بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / فوجی اہلکار مجھے اپنی شکایات اور مسائل وٹس ایپ کریں،بھارتی آرمی چیف

فوجی اہلکار مجھے اپنی شکایات اور مسائل وٹس ایپ کریں،بھارتی آرمی چیف

نئی دہلی۔ بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت نے بھارتی فوجی جوانوں کی بڑھتی ہوئی شکایات اور ناروا سلوک کے بعد ایسے اقدام کا فیصلہ کر لیا کہ انڈین انٹیلی جنس ایجنسیوں نے شدید تحفظات کا اظہار کر دیا ہے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارتی فوجی سربراہ نے اپنے جوانوں کو درپیش شکایات ،مشکلات ، اعلیٰ افسران کے ناروا سلوک اور مسائل کو براہ راست جاننے اور ان کے ازالے کے لئے اپنا ’’وٹس ایپ ‘‘ نمبر جاری کرتے ہوئے حکم جاری کیاہے کہ انڈین فوج کے اہلکار اپنے مسائل کو سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلز کے ساتھ شیئر کرنے کی بجائے براہ راست انہیں ’’وٹس ایپ‘‘ کے ذریعے بھیجیں ،جنرل بپن راوت نے یہ اقدام بھارتی فوجی اہلکاروں کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی مختلف ویڈیوز کے بعد اٹھایا ہے ۔

اس سے قبل جنرل بپن راوت نے فوجی کیمپوں میں ناقص کھانے اور ناروا سلوک کی شکایات سامنے آنے پر اپنے جوانوں کو ’’دھمکی‘‘ دیتے ہوئے کہا تھا کہ سوشل میڈیا پر پانی میں ہلدی ملا کر سالن پیش کرنے اور سوکھی روٹی کی شکایت لگانے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔تازہ حکم میں جنرل بپن راوت نے اپنے ’’مظلوم فوجیوں‘‘ کی شکایات جاننے کے لئے وٹس ایپ نمبر09643300008جاری کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ اب اہلکار فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پر اپنے مسئلے بیان کرنے کی بجائے اس نمبر پر شکایات پوسٹ کریں ۔

بھارتی فوجی حکام کا کہنا تھاکہ بھارتی فوج کا انٹرنل احتساب کا نظام اور شکایات جاننے کے لئے سراغ رسانی کا سسٹم انتہائی فعال اور تیز ترین ہے ،لیکن اگر کوئی اہلکار اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی اور جائز شکایات کو فوجی سسٹم اور فورم پر سامنے لانے کے باوجود بھی ہونے والے ازالے سے ناخوش ہے تو وہ بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت کے دفتر سے اس وٹس ایپ نمبر سے براہ راست رابطہ کر سکتا ہے ۔ دوسری طرف انڈین فوج اور انٹیلی جنس اداروں کے کئی افسران نے جنرل بپن راوت کے اس حکم پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وٹس ایپ پر آنے والے کسی بھی ناپسندیدہ پیغام کو روکنا ناممکن ہو جائے گا ،چونکہ یہ ایک عام وٹس ایپ نمبر ہے ،جس پر بھارتی اہلکار ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں سے کوئی بھی بھارتی آرمی چیف کے نام پر کوئی بھی ویڈیو ،آڈیو پیغام اور کسی بھی طرح کا لنک سینڈ کیا جا سکے گا اور ہم اس پر کچھ بھی نہیں کر سکیں گے۔