بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / قومی اسمبلی میں ہاتھا پائی

قومی اسمبلی میں ہاتھا پائی


قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) اور حزب اختلاف کی پاکستان تحریک انصاف کے اراکین میں شدید تصادم اور ہاتھا پائی کا واقعہ سیاست اور پارلیمانی کاروائی میں صبرو برداشت کے کلچر کو فروغ دینے کا متقاضی ہے میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں جماعتوں کے ارکان تصادم کے دوران ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوگئے ایوان میں لاتوں اور مکوں کی بارش بھی دیکھی گئی اس صورتحال میں 12سے زائد سارجنٹس نے ایوان میں پہنچ کر حصار قائم کیا سپیکر نے 15منٹ کے لئے ایوان کی کاروائی بھی روکی اور تصادم کا باعث بننے والے ارکان کے خلاف کاروائی کا اعلان بھی کیا اس مقصد کے لئے کیمرہ ریکارڈ بھی طلب کیاگیا ہے قومی اسمبلی میں گزشتہ روز کے ہونے والے تصادم کو ایوان میں لڑائی جھگڑے کے حوالے سے بڑا واقعہ قرار دیا جارہا ہے خبررساں ایجنسی کے مطابق1995ء میں مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی کے ارکان کے درمیان شدت کا ٹکراؤ ہوا تھا جس میں تین ارکان زخمی بھی ہوئے ‘قومی اسمبلی میں تازہ تصادم کے روز ہی پشاور میں صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کے ارکان ثناء اللہ اور محمد علی میں جھڑپ ہوئی منتخب ایوانوں میں ارکان کے درمیان اختلاف اور اپنے اپنے موقف پرکھل کر بات کرنے کو ہی جمہوری عمل کا حسن کہا جاتا ہے تاہم سیاست میں اختلاف رائے کے باوجود ایک دوسرے کے موقف کو سننا اور برداشت کرنا ہمارے کلچر کا حسن ہے۔

ایوان کے باہر بھی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور ان کے ورکرز کو مخالفت میں معاملات پوائنٹ آف نوریٹرن تک پہنچانے سے گریز کی ضرورت رہتی ہے اس مقصد کے لئے سینئر سیاسی قیادت کی ذمہ داری زیادہ ہے کہ وہ اپنی اپنی جماعتوں کے ساتھ دوسری پارٹیوں کے ارکان کو بھی کنٹرول میں رکھیں تاکہ بدمزگی بڑھنے نہ پائے اس سب کے لئے سیاسی جماعتوں کے اندر پارٹی لیول پر ارکان سے پوچھ گچھ کا نظام ہونا چاہئے یہ پوچھ گچھ مجموعی کارکردگی کے حوالے سے بھی ایک باقاعدہ نظم کے تحت ہوتو اس کا اثر نتیجہ خیز ہوگا اس وقت وطن عزیز کو درپیش چیلنجز اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہماری سیاسی قیادت اپنے تمام تر اختلافات کے ہوتے ہوئے اہم فیصلوں کے لئے بات چیت کی راہ اپنائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔

فوری نوٹس کی ضرورت

وطن عزیز کے مختلف شفاخانوں میں دل کے امراض میں مبتلا مریضوں کو سٹنٹ لگانے میں محض پیسہ بٹورنے کے لئے بے احتیاطی مرکز اور صوبوں کی سطح پر فوری اقدامات کی متقاضی ہے ہمارے رپورٹر کی فائل کردہ سٹوری کے مطابق ہسپتالوں میں ایک ارب روپے کے سمگل شدہ سٹنٹ استعمال ہونے کا انکشاف ہوا ہے اس دھندے میں انسانی جان اور صحت کا سوال ہے اگر آج اس پر کوئی موثر کاروائی نہ ہوئی تو جعلی اور دو نمبر ادویات کی فروخت جعلی لیبارٹریوں کا قیام اور مریضوں کو لوٹے جانے کا عمل مزید جڑیں پکڑے گا خیبر پختونخوا کی حد تک جس طرح جعلی لیبارٹریوں کے خلاف کاروائی شرو ع ہوئی ہے اسی طرح ادویات اور سٹنٹ کے معاملے کو بھی فوراً دیکھا جائے اور وزیراعلیٰ اس ضمن میں رپورٹ طلب کریں اس رپورٹ کے مندرجات میں کسی تکنیکی غلطی یا غلط بیانی کی صورت میں متعلقہ حکام کو سخت ایکشن کی وارننگ ایڈوانس میں دینا ضروری ہے۔