بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / کرپشن میں کمی اور اقتصادی صورتحال

کرپشن میں کمی اور اقتصادی صورتحال

عالمی سطح پر کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی تازہ ترین رپورٹ میں پاکستان میں کرپشن کی شرح کم ہونے کی نوید دی گئی ہے۔ جرمنی کے شہر برلن میں ہیڈ کوارٹر رکھنے والی اس تنظیم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشیاء میں کرپشن پر قابو پانے والے ممالک کی فہرست میں پاکستان دوسرے نمبر پر ہے پہلی پوزیشن چین کو حاصل ہے۔ کرپشن میں کمی کے حوالے سے رائج انڈیکس کے مطابق پاکستان نے بدعنوانی پر قابو پانے میں خاصی بہتری دکھائی ہے اس انڈیکس میں پاکستان 2012ء میں 27 پر تھا جبکہ اب 32 پر دیکھا جاسکتا ہے ریکارڈ کے مطابق 2013ء میں پاکستان کا سکور 28 اس سے اگلے سال 29 جبکہ 2015ء میں 30 تھا۔ اس درجہ بندی میں بہتری کے ساتھ پاکستان 116 ویں نمبر پر آگیا ہے منصوبہ بندی و ترقی کے وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا ہے کہ حکومت کی اقتصادی پالیسیوں اور سرمایہ کاری کی شرح میں اضافے نے پاکستان کو دنیا کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے ۔ کرپشن اور قومی وسائل کی لوٹ مار کے وطیرے نے وطن عزیز کے بچے بچے کو بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبا رکھا ہے۔

اس کے ساتھ بد انتظامی اور معاملات کو بروقت نہ نمٹانے کی روش آگے بڑھنے کے پورے عمل کو متاثر کئے ہوئے ہے اب جبکہ اقتصادی اعشاریئے قابل اطمینان ہیں اور سٹاک مارکیٹ 50 ہزار پوائنٹس کی حد عبور کر چکی ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ اقتصادی شعبے میں ترقی کے ساتھ انتظامی اصلاحات کے ذریعے دفاتر کی کارکردگی کو بہتر بنایا جائے۔ انگریزی روزنامے کی رپورٹ کے مطابق اس وقت صرف پی ایس او کے سرکلر ڈیٹ کا حجم 269 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے اس میں زیادہ تر پاور سیکٹر کے ذمے ہے اس طرح کی صورتحال جس شعبے میں ہو اس کا ازالہ ضروری ہے اس سب کے ساتھ کرپشن میں کمی اور اقتصادی شعبے میں بے مثال کامیابیوں کے ساتھ ضروری یہ بھی ہے کہ اس کے ثمرات شہریوں تک پہنچائے جائیں انہیں کنٹرولڈ مارکیٹ دی جائے انہیں ناگزیر حالات میں مختلف اشیاء پر سبسڈی حاصل ہواور انہیں بنیادی شہری سہولیات فراہم کی جائیں بصورت دیگر انہیں کسی اعلان سے کوئی ریلیف نہیں ملے گی۔

سیوریج نظام بلاک کیوں؟

ناقص منصوبہ بندی ‘آبادی میں بے پناہ اضافے کے مقابلے میں ناکافی انفراسٹرکچر کے حامل صوبائی دارالحکومت کا حلیہ درست کرنے کے لئے حکومت کے احساس ‘ ادراک اور اخلاص سے انکار ممکن نہیں۔ پشاور کا گمشدہ چہرہ نکھارنے کے لئے صفائی کی مختلف چھوٹے لیول کی سرگرمیوں کے بعد اب لمبے عرصے پر محیط بڑی مہم بھی جاری ہے ۔ اس سب کے باوجود حالیہ بارشوں نے حکومت کے تمام اقدامات کو پانی میں بہا دیا ۔ بلاک سیوریج سسٹم کے باعث پورا شہر جوہڑوں میں تبدیل دیکھا گیا ۔ سیوریج لائنوں کی بندش کی بڑی وجہ پلاسٹک شاپنگ بیگز کا ان میں آنا ہے ۔صوبائی حکومت اس صورتحال کا نوٹس لے چکی ہے اور وزیر اعلیٰ نے متعلقہ اداروں کو ان بیگز کی فروخت بند کرنے کے لئے اقدامات کی سفارش کا کہہ رکھا ہے اب سرکاری اداروں کی سست روی اور مختلف محکموں کے درمیان باہمی رابطوں کے فقدان نے ایک اہم مسئلے کو ہوا میں معلق کر رکھا ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اعلیٰ سطح پر صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے اس ضمن میں اب تک کی سست روی پر جواب طلب کرنے کے ساتھ فوری اقدامات کا حکم دیا جائے ۔