بریکنگ نیوز
Home / کالم / صدرٹرمپ کی تقریرمیں پنہاں پیغامات

صدرٹرمپ کی تقریرمیں پنہاں پیغامات

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے انتخابی وعدوں پر عمل کرتے ہوئے ابتدائی اقدام کے طور پر سات مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والے باشندوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کردی ہے۔ ان ممالک میں شام، عراق، ایران، صومالیہ، لیبیا اور یمن شامل ہیں جبکہ اپنے وطن سے بے دخل کئے جانے یا حکومتی مظالم سے عاجز آکر ملکوں کی خاک چھاننے والے مہاجرین کو جن میں غالب اکثریت مسلمانون ہی کی ہوتی ہے، امریکہ میں داخل ہونے کے ویزے جاری کرنے پر عارضی پابندی لگا دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے میکسیکن تارکینِ وطن کا امریکہ میں داخلہ مستقلاً بند کرنے کیلئے دونوں ملکوں کی سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔وائٹ ہاؤس کے مطابق نومنتخب امریکی صدر نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے بھی فون پر بات چیت کے دوران بھارت کو امریکہ کا سچا اور حقیقی دوست قرار دیا اور دہشت گردی کے خلاف مل کر لڑنے پر اتفاق کیا۔ اپنی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ تمام مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کردیں گے تاکہ جہادی ملک میں نہ آسکیں۔ سابق امریکی صدر باراک اوباما نے شام میں خانہ جنگی سے بے گھر ہونے والے شامی باشندوں کیلئے امریکی سرحدیں کھول رکھی تھیں امریکی صدر اور بھارتی وزیراعظم نے ایک دوسرے کو اپنے ملک کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں سربراہوں کے درمیان فون پر بات چیت بڑی گرم جوشی کے ماحول میں ہوئی اور گفتگو کے دوران معیشت، دفاع اور جنوبی اور وسط ایشیا میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر غور کیا گیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق نریندر مودی پانچویں غیر ملکی سربراہ ہیں جن سے صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ٹرمپ نے براہ راست بات کی ہے۔قبل ازیں وہ اسرائیل، میکسیکو، کینیڈا کے وزرائے اعظم اور مصر کے صدر سے بات چیت کرچکے ہیں ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کی تاریخ میں غالباً پہلے صدر ہیں جن کے انتخاب پر گرما گرم تنازعہ نے جنم لیا اور ان کے چناؤ پر غم و غصے کے اظہار کیلئے بڑے بڑے امریکی شہروں کے علاوہ دنیا بھر کے670 شہروں میں مظاہرے کئے گئے۔ صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد وہ عالمی مسائل کے بارے میں کیا پالیسی اختیار کرتے ہیں اس کا دنیا بھر میں شدت اور اشتیاق کے ساتھ انتظار کیا جارہا ہے۔ چین کے خلاف اقتصادی جنگ کا تو وہ پہلے ہی آغاز کر چکے ہیں۔ جنوبی ایشیا سے متعلق ٹرمپ کی متوقع پالیسی کا اشارہ قریبی مشیروں کے انتخاب میں ان کے فیصلوں سے ہوتا ہے جن میں زیادہ تر بھارت کی طرف جھکاؤ رکھنے والے تصور کئے جاتے ہیں۔ ون چائنہ کی اعلانیہ نفی کرتے ہوئے انہوں نے چین کی صدر سے بھی فون پر گفتگو کی ہے جس پر عوامی جمہوریہ چین نے شدید رد عمل کا اظہار بھی کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق لگتا ہے کہ نئے امریکی صدر خارجہ پالیسی میں بنیادی تبدیلی لاتے ہوئے نئی پالیسی میں سابق سوویت یونین والا مقام چین کو دینا چاہتے ہیں اور اس کے خلاف سرد جنگ میں نئی شدت لانے کے خواہاں ہیں۔ ٹرمپ نے اپنی حلف برداری کی تقریر میں امریکہ فرسٹ۔ امریکہ فرسٹ کو اپنی حکمت عملی کی اساس قرار دینے کا اعلان کیا تھا۔اس پر عمل کرتے ہوئے انہوں نے اوباما دور کی ماحولیات پالیسی کو یکسر تبدیل کردیا ہے اور پائپ لائنوں کے دو ایسے بڑے منصوبوں کی منظوری دی ہے جن کو ماحول پر ممکنہ مضر اثرات کے باعث اوباما انتظامیہ نے معطل رکھا ہوا تھا۔ انہوں نے امریکہ فرسٹ پر عمل کرتے ہوئے یہ حکم بھی دیا ہے کہ امریکہ میں جن منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا جائے گا ان کیلئے تمام ضروری سامان، آلات و مشینری کی خریداری امریکہ سے کرنا ضروری ہوگی۔ صدر ٹرمپ نے یہ حکم بھی جاری کیا ہے۔

کسی ملک، حکومت یا ملکی و غیر ملکی ادارے کو امریکہ میں کانگریس یا ریاستی گورنروں سے براہ راست رابطہ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ان کی تمام خط و کتابت کیلئے پہلے وائٹ ہاؤس کے قائم مقام چیف آف سٹاف یا سینئر مشیر کی کلیئرنس لازمی ہوگی۔پاکستان کے حوالے سے ٹرمپ کی تقریرمیں تجزیہ کار بین السطور ایک پیغام کی جھلک دیکھ رہے ہیں۔ اپنی تقریر میں انہوں نے کہا ہے کہ دنیا کو معلوم ہونا چاہئے کہ ہم بیرون ملک دشمنوں کی تلاش میں نہیں جاتے۔ ہمیں اس وقت بہت خوشی ہوتی ہے جب پرانے دشمن ہمارے دوست بنتے ہیں اور جب پرانے دوست ہمارے اتحادی بن جاتے ہیں۔اس پیغام میں ایک واضح اشارہ تو روس کی طرف ہے جسے امریکہ دشمن سے دوست بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اسی طرح 1970 کے دوران دیرینہ دشمن چین کو امریکہ کا دوست ملک بنانے میں پاکستان نے اہم ترین کردار ادا کرتے ہوئے صدر نکسن کا دورہ چین ممکن بنایا تھا جو امریکہ کیلئے بے حد خوشی و مسرت کا موقعہ تھا۔ اسی طرح پاکستان امریکہ کا بہت پرانا دوست ہے اور نائن الیون کے بعد سے بظاہر دہشت گردی کیخلاف جنگ میں امریکہ کا اتحادی ہے لیکن دیکھنے کی بات یہ ہوگی کہ صدر ٹرمپ اپنے ان اعلانات کو کس طرح اور کس حد تک عملی جامہ پہناتے ہیں۔ ٹرمپ نے بے شک دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا عزم ظاہر کیا ہے لیکن انہوں نے ریاستی دہشت گردی کا شکار ہونے والے کشمیری اور فلسطینی مسلمانوں سے کوئی اظہار یک جہتی نہیں کیا بلکہ الٹا ایسے لگتا ہے کہ نریندر مودی اور نیتن یاہوکے پرتواوول آفس میں براجمان ہوگئے ہیں ۔