بریکنگ نیوز
Home / کالم / ٹرمپ عزائم

ٹرمپ عزائم

یونانی زبان میں ایک لفظ ہے KAKISTOS جس کا مطلب ہے ’’ بد ترین ‘‘ اس لفظ کو آگے جاکر لفظ کیکسٹو کریسی KAKISTO CRACY نکلا ہے یعنی بدترین لوگوں پر مشتمل حکومت ۔ کئی سیاسی مبصرین ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو بد ترین قسم کے لوگوں پر مشتمل انتظامیہ پکار رہے ہیں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ٹرمپ بعض بدترین امریکی صدور کی بدترین عادات کا مجموعہ ہے اور اسے دیکھ کر نکسن دیانتدار ‘ کلنٹن پاکباز اور بش سمارٹ نظر آتا ہے ۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ٹرمپ کی کابینہ کے کئی اراکین کو ان مناصب کا کوئی تجربہ نہیں کہ جو ان کے حوالے کئے جا رہے ہیں مثلاً وزیر خارجہ ریکسی ٹلرسن کا فارن ڈپلومیسی یا فارن افیئرز میں کوئی تجربہ نہیں انہوں نے جو اٹارنی جنرل لگایا ہے وہ بھی نسلی تعصب کا شکار فیڈرل جج ثابت ہوا ہے اسی طرح ہاؤسنگ اور تعلیم کے محکمے جن وزراء کو دیئے جا رہے ہیں انہیں اپنی اپنی فیلڈ میں رتی بھر تجربہ بھی نہیں ادھر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں بیٹھتے ہی تیزی سے جو چند فیصلے اپنے ابتدائی دنوں میں کئے ہیں ان سے اس بات کا عندیہ ملتا ہے کہ الیکشن میں انہوں نے امریکیوں سے جو وعدے و عید کئے تھے وہ ان کو پورا کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرینگے ۔ ٹرمپ امریکہ کو مختلف بین الاقوامی معاہدوں سے الگ تھلگ تو کر رہا ہے پر کیا اس نے یہ بھی سوچا ہے کہ اس سے مشرقی ایشیاء میں جو خلاء پیدا ہوگا اس کا فائدہ چین اٹھا سکتا ہے مشرقی ایشیاء کے کئی ممالک اس صورت میں چین کی طرف راغب ہوں گے۔

ٹرمپ یہ بھی چاہے گا کہ وہ اب ان سیاسی بیساکھیوں کو جاپان سے واپس لے لے کہ جو اس نے اسے 1945ء سے مہیا کر رکھی ہیں اور وہ اب از خود چین کے مقابلے میں کھڑا ہو۔ چینی جاپان کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ان کے دلوں میں جاپانیوں کیلئے کبھی بھی نرم گوشہ نہیں دیکھا گیا ۔ یہ تو تصویر کا ایک رخ ہے اور اسے ٹرمپ کے ناقدین میڈیا میں اچھال رہے ہیں اس کے برعکس ایک دوسرا نقطہ نظر بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ کونسی آفت آگئی ہے اگر ٹرمپ امریکہ اور اس کے شہریوں کو محفوظ کرنے کیلئے امریکہ کی سرحدات کو مضبوط کر رہا ہے کیا میکسیکو کے بارڈر سے امریکہ کے اندر دہشت گرد داخل نہیں ہوسکتے ؟ بعض لوگ تو ٹرمپ کے اس بیان کو سراہ رہے ہیں کہ جس میں ٹرمپ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ از خود میکسیکو کے بارڈر پر دیوار بنانے کے کام کی نگرانی کرینگے اس نقطہ نظر کے حامی لوگوں کے مطابق ہر ملک کو یہ حق حاصل ہے کہ سب سے پہلے وہ اپنے ملک کے مفاد اور اسکے شہریوں کی عزت اور جان و مال کی حفاظت کرے اور اگر ٹرمپ یہ نعرہ لگا رہا ہے کہ America Comes First تو اس میں کیا قباحت ہے؟

بعض لوگ تو یہ ارمان کرتے ہیں کہ کاش اس ملک میں بھی کوئی ایسا لیڈر آئے کہ جو ڈیورنڈ لائن کو بھی ایسا ہی مضبوط کرے کہ جس طرح ٹرمپ امریکہ اور میکسیکوکی بارڈر کو مضبوط کر رہا ہے اور وہاں ایک دیوار بنانے کا ارادہ رکھتا ہے بہر حال جتنے منہ اتنی باتیں ‘ آخر امریکہ کی اکثریت نے ٹرمپ کو الیکشن میں چنا ہے تنگ آمد بجنگ آمد آخر امریکہ کے لوگ اب اس قسم کی تبدیلی کے خواہاں ہوں گے کہ جس کا وعدہ الیکشن کی مہم میں ٹرمپ نے امریکیوں سے کیا تھا ویسے بعض سیاسی مبصرین اس خدشے کا اظہار کرتے ہیں کہ چونکہ ٹرمپ ایک انتہا پسند رہنما ہیں جوش میں ان کے ہاتھ سے کوئی ایسا فیصلہ نہ ہو جائے کہ جو دنیا میں تیسری جنگ عظیم کا پیش خیمہ بن جائے وہ ان کوہٹلر کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں کہ جس کے ہاتھوں یورپ میں لاکھوں لوگ فنا ہوگئے تھے اور اس کا اپنا انجام بھی خراب ہوا تھا‘ بہر حال آئندہ چند روز اس سمت کا واضح تعین کر دیں گے کہ جو ٹرمپ اپنانے والے ہیں۔