بریکنگ نیوز
Home / کالم / قومی اسمبلی میں دھینگامشتی

قومی اسمبلی میں دھینگامشتی

ہوتا یہ ہے کہ جب ہم کسی بھی کام کی جگہ کو اس کام کے علاوہ استعمال کرتے ہیں تو اس میں کچھ جھول آجاتے ہیں اگر آپ کاٹھ کی ہنڈیا کو چولہے پر چڑھا کر سالن بنائیں گے تو اس کا جو حشر ہو گا اس سے کوئی پاگل بھی صحیح نتیجہ اخذ کر لے گا کہ آگے کیا ہونے والاہے جمہوریت میں سب سے بڑا ایوان جس نے ملک کی پالیسیاں بنانی ہوتی ہیں جس نے ملک کو آگے لے کر جانا ہوتا ہے جس نے ملک کے سربراہ کا انتخاب کرنا ہوتا ہے جو امن اور جنگ میں قوم کو یک جا رکھنے کا ذمہ دار ادارہ ہوتا ہے اس کو قومی اسمبلی کہا جاتا ہے قومی اسمبلی میں ایسے لوگوں کا چناؤ کیا جاتا ہے جو ملک کو صحیح سمت میں چلائیں اور ملک کی ترقی کی سکیمیں بنائیں اور ایسے ادارے تشکیل دیں اور ان اداروں کے ایسے سربراہ مقرر کریں جو ملکی ترقی کے ضامن ہوں ۔ ایسے لوگ جو کڑوی سے کڑوی بات کو بھی خندہ پیشانی سے سنیں اور برداشت کریں اور ایسے لوگ جو حکومت بننے کے بعد حکومت کے ہاتھ غلط کاموں کی طرف جانے سے روکیں مگر شائستگی کے ساتھ ‘اور حکومت کے اراکین بھی ہر تنقید کو کھلے دل کیساتھ سنیں اور اگر وہ خلاف واقعہ ہے تو اس کو دلائل کیساتھ نامنظور کریں اور دوسری جانب سے بھی تحمل اور بردباری کا مظاہرہ ہوابھی تک جو بھی اسمبلیاں پاکستان میں آئی ہیں ان میں ہر دفعہ تحمل اور بردباری کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا ہے یہاں تک بھی کہا گیا کہ ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہو گا ۔

مگر ہر بات کو حکومتی ارکان نے برداشت کیا اور حزب اختلاف بھی اپنی حدود سے آگے نہیں گئی یہ نظارے ہم نے ہر اسمبلی میں دیکھے مگر یہ نہیں ہوا کہ چیف ایگزیکٹو کو جو اسی اسمبلی کا منتخب کردہ ہے اس طرح چور چور کے القابات سے اسمبلی کے فلور پر پکارا گیا ہو اور یہ بھی کبھی نہیں ہوا کہ اسمبلی کے اراکین ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوئے ہوں اس دفعہ کی جمہوری حکومت میں یہ نظارہ بھی دیکھنے کو ملا کہ ایک جماعت جو خود کو ملک کی دوسری بڑی جماعت کہتی ہے اس کے اراکین نے اسمبلی کے فلور پراپنے پارلیمانی لیڈر کے اشارے پر قائد ایوان کو چور چور کے نعروں سے یاد کیا ہو قائد ایوان چاہے جیسا بھی ہے اسکا مقدمہ عدالت کے اندر ہے وہ اگر چورہے یا ساد ہے اس کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے اگر وہ واقعی چور ہوا تو اس کا کانٹا خودہی نکل جائے گا اور اگر نہیں ہوا تو وہ اسی ایوان میں قائد کی حیثیت سے آئے گا اگر آپ کی کوئی دشمنی ہے تو اسے کم از کم اسمبلی سے باہر ر۔

کھیںیہ ایک ایسا ایوان ہے کہ جس میں اگر غلطی سے کوئی بھی غلط لفظ بولا گیا ہو تو کسٹوڈین اس کو کاروائی سے حذف کر دیتا ہے اس لئے کہ کوئی بھی غلط لفظ جسے ایوان میں غیر پارلیمانی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اس ایوان میں بولنے کی اجازت نہیں ہے۔چہ جائیکہ ایک پارٹی کا پارلیمانی لیڈر بر ملا کہے کہ گلی گلی میں شور ہے اور پھر اس کے ساتھی اس فقرے پر طرح لگائیں یہ تو اس ایوان کی براہ راست توہین ہے۔ اس کے بعد جو ہوا وہ اس ایوان کی تاریخ میں پہلی دفعہ دیکھا گیا ہم دیگر ممالک کی اسمبلیوں میں تو سنتے آئے ہیں کہ ایوان میں اراکین کسی بات پر گتھم گتھا ہو گئے مگر اپنے پاکستان کی قومی اسمبلی میں اب تک ایسا کبھی بھی نہیں ہوا تھا مگر ہمیں یہ وقت بھی دیکھنا تھا کہ ہماری قومی اسمبلی میں اراکین اسمبلی نے ایک دوسرے پر چڑھائی کی ۔ ایک دوسرے کی گریبان پھاڑے ایک دوسرے پر گھونسوں اور لاتوں کی بارش کی اور ہمیں شرم کے مارے اپنے سر جھکانے پڑے کہ ہم نے اس اسمبلی میں کس قبیل کے لوگوں کو بھیجا ہے۔