بریکنگ نیوز
Home / کالم / عدلیہ اورجمہوریت :افہام وتفہیم!

عدلیہ اورجمہوریت :افہام وتفہیم!

پاکستان میں پارلیمانی جمہوریت اور عدلیہ کی ایک دوسرے سے وابستہ توقعات آسمان سے باتیں کر رہی ہیں قومی اسمبلی کے انتالیسویں اجلاس میں حکمران مسلم لیگ (نواز) اور تحریک انصاف کے اراکین نے ایک دوسرے پر حملہ آور ہو کر جو مثال قائم کی ہے‘ وہ پارلیمانی تاریخ کا حصہ بن چکی ہے قانون سازوں نے عدم برداشت کی انتہا کرتے ہوئے ایک دوسرے کی تواضع گھونسوں اور تھپڑوں سے کی جو ملک کی پارلیمانی تاریخ کے سیاہ ابواب میں ایک اور باب کا اضافہ تھا پوری قوم نے یہ تماشا دیکھا کہ گتھم گتھا اراکین نے ایک دوسرے کے گریبان بھی چاک کر ڈالے جبکہ کئی ارکان ڈیسکوں پرچڑھ کر ایک دوسرے کو گالیاں دیتے اور بیہودہ اشارے کرتے رہے اس دوران دونوں جانب کے بعض سمجھدار ارکان نے بیچ بچاؤ کی کوشش کی مگر انکی دال نہ گل سکی اور بالآخر قومی اسمبلی کے سکیورٹی سٹاف نے باہم گتھم گتھاارکان کو ایک دوسرے سے الگ کیا ہاؤس کے اندر اس لڑائی کا آغاز اسوقت ہوا جب وزیراعظم کیخلاف حزب اختلاف کی تحریک استحقاق کے محرکین کو بولنے کا موقع دیئے جانے کے معاملہ پر پیپلز پارٹی کے نوید قمر اور سپیکر ایاز صادق کے مابین مکالمہ چل رہا تھا جبکہ ایوان کا ماحول اس سے پہلے ہی خاصا کشیدہ ہو چکا تھا کیونکہ تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی کی تقریر کے دوران ایک دوسرے کے قائدین کے نام لیکر ’’گلی گلی میں شور ہے‘ چور ہے‘‘کی مقابلہ بازی والی نعرہ زنی نے ماحول کو گرمایا ہوا تھا اس نعرہ بازی کے دوران وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی نوید قمر سے بات کرنے کیلئے اپوزیشن بنچوں کی جانب بڑھے تو تحریک انصاف کے مراد سعید اور شہریار آفریدی اور آزاد رکن جمشید دستی نے ان سے الجھنے کی کوشش کی جبکہ مراد سعید نے شاہد خاقان کو گھونسہ دے مارا اسکے جواب میں حکومتی رکن معین وٹو نے تحریک انصاف کے شہریار آفریدی کو تھپڑ رسید کر دیا اور پھر تحریک انصاف کے امجد نیازی نے شاہد خاقان پر حملہ کر دیا اور اسکے ساتھ ہی دونوں جانب کے ارکان باہم گتھم گتھا ہو گئے۔

سپیکر نے اس ناخوش گوار واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے دوسری طرف سپریم کورٹ میں پانامہ کیس کی سماعت کے دوران حکمران نواز لیگ اور تحریک انصاف کے ارکان نے گزشتہ ایک ماہ سے عدالت کے باہر عدالت لگا کر ایک دوسرے پر تنقید سے جو ماحول بنا رکھا تھا اُس کا سپریم کورٹ نے بھی متعدد مواقع پر نوٹس لیا۔پانامہ کیس کی سماعت کے بعد روزانہ جس جارحانہ انداز میں کیس کی کاروائی کے حوالے سے ایک دوسرے پر پھبتیاں کسی جاتی ہیں‘ اس کے پیش نظر ان دونوں جماعتوں کے مابین کسی بھی وقت اور کہیں بھی گزشتہ روز جیسے کسی ناخوشگوار واقعہ کی توقع تھی بدقسمتی سے تحریک انصاف نے پارلیمنٹ میں کردار ادا کرنیکے بجائے پارلیمنٹ کے باہر دھرنوں اور سڑکوں پر احتجاجی مظاہروں کو اپنی سیاست کی بنیاد بنایا ہے جو بادی النظر میں تحریک انصاف کی جانب سے قوم کے منتخب فورم پارلیمنٹ کو تسلیم نہ کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔ عمران خان نے گزشتہ روز کے واقعہ پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے یہ کہہ کر پارلیمانی سیاست کی نفی کی کہ اس اسمبلی کی کیا ضرورت ہے جہاں حکومتی ارکان اپوزیشن پر حملہ آور ہو رہے ہوں۔

اگر عمران خان کو دوسرے ممالک کے منتخب ایوان تو کجا‘ اپنے ملک کی پارلیمانی تاریخ سے ہی آگاہی ہوتی تو وہ ایسے کسی ناخوش گوار واقعہ پر اسمبلی ہی کو ختم کرنے کے درپے نظر نہ آتے مگر وہ تو خود پارلیمانی سیاست پر یقین نہیں رکھتے اور جیسے تیسے صرف اقتدار کا حصول انکا ایجنڈہ ہے اسلئے انہیں منتخب ایوانوں میں اپنی پارٹی کی مثبت اور تعمیری سیاست کی کبھی سوجھتی ہی نہیں انکی پارلیمنٹ میں دلچسپی کا اس سے ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے وہ اس اسمبلی کے ساڑھے تین سال کے عرصہ میں صرف پانچ بار قومی اسمبلی میں آئے اور اس دوران بھی وہ صرف اپنی تقریر کے دوران ہی ہاؤس میں رہتے تھے جبکہ دھرنا تحریک کے دوران وہ اور ان کی پارٹی کے دوسرے ارکان قومی و پنجاب اسمبلی سے استعفے دیکر اڑھائی ماہ تک سڑکوں پر بیٹھے رہے اور پارلیمنٹ کو گالیاں دیتے رہے۔ اب بھی ہر بات پر واک آؤٹ کر کے اسمبلی سے باہر آ جانا پی ٹی آئی کے ارکان کا وطیرہ ہے چنانچہ جب وہ ہاؤس کے اندر ہوتے ہیں تو بھی پارلیمانی ادب آداب کو تج کر وہ ہاؤس کے اندر سڑکوں کی سیاست کے جلوے دکھاتے نظر آتے ہیں اور یہ افسوسناک صورتحال ہے کہ اس پارٹی میں موجود پرانے پارلیمنٹرین حضرات بھی اسی کلچر کے اسیر ہو چکے ہیں اگر منتخب ایوانوں کے اندر دھینگا مشتی اور تشدد کے ایسے واقعات جمہوریت کا حسن ہیں تو پھر منتخب ایوانوں کو تسلیم نہ کرنے کی بات کر کے جمہوریت کے اس حسن کو گہنایا نہیں جانا چاہئے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: افتخار احمد۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)