوا ہے مگر غلطی یہ ہو رہی ہے کہ بنیاد ہی غلط رکھ دی گئی ہے اگر کسی شخص کی آف شور کمپنیوں کی بات ہے تو وہ نواز شریف بہر حال نہیں ہیں مگر ساری ہی جماعتیں جو اس مقدمے میں فریق ہیں ان کے دلائل نواز شریف ہی کے گر د گھوم رہے ہیں بات ملک سے پیسہ باہر کے جانے کی ہے اور اس کو ملٹی پلائی کرنے کی ہے شریف فیملی کا کاروبار پاکستان سے باہر کیوں گیا پہلے اس پر سوچنا چاہئے تھاکاروبار وہاں ہوتا ہے جہاں آپ کو امن کے ساتھ رہنے دیا جائے شریف فیملی کے ساتھ جو کچھ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں کیاگیا اسکے بعد پاکستان میں ان کے کاروبار کے راستے مسدود ہو گئے یہ بالکل اسی طرح ہے کہ جیسے آج سے کچھ سال پیشتر کراچی کے ساتھ ہواکاروباری حضرات کو کاروبار چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا ہر کارخانے کو اور ہر کارباری شخصیت کو مجبور کیا گیا کہ وہ ایک سیاسی جماعت کو بھتہ دے اگر وہ شخصیت یا کارخانے دار انکار کرتا تو اس کو ختم کر دیا جاتا چنانچہ لوگوں نے اپنے کاروبار اور فیکٹریاں پاکستان سے باہر منتقل کر دیں۔

یعنی جب ایک کاروباری کو ایک علاقے میں کاروبار کرنے سے زبردستی روک دیا جاتا ہے تو وہ وہاں سے دوسری جگہ منتقل ہونے میں ہی اپنی عافیت سمجھتا ہے شریف فیملی کیساتھ جو سلوک کارخانوں کو نیشنلائز کر کے کیا گیا اس کے بعد وہ کیا کرتے۔ ناچار انہیں کاروبار باہر منتقل کرنے پڑے پھر ایک وقت میں شریف فیملی نے کاروبار کو دوبارہ پاکستان میں چلانا شروع کیا تو پھر وہ سیاسی نشانے پر آ گئے اور ان کو طرح طرح سے گرانے کی کوشش کی گئی یہاں تک کہ ان کا سکریپ لانے والا جہاز بندرگاہ تک نہ آنے دیا گیا اور ایک سال تک اسے کھلے سمندر میں روکا گیا اس سے جو نقصان اس فیملی کو پہنچایا گیا اس کی وجہ سے ان کو اپنے کارخانے بند کرنے پڑے اور آج تیس سال ہو گئے کہ اتفاق فاؤنڈری بند ہو چکی ہوئی ہے مگر آج بھی جب کسی ڈویلپمنٹ کے کام کی بات ہوتی ہے تو اس میں اتفاق کے سریے کی بات انتہائی ڈھٹائی سے کی جاتی ہے۔ جب اس خاندان نے اپنا کاروبار دبئی یا سعودی عرب منتقل کیا تو یہ ممالک ترقی کی سیڑھیاں طے کر رہے تھے جس میں عمارتی کام سب سے بڑھ کر تھادونوں ملکوں اور عرب کے تقریباً سارے ہی ممالک میں دھڑا دھڑ عمارتیں تعمیر ہو رہی تھیں اور جہاں عمارتیں تعمیر ہو رہی ہوں وہاں سب سے زیادہ کھپت سریے کی ہوتی ہے اور شریف خاندان کی سٹیل ملیں تھیں۔اب یہ سوچنے کی بات ہے کہ اس دور میں سٹیل ملوں کی آمدن میں کتنا اضافہ ہوا ہو گا۔ تو پیسے کا ملٹی پلائی ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔

غیر کاروباری حضرات کو یہ بات سمجھ نہیںآ سکتی خیر اس کے بعد جو ہوا وہ سامنے کی بات ہے اور جائنٹ فیملی میں جو کچھ ہوتا ہے وہ اس فیملی میں بھی ہوا ہو گا بڑے میاں صاحب کے بعد ان کی جائیداد کا بٹورا کیسے ہونا تھا اس کے لئے وہ حضرات نابلد ہوں گے جو جائنٹ فیملی سسٹم کو نہیں جانتے تو جو دلائل جماعت اسلامی کے وکیل نے دیئے ان پر بڑے مزے کے ریمارکس عدالت کی جانب سے آئے۔ان کے دلائل پر کہا گیا کہ آپ نے جو نقصان اپنے کلائنٹ کو پہنچانا تھا پہنچا چکے جن کو آپ دلائل کہہ رہے ہیں وہ دلائل ہیں ہی نہیں۔عدالت سے باہر تو سارے لوگ ہی اپنے دلائل کو زبردست کہہ رہے ہیں مگر وہ جو کہتے ہیں کہ ۔ خشت اول چوں نہد معمار کج ۔ تا ثریا می رود دیوار کج ۔ یعنی جب معمار پہلی اینٹ ٹیڑھی رکھے گا تو ثریا تک بھی اگر دیوار اٹھائی جائے گی تو وہ ٹیڑھی ہی رہے گی چونکہ مقدمے کی بنیاد ایسے شخص پر رکھی گئی ہے کہ جس کا پانامہ لیکس میں نام ہی نہیں ہے تو جتنے بھی دلائل دیئے جائیں گے بے کار ہی جائیں گے۔