بریکنگ نیوز
Home / کالم / خط لکھیں گے گرچہ مطلب کچھ نہ ہو

خط لکھیں گے گرچہ مطلب کچھ نہ ہو


ایک زمانہ تھا کہ ہماری کہا نیاں، ایک تھا باد شاہ، سے شروع ہوتیں مگر زمانہ اب تبدیلی کا آگیا ہے اس لئے بادشاہ کی بجائے شہزادے کہانیوں کے مرکزی کردار بن رہے ہیں مگر کچھ چیزیں ماضی کی طرف لوٹ رہی ہیں اب دیکھیں ناکتنی عجیب بات ہے کہ رابطے کے بیسیوں نت نئے طریقوں کی موجودگی میں ان دنوں جس چیزنے دھوم مچائی ہوئی ہے وہ خط ہے اور خط بھی شہزادے کا خط ،پہلے ایک خط آیا اور اب دوسرا خط بھی آگیا تو شہر بھر کی زبان پر اسی کے تذکرے ہیں’’ لوٹ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو‘‘ ماضی کا یہ معتبر حوالہ اب نئے زمانے کا چلن نہیں رہا۔کل اسے آدھی ملاقات کہا جاتا تھا اور پھر رابطے اتنے فاسٹ ہوئے کہ پوری ملاقات کے وسیلے ایجاد ہونے لگے لیکن گزشتہ کل کی آدھی ملاقات کا اپنا ایک حسن تھا ایک لطف تھا، جن دنوں خط ہماری زندگی میں رنگ بھر رہا تھا تو اس کے شیڈز بلا کے دلچسپ تھے جس کی باز گشت بچوں کی نصابی کتابوں میں بھی سنائی دیتی تھی لیکن اس زمانے میں نصابی کہانیاں تھیں یا چٹکلے ایک طرح سے غیر محسوس تربیت کا فریضہ انجام دیتے تھے۔ جیسے ایک صاحب کا ذکر تھا کہ وہ خط لکھ رہے تھے تو ساتھ بیٹھا ہوا دوسرا شخص اسے پڑھ رہا تھا،لکھنے والے کو یہ سب اچھا نہ لگا تو اس نے خط میں یہ سطر لکھ دی کہ باتیں تو اور بھی بہت لکھنا تھیں مگر میرے ساتھ ایک بے وقوف بیٹھا ہوا ہے وہ ساتھ ساتھ خط پڑھ رہا ہے۔ساتھ والے شخص نے بے ساختہ کہا نہیں جناب میں نے کچھ نہیں پڑھا آپ جو مرضی ہے لکھیں۔

یقین جانئے تب سے اب تک خط تو ایک طرف بغیر کسی کی اجازت دخل در معقولات کی کوشش نہیں کی ورنہ یار لوگ تو آرام سے کسی کے ہاں جا کر کتاب نوٹ بک یا کوئی بھی چیز اٹھا کر اسے پڑھنا یا پرکھ پرچول شروع کر دیتے ہیں، خط کے حوالے سے انہی دنوں ایک سنا سنایا چٹکلہ یہ بھی مزے لے لے کر محفلوں میں دوستوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیر دیتا تھا کہ محفل میں ایک صاحب جیب سے کوئی کاغذ نکالتے اسے الٹ پلٹ کر دیکھتے اور پھر واپس جیب میں رکھ دیتے جب وہ دو چار بار یہ حرکت کر چکے کسی نے پوچھا یہ کیا ہے تو فرمانے لگے کہ ایک دوست کا خط ہے آپ بھی دیکھ لیں اس نے خط لیا تو وہ کورا کاغذ تھا اس نے بھی الٹ پلٹ کر دیکھنے کے بعد کہا اس پر تو کچھ بھی نہیں لکھا ہوا،اس نے کہا جی ہاں در اصل آج کل ہماری بات چیت بند ہے، تاہم جس خط کے ان دنوں چرچے ہیں وہ کورا کاغذ نہیں ہے بلکہ بہت سے استفسارات کا کورا جواب ہے یہ اور بات کہ یار لوگ اسے ذرا بھی اہمیت دینے کو تیار نہیں ان کے نزدیک اب زمانہ خطوں کا ہے نہ شہزادوں کا اب تو زمانہ ’’ کیا خوب سودا نقد ہے اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے ‘‘ مگر خط باز ساجن منیر نیازی کی زبان میں یہ کہتے سنائی دیتے ہیں،
کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے
سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے

