بریکنگ نیوز
Home / کالم / امریکہ :پاک بھارت چیلنجز!

امریکہ :پاک بھارت چیلنجز!

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کسی کروٹ آرام نہیں اور وہ دنیا کو بھی پریشان کئے ہوئے ہیں شاید ہی کوئی ایسا ملک ہو جو امریکہ کے نئے صدر اور انکے عزائم کے حوالے سے تحفظات نہ رکھتا ہو صدر امریکہ کے نئے احکامات کے تحت پاکستان اور افغانستان کے شہریوں کو امریکہ میں داخل ہونے کیلئے آئندہ کڑی جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑیگا اے بی سی نیوز چینل کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ سات مسلم اکثریتی ممالک کے افراد کے امریکہ میں داخلے پر پابندی کے حکم نامے پر دستخط کرنیوالے تھے تاہم عوامی سطح پر سامنے آنے والے اعتراض کے سبب اس معاملے میں تاخیر کا سامنا ہوا حلف برداری کے بعد امریکی ٹیلی ویژن پر نشر ہونیوالے اپنے پہلے انٹرویو میں نئے امریکی صدر نے کئی اہم معاملات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا جن میں اوباما کیئر سے لیکر امیگریشن اور دہشتگردوں کے خلاف جنگ تک کے معاملات شامل تھے دریں اثناء سابق امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ میڈلین البرائٹ کا یہ بیان سامنے آیا ہے کہ اگر مسلمانوں کو رجسٹریشن کے عمل سے گزارا جاتا ہے تو وہ خود بھی مسلمان کے طور پر رجسٹر ہوجائیں گی امریکی معاشرہ بری طرح تقسیم دکھائی دے رہا ہے لیکن پاکستان کے نکتۂ نظر سے تشویشناک امر یہ ہے کہ امریکی صدر نے بھارت کے وزیراعظم سے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے انہیں امریکہ کے دورے کی دعوت دی ہے ٹرمپ کے بقول وہ بھارت کو ایک حقیقی دوست اور دنیا بھر میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے شراکت دار کے طور پر دیکھتے ہیں واشنگٹن انتظامیہ کے بقول ٹیلی فونک گفتگو میں دونوں رہنماؤں کے مابین باہمی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے علاوہ معیشت اور دفاع کے شعبے میں تعاون وسیع کرنے کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوا ۔

اس سلسلہ میں وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے ٹرمپ‘ مودی بات چیت کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’’رواں برس کے آخر میں وزیراعظم مودی امریکہ کا دورہ کریں گے جبکہ نریندر مودی نے بھی ٹرمپ کو دورہ بھارت کی دعوت دے دی ہے۔‘‘ ترجمان وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ بیان کے مطابق صدر ٹرمپ اور وزیراعظم مودی نے دہشتگردی کیخلاف عالمی جنگ میں ایک دوسرے کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہونے پر اتفاق کیا دوسری جانب متحدہ عرب امارات اور بھارت کے مابین پچھتر ارب ڈالر کے معاہدے طے پا گئے ہیں۔ ’یو اے ای‘ کے ولی عہد کی بھارت آمد پر نریندر مودی نے پروٹوکول کو بالائے طاق رکھ کر نئی دہلی ائرپورٹ پر خود انکا استقبال کیا اور گلے مل کر انہیں خوش آمدید کہا۔ٹرمپ نے اگرچہ صدر منتخب ہونے کے بعد وزیراعظم نواز شریف سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے انہیں پاکستان اور اسکے عوام کیلئے خیرسگالی کا پیغام پہنچایا اور مسئلہ کشمیر سمیت پاکستان اور بھارت کے مابین جاری دیرینہ تنازعات کے حل کیلئے اپنا کردار بروئے کار لانے کا بھی عندیہ دیا جس پر حکومتی حلقوں کی جانب سے ٹرمپ حکومت کیساتھ بے پناہ توقعات بھی وابستہ کر لی گئیں مگر صدر کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد ٹرمپ نے اپنی سرکاری حیثیت میں پاکستان کے بجائے بھارت سے رابطہ کر کے ہمیں اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ وہ خارجہ تعلقات کے معاملہ میں بھارت کو ترجیح دیتے ہیں اس خطہ میں دہشتگردی کی جنگ کا چونکہ امریکہ نے ہی نیٹو فورسز افغانستان بھجوا کر آغاز کیا تھا اسلئے اس جنگ میں امریکہ کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور گزشتہ ہفتے اسی تناظر میں آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے پاکستان اور امریکہ کے مابین تعاون کی ضرورت پر زور دیا تھا مگر اسکے برعکس ٹرمپ انتظامیہ کا دہشت گردی کیخلاف جنگ میں تعاون کیلئے بھارت کی جانب جھکاؤ ہے ۔

جسکا ڈونلڈ ٹرمپ نے مودی سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران واضح عندیہ بھی دیا ہے تو یہ ایک طرح سے ہماری سفارتی ناکامی ہے کہ ہم ٹرمپ انتظامیہ کو اپنے مؤقف پر قائل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے یہ طرفہ تماشہ ہے کہ جن برادر مسلم ممالک کے ساتھ دفاعی‘ اقتصادی تعاون کے حوالے سے ہم پر امید رہتے ہیں اور مسلم برادر ہڈ کی بنیادپرباہمی تعلقات کو مثالی قرار دیتے ہیں ۔ انکا واضح جھکاؤ بھی بھارت کی جانب ہے گزشتہ سال سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کو سعودی عرب مدعو کر کے پاکستان کو ورطۂ حیرت میں ڈالا اب متحدہ عرب امارات کے ولی عہد کے دورہ بھارت سے بھارتی جارحانہ عزائم کیخلاف برادر مسلم ممالک سے تعاون کے حصول میں مزید مشکلات پیدا ہونگی جبکہ اس دورے میں بھارت اور عرب امارات کے مابین 75ارب ڈالر کے معاہدے بھی ہوئے ان معاہدوں کی بنیاد پر عرب امارات ہمارے مقابلہ میں بھارت ہی کو ترجیح دیگا اسلئے یہ صورت حال لمحہ فکریہ ہے کہ پاکستان کی جانب سے بھارتی جارحانہ منصوبوں پر برادر مسلم ممالک کو بھی اپنے موقف پر قائل نہیں کیا جا سکا۔ اگر اس حوالے سے ہماری خارجہ پالیسی میں توازن نہیں اور کوئی کمی موجود ہے تو ملک کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کے داعی ہمارے حکمرانوں کو اس معاملہ میں سنجیدگی سے غور و فکر کرنا چاہئے اور قومی خارجہ پالیسی کو ملکی سلامتی اور قومی مفادات کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنیکی جانب عملی قدم اٹھانا چاہئیں۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر ضیغم نوید۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)