بریکنگ نیوز
Home / کالم / کچھ تو شرم کیجئے

کچھ تو شرم کیجئے

بہتو کے لئے یہ خبر نئی بھی ہوسکتی ہے اس لئے اس پر تبصرہ ضروری ہے امریکہ کے سابق صدر بارک اوباما نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں اس بات کا ذکر کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں رہنے والے امریکی صدر کو اپنے گھر کا خرچہ اپنی جیب سے ادا کرنا پڑتا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ بڑی قوموں اور بڑے لیڈروں کی یہی تو نشانی ہوتی ہے کہ وہ سرکاری مال کو اپنا ذاتی مال سمجھ کر اس پر ہاتھ صاف نہیں کرتے ورنہ اپنے ہاں تو مال مفت دل بے رحم والی بات ہے ایوان صدر ہو کہ وزیراعظم ہاؤس‘ گورنر ہاؤس ہو کہ وزیراعلیٰ ہاؤس ان کی حدود کے اندر رہنے والوں کے وارے نیارے ہوجاتے ہیں جو مرضی ہے کھائیں جو دل چاہے پکوائیں کوئی پوچھنے والا نہیں باورچیوں اور ویٹرز کی ایک فوج ظفر موج ہر وقت ان کے مکینوں کی خدمت پر مامور ہے بات اب لاکھوں روپے تک محدود نہیں رہی وہ اب کروڑوں تک جا پہنچی ہے کیا مجال کہ کوئی ان اخراجات کی آڈٹ کرسکے اب نہ چوہدری محمد علی اور ملک معراج خالد جیسے وزیراعظم رہے نہ قائداعظم جیسے گورنر جنرل اور نہ غلام اسحاق خان جیسے صدر‘ چوہدری محمد علی ملک کے وزیراعظم تھے کراچی ملک کا دارالحکومت تھا وہ جس گھر میں رہتے اسی میں وہ دفتر بھی لگاتے مختیار مسعود صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں ایک مرتبہ چند سینئر سرکاری اہلکاروں کے ساتھ ان کی میٹنگ جاری تھی رات ہوچلی تھی وزیراعظم نے ان سے کہا آپ رک جائیے رات کا کھانا ہم اکٹھے کھائیں گے تھوڑی دیر بعد وہ اٹھ کر گھر کے پورشن کی طرف گئے اور چند لمحات کے بعد واپس آکر کہنے لگے معذرت خواہ ہوں کھانے میں کچھ وقت لگے گا۔ دراصل ہمارا باورچی بیمار ہوگیا ہے اور کھانا میری بیگم صاحبہ خود تیار کررہی ہیں تھوڑی دیر بعد جب کھانا تیار ہوگیا۔

تو ان سب نے مل جل کر کھایا اس کے برعکس آج کیا حالت ہے؟ سینکڑوں خدمت گار وزیراعظم ہاؤس اور ایوان صدر میں ان کے مکینوں کی خدمت پر مامور ہیں اور یہ سب کچھ ٹیکس دہندگان کے پیسوں پر ہورہا ہے اسی طرح قائداعظم کے ایک اے ڈی سی لکھتے ہیں کہ گورنر جنرل ہاؤس میں کابینہ کی میٹنگ ہونی تھی میٹنگ سے ایک دن قبل میں نے قائد سے پوچھا سرمیٹنگ میں شرکاء کو کیا پیش کیا جائے چائے یا کافی؟ بانی پاکستان بولے کیوں کیا شرکاء گھر سے ناشتہ کرکے نہیں آئیں گے ؟ غلام اسحاق خان نے بھی چونکہ پرانے وقتوں کو قریب سے دیکھا تھا وہ جب ضیاء الحق کی وفات کے بعد ایوان صدر اسلام آباد منتقل ہوئے تو ان کو پتا چلا کہ ایوان صدر میں روزانہ کچن پر تقریباً 55 ہزار روپے خرچ ہورہے ہیں انہوں نے اس کا نوٹس لیا اور یہ حکم دیا کہ صرف ایک ڈش پکائی جائے انہوں نے غیر ضروری اخراجات پر کٹ لگایا اور روزانہ کا خرچہ 55ہزار سے گھٹ کر1900 روپے تک آگیا وہ غالباً آخری حکمران تھے کہ جو اسراف کو پسند نہ کرتے اس کے بعد تو پھر حلوائی کی دکان اورد ادا جی کی فاتحہ والی بات ہوگئی ہر سال ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس کے اخراجات بڑھتے ہی چلے گئے قرضوں پر قرضے لیکر ان سے حاصل شدہ رقم پر اللے تللے کرنے والے یہ بات بھول چکے ہیں۔

کہ نہ جانے کتنی آنے والی نسلوں کو ان قرضوں پر سود در سود ادا کرنا پڑے ملک معراج خالد کو بھی جن لوگوں نے قریب سے دیکھا وہ ان کی سادہ زندگی‘قناعت اور سرکاری پیسوں سے اسراف نہ کرنے کی صفات بیان کرتے ہیں اوباما نے جو مندرجہ بالا انٹرویو دیا ہے ضرورت ہے اس بات کی کہ ہمارے ٹیلی ویژن کے تمام چینل اس کو بار بار ٹیلی کاسٹ کریں تاکہ لوگوں کو پتہ چلے کہ جو صفات مسلمان حکمرانوں میں ہونی چاہئیں وہ تو ان لوگوں نے اپنا لی ہیں کہ جنہیں ہم کفار کے نام سے پکارتے ہیں ۔