ہماری سماجی زندگی کے ساتھ ساتھ ادبی دنیا میں بھی خط کا خا صا اہم کردار رہا ہے اور ہے بلکہ اوائل عمر میں تو یار لوگ یہ بھی کرتے رہے ہیں کہ اگر ان کو کہیں سے کوئی رقعہ کوئی خط نہیں ملتا تو وہ دوستوں میں اپنی انا کی تسکین کو خود ہی اپنے آپ کو خط لکھتے اور پوسٹ کرتے اور دوستوں کی موجودگی میں کھول کر مزے لے لے کر پڑھتے اور اپنا احساس محرومی کم کرنے کی کوشش کرتے، اب بھی یہی ہو رہا ہے اور کسی بھی خصوصی پیش رفت کے بعد پوچھا جاتا ہے کہ سکرپٹ کس کا لکھا ہوا تھا۔ ایک زمانے میں خط پہنچانے کا کام معصوم کبوتر انجام دیتے، اور وہ صحیح آدمی تک پہنچ بھی جاتاپھر قاصد آئے تو خرابیاں آئیں اور جس کے پاس خط دے کر بھیجا وہ وہیں کا ہو رہا ،ایسے ہی ایک قاصد کو غالب نے مہذب انداز میں اس کا فرض یاد دلایا تھا۔
تجھ سے تو کچھ کلام نہیں لیکن اے ندیم
میرا سلام کہیو ، اگر نامہ بر ملے

خیر غالب کا کیا کہنا وہ تو خط دے کر کچھ زبانی پیغام بھی دیتے دیتے نامہ بر کے ساتھ ہو لیتے ہیں اور جب احساس ہوتا ہے تو کہہ اٹھتے ہیں
ہو لئے کیوں نامہ بر کے ساتھ ساتھ
یا رب اپنے خط کو ہم پہنچائیں کیا
اور یہی آوازیں اب بھی اٹھ رہی ہیں کہ کیا خط لکھنے والے شہزادے کو بلایا جاسکتا ہے یا نہیں اور بلایا جائے تو کیا وہ آنا پسند کریں گے یا ٹکا سا جواب دیتے ہیں اور پھر ایلچی سے اس کی باڈی لینگویج اور جواب کے لب ولہجے کے بارے میں استفسار کیا جاتا ہے۔ ٹھیک ہے اس نے آنے سے انکار تو کیا مگر کس طرح۔
اب ذرا تفصیل سے اے قاصدِ خوش رو بتا
پہلے اس نے کیا کہا،پھر کیا کہا،پھر کیا کہا
لیکن پہلے خط کے بعد دوسرے خط کا حوالہ بھی نیا نہیں ہے یار لوگ بلا وجہ شک کر رہے ہیں کہ یہ خط اگر تھا تو پہلے کیوں پیش نہیں کیاانہوں نے یقیناََ غالب کو نہیں پڑھا جس نے اس زمانے ہی میں اعتراف کیا تھا کہ پہلے خط کے جواب کا انتظار کئے بغیر ہی دوسرا خط لکھا گیا اور اس کی تاویل یہ پیش کی۔
قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں
میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں

یہ کام تو خیر ابو الکلام آزاد بھی کرتے رہے ہیں اور جواب کا انتظار تو ایک انہوں نے خط لکھے ضرور مگر پوسٹ بھی نہیں کئے کہ وہ جیل میں تھے جیل سے نکل کر وہ خطوط ’’غبارِ خاطر‘‘کے روپ میں سامنے آئے۔ قلم قبیلے کے لوگوں کے خطوط کی کوئی پرائیویسی نہیں ہوتی اس لئے سب انہیں پڑھتے ہیں ۔ بھلے سے وہ کسی کیٹس نے اپنی محبوبہ فینی کو ہی کیوں نہ لکھے ہوں وہی نرم ،گداز اور کومل لہجے کا شاعر جس نے کہا تھا کہ ’’ اس وسیع و عریض دنیا کے ساحلوں پر میں اکیلا کھڑا ہوں اور سوچتا ہوں کہ محبت اور شہرت سب بے کار ہے‘‘ اس کے باوجود وہ دن میں فینی کو دو خط لکھتا رہا، پہلا خط اور دوسرا خط گویا پہلے کے بعد دوسرا خط کی یہ روایت پرانی ہے یار لوگ ان خطوں کو بھی رابطے کے نت نئے طریقوں کے دور میں اسی طرح لیں جس طرح غالب نے بڑی سہولت کے ساتھ کہہ دیا تھا
خط لکھیں گے گر چہ مطلب کچھ نہ ہو
ہم تو عاشق ہیں تمہارے نام کے