بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / نتیجہ خیز اقدامات کی ضرورت

نتیجہ خیز اقدامات کی ضرورت

آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے وطن عزیز میں چھٹی مردم وخانہ شماری میں مدد کیلئے منصوبے کی منظوری دیدی ہے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق اس مقصد کیلئے آرمی کے2لاکھ جوان خدمات انجام دینگے فوج کی تعیناتی صوبوں میں ترجیحات پر کی جائیگی فوج ضرورت پڑنے پر سول انتظامیہ کی معاونت کیلئے دستیاب ہوگی آئی ایس پی آر کے مطابق فوج ضرب عضب اور کراچی آپریشن جیسی دوسری سکیورٹی ذمہ داریاں بھی ادا کرتی رہے گی پاکستان میں آخری بار مردم شماری1998ء میں ہوئی جسکے بعد اس اہم قومی ذمہ داری کو نبھانے میں لاپرواہی کا مظاہرہ کیا جاتا رہا جس کا نوٹس سپریم کورٹ کو لینا پڑا اس طرح دستور کے مطابق10سال کے بعد ہونیوالی مردم شماری اب20سال بعد ہونے جارہی ہے اس اہم فریضے کی ادائیگی میں پاک فوج کی معاونت قابل اطمینان و ستائش ہے وطن عزیز میں اہم قومی امور کی انجام دہی میں سول سرکاری اداروں کی غفلت لاپرواہی اور فائلوں کو شٹل کاک کی طرح ایک دوسرے کی جانب پھینکے جانے کی روایت مجموعی طورپر حکومتوں کے اہم اعلانات اور اقدامات کو بے ثمر کردیتی ہے۔

مردم شماری میں تاخیر بھی ایسے ہی طرز عمل کا نتیجہ ہے سرکاری اداروں کی اسی روش کا اندازہ دستور میں18ویں ترمیم کے بعد کے کاموں سے لگایا جا سکتا ہے2010ء سے لیکر2017ء تک مجموعی طورپر17 وزارتیں صوبوں کو تفویض کی جانی تھیں لیکن برسرزمین عملی طورپر کوئی ایک وزارت بھی مکمل طورپر صوبوں کے حوالے نہ ہوسکی دوسری جانب مختلف محکموں کو نئے نام دیکر12نئی وزارتیں بنائی گئی ہیں اس طرح صوبوں کو منتقل ہونیوالے محکمے عملی طورپر ہوا میں معلق نظرآتے ہیں ڈیولوشن کے حوالے سے سینٹ کی فنکشنل کمیٹی کے چیئرمین میر کبیر احمد محمد شاہی کا کہنا ہے کہ 18ویں ترمیم کے ثمرات کیلئے قانون سازی کی جائے محکموں کی سست روی کا مظاہرہ قومی تعمیرکے منصوبوں میں بھی دیکھا جاتا ہے تو خدمات کی فراہمی میں حکومتی اعلانات پر عملدرآمد میں بھی اسی کی جھلک نظرآتی ہے حالات کا تقاضا ہے کہ مرکز اور صوبوں میں برسراقتدار حکومتیں اہم قومی امور سے متعلق ترجیحات کا تعین کریں اور پھران پر عملدرآمد کیلئے ٹائم فریم دیں تاکہ ثمرآور نتائج سامنے آسکیں۔
صفائی سے متعلق وارننگ

وزیراعلیٰ پرویزخٹک نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ناظمین صفائی پر خصوصی توجہ دیں بصورت دیگر کاروائی ہوگی وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ آئندہ سال مقامی حکومتوں کو مجموعی طورپر دیئے جانیوالے فنڈز کاحجم100ارب روپے تک پہنچ جائیگا کسی بھی ریاست میں میونسپل سروسز میں سرفہرست صفائی اور پینے کا صاف پانی ہی ہوتا ہے خیبرپختونخوا میں حکومت نے بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے بلدیاتی اداروں کو نہ صرف خطیر فنڈز دیئے بلکہ مختلف انتظامی اختیارات بھی فراخدلی سے دیئے گئے اس سب کے باوجود صوبائی دارالحکومت سمیت مختلف علاقوں میں صفائی کی صورتحال میں برسرزمین بہتری نظرنہیں آتی پشاور میں اگر بہتری کے آثار ہیں بھی تو وہ چند اہم سڑکوں اور علاقوں تک محدود ہیں اس ضمن میں ذمہ دار محکموں کو مشکلات بھی درپیش ہیں جن کا ازالہ ناگزیر ہے تاہم مہیا وسائل اور افرادی قوت کا صحیح استعمال بھی یقینی بنانا ہوگا اس مقصد کیلئے چیک اینڈ بیلنس کا ایسا نظام وضع کرنا ہوگا جس میں روزانہ کی بنیاد پر کارکردگی رپورٹ بمعہ فوٹوگرافس کے تیار ہواور وہ مختص ویب سائٹ پر جاری بھی ہوتاکہ لوگ خود اعلانات اور عملی اقدامات میں موازنہ کرسکیں۔