بریکنگ نیوز
Home / کالم / پیرسیداحمد گیلانی ‘افغان امن کے علمبردار

پیرسیداحمد گیلانی ‘افغان امن کے علمبردار


افغانستان کی معروف مذہبی سیاسی اور روحانی شخصیت پیرسیداحمدگیلانی بالآخراس دنیاسے کوچ کرگئے مذہبی گھرانے سے تعلق رکھنے والے پیرسیداحمدگیلانی جوپیرآفندی گیلانی کے نام سے بھی جانے جاتے تھے کیساتھ پہلی ملاقات کا شرف80کی دہائی کے وسط میں اس وقت ملا جب وہ سوویت یونین کے خلاف جنگ کاحصہ تھے اس وقت انکی جماعت محاذملی اسلامی افغانستان پشاورکے سات فریقی اتحادکاحصہ تھی پیرگیلانی بذات خودپاکستان میں مقیم تھے جنگ کے دوران پیرسیداحمدگیلانی کاشماران چند افغان رہنماؤں میں ہوتاتھاجوافغانستان میں جنگ کے خاتمے کیلئے نہ صرف بات چیت کے حامی تھے بلکہ ان کاموقف تھاکہ قیام امن کیلئے ضروری ہے کہ سوویت یونین کی ا فواج کے انخلاء کیساتھ ساتھ افغانستان میں ہرقسم کی مداخلت ختم ہواورافغان عوام کی مرضی کے مطابق تمام متحارب گروہ ایک متفقہ عبوری حکومت پرراضی ہوجائیں اسی طرح پیرسیداحمدگیلانی افغانستان میں قیام امن کیلئے اقوام متحدہ کے کردارپربہت خوش تھے مگرجب اپریل 1992میں بعض افغان رہنماؤں اور جماعتوں نے اقوام متحدہ کی امن کاوشوں کوناکام بنادیاتوپیرسیداحمدگیلانی بہت رنجیدہ ہوئے 1992سے لیکر1996تک پیرسیداحمدگیلانی اورانکی جماعت نے نہ صرف غیرجانبدار کردار ادا کیابلکہ ان کی جماعت نے مرحوم پروفیسربرہان الدین ربانی کی عبوری حکومت میں وزارت کے عہدے خالی کردئیے اورجب افغانستان پر طالبان قابض ہوگئے توپیرسیداحمدگیلانی اورانکی محاذملی اسلامی توطالبان حکومت کی پالیسیوں کے خلاف تھی مگرانہوں نے طالبان حکومت کے خاتمے کیلئے مسلح مزاحمت میں حصہ لینے سے انکار کردیاپیرگیلانی اورانکی جماعت نے مختلف علاقائی اوربین الاقوامی تنظیموں کے پلیٹ فارم سے مسئلے کے پرامن اورسیاسی حل کیلئے آوازاٹھائی تھی اس دوران مرحوم پیرسیداحمدگیلانی نے دیگر روشن خیال افغان رہنماؤں بالخصوص پروفیسر صبغت اللہ مجددی اور مرحوم مولوی محمدنبی محمدی کیساتھ مل کرمسئلے کے حل کیلئے تاریخی لویہ جرگہ بلانے اورسابق بادشاہ ظاہر شاہ سے بھی کردار ادا کرنیکامطالبہ کیاتھا طالبان حکومت کے خاتمے کے دوران پیرسیداحمدگیلانی کوپشاورگروپ کی قیادت کرنیکاموقع ملاتھا۔

اوراس دوران انہوں نے پشاور گروپ کے نمائندوں کوبون کانفرنس میں شرکت کیلئے بھجوایاتھا جرمنی کانفرنس میں تمام شرکاء نے متفقہ طوپرحامدکرزئی کوعبوری حکومت کا سربراہ بنایااورحامدکرزئی نے عہدہ صدارت سنبھالنے سے لیکر2014 میں اقتدارسے علیحدہ ہونے تک جن اہم افغان رہنماؤں کی مشاورت سے فرائض سرانجام دینے کی کوششیں کیں پیر سید احمدگیلانی ان رہنماؤں میں سرفہرست تھے پیر سید احمدگیلانی کے طرح حامدکرزئی نے دیگر افغان رہنماؤں جن میں مرحوم پروفیسربرہان الدین ربانی‘ پروفیسرصبغت اللہ مجددی اور پروفیسررسول سیاف نمایاں ہیں کوہروقت اورہرفیصلے میں اعتماد میں لیا تھا‘دھیمی آواز میں گفتگوکرنیوالے پیر سید احمد گیلانی کونہ صرف افغانستان کے طول وعرض بلکہ قبائلی علاقوں میں بھی کافی عزت واحترام حاصل تھاوزیرستان اوربلوچستان کوملانے والی پٹی میں رہائش پذیر سلیمان خیل ،آفریدی قبائل کی اہم ترین شاخ ذخہ خیل ،سالارزئی،مہمنداورصافی قبائل میں انکے ہزاروں مریدہیں اسی طرح افغانستان میں قیام امن کیلئے مرحوم سیداحمدگیلانی کومرحوم قبائلی رہنماؤں ملک نادرخان ذخہ خیل، مرحوم میاں شاہ جہان اورمرحوم خلیفہ لطیف محسودکی حمایت بھی حاصل رہی تھی اپریل 1988 میں جب افغانستان اورپاکستان کے مابین جنیوا معاہدے پر دستخط ہوگئے توسب سے پہلے پیر سید احمدگیلانی نے اپنے پیروکاروں کوافغانستان میں لڑائی بندکرنے کے احکامات دئیے ۔

اورانہوں نے تمام متحارب فریقین پرمشتمل ایک عبوری حکومت تشکیل دینے کی تجویزپیش کی اس سلسلے میں انہوں نے ولی خان اوردیگرپاکستانی سیاسی رہنماؤں کیساتھ ملاقاتیں بھی کی تھیں بالکل اسی طرح انہوں نے عالمی برادری سے افغانستان میں قیام امن کیلئے عام معافی اورقومی مصالحتی عمل کوکامیاب بنانے میں تعاون کامطالبہ کیاتھامرحوم پیرسیداحمدگیلانی نہ صرف پاکستان کواپنادوسرا گھرسمجھتے تھے بلکہ عالمی سطح پروہ پاکستان کی وکالت کیلئے بھی مشہورتھے مئی2016کے اواخر میں پاکستان ہی سے تعلق رکھنے والے صحافیوں سے ملاقات کے دوران انہوں نے پاکستان اورپاکستان کے عوام کاافغان مہاجرین کی میزبانی کرنے پرنہ صرف شکریہ اداکیاتھابلکہ کہاتھاکہ افغان عوام اس مہمان نوازی کوکبھی بھی نہیں بھولیں گے۔