بریکنگ نیوز
Home / کالم / برداشت کافقدان

برداشت کافقدان

گزشتہ جمعرات کے روز اس ملک کی دو اسمبلیوں میں لڑائی جھگڑے کے واقعات ہوئے اسلام آباد میں قومی اسمبلی اور پشاور میں خیبر پختونخوا اسمبلی کے اکثر اراکین آپس میں گتھم گتھا ہوئے نازیبا الفاظ کا انہوں نے آپس میں تبادلہ کیا اور ایک دوسرے کے گریبانوں پر ہاتھ ڈالا اور یہ تماشا پوری قوم نے ٹیلی ویژن سکرین پر دیکھا ‘ کیا تاثر لیا ہو گا ہماری جواں نسل نے ؟ یہ ہیں قوم کے منتخب نمائندے؟ یہ تو اچھا ہے کہ آج کل اسمبلیوں میں کرسیاں زمین میں نصب ہیں ورنہ یار لوگ کرسیاں اٹھا کر ایک دوسرے پر پھینک کر سر پھاڑنے سے بھی دریغ نہیں کرتے کیونکہ ماضی میں ایسا ہوا ہے سپیکروں کو تھوڑامتحرک ہونا چاہئے کیونکہ اسمبلی کے سپیکر کے پاس اختیارا ت ہیں کہ اگر وہ محسوس کرے کہ کوئی رکن اسمبلی ہاؤس کا تقدس پامال کر رہا ہے تو وہ (سارجنٹ ایٹ آرمز) کو حکم د ے سکتاہے کہ فساد برپا کرنے والے رکن اسمبلی کو جسمانی طور پر اسمبلی کے احاطے سے باہر نکال دیا جائے ‘ ہمارے منتخب اراکین اسمبلی جب اسمبلیوں کے فلور پر دھینگا مشتی کرتے ہیں تو جمہوریت کے دشمن عناصر کو یہ کہنے کا پھر موقع مل جاتا ہے کہ ہم نہ کہتے تھے کہ ہمارے لوگ اور ہمارا ملک پارلیمانی جمہوریت کے قابل ہی نہیں اس اعتراض کو بہانہ بنا کر ماضی میں کئی مرتبہ فوجی آمروں نے اس ملک سے جمہوریت کی بساط لپیٹی تھی ہمارے اراکین اسمبلی کو تربیتی اکیڈمیوں میں تربیت دی جائے ان کو ہاؤس آف کامنز پر دستاویزی فلمیں دکھائی جائیں تاکہ ان کو پتا چلے کہ پارلیمانی جمہوریت کیسے چلائی جاتی ہے ٹھیک ہے شیم شیم کے نعرے وہ بھی لگاتے ہیں لیکن ان میں حوصلے اور برداشت کا اتنا فقدان نہیں کہ جتنا ہمارے اراکین میں ہے خواتین اراکین اگر آپس میں الجھ پڑیں تو وہ ایک دوسرے کے سر سے چادریں چھین لیتی ہیں اور مرد اگر آپس میں مشت و گریبان ہو جائیں۔

تو وہ ایک دوسرے کے لباس پھاڑ دیتے ہیں آخر دنیا کو ہم جگ ہنسائی کا موقع کب تک دیں گے والٹےئر ایک مشہور یورپی فلاسفر گزرا ہے اس نے کہا تھا ’’ یہ ضروری نہیں کہ میں ہر اس بات سے اتفاق کروں جو تم کہتے ہو لیکن جہاں تک تمہارے کہنے اور بولنے کا حق ہے اس کا دفاع کرنے کیلئے میں اپنی جان کی بازی لگا سکتا ہوں ‘‘ کسی کو حوصلے سے سننا اور پھر اس کی تقریر کا دلائل سے جواب دینا تہذیب یافتہ لوگوں کا شیوہ ہو تا ہے اراکین پارلیمنٹ کو یہ بالکل زیب نہیں دیتاکہ وہ ایک دوسرے کو تھپڑ رسید کریں اس طرح تو سبزی منڈیوں میں بھی کوئی آپس میں نہیں لڑتا کہ جس طرح اسمبلیوں میں ہمارے اراکین آپس میں جھگڑتے ہیں خدا لگتی بات یہ ہے کہ آج ہمیں حسین شہید سہروردی‘ میاں ممتاز دولتانہ ‘ خان عبدالولی خان ‘ خان عبدالقیوم خان ‘ غوث بخش بزنجو‘ ملک معراج خالد‘ مولوی فرید‘ قاضی حسین احمد ‘ مفتی محمود عبدالصمداچکزئی‘ جیسا مزا ج رکھنے والے رہنما اپنی اسمبلیوں میں نظر نہیں آ رہے ۔

ان میں سیاسی شعور‘ کا بھی فقدان نظر آ رہا ہے اور ان کی قومی اور بین الاقوامی امور پر گرفت بھی کمزور ہے ہمارا خیال نہیں کہ ان میں کافی لوگوں کو پڑھنے لکھنے کا شوق بھی ہو ‘ آج کل من حیث القوم ہم حوصلہ اور برداشت کھو بیٹھے ہیں کچھ عرصہ پہلے تک ہم میں سے کسی نے سوچا تک نہ تھا کہ عدالتوں میں وکلا ء‘ ججوں کو صرف اس لئے ماریں پیٹیں گے کہ وہ ان کے موکل کے حق میں فیصلہ نہیں دے رہے یا وکلاء برادری سے تعلق رکھنے والے وکلاء عدالت کے اندر ایک دوسرے پر ہاتھ ڈالیں گے لیکن آج یہ گنہگار آنکھیں اس قسم کے ماجرے روزانہ دیکھ رہی ہیں دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے اور ایک ہم ہیں کہ زندگی کے ہر شعبے میں روبہ زوال ہیں بنچ اور بار کے درمیان تعلقات نہایت خوشگوار ہوا کرتے تھے اور مجسٹریٹ اور وکیل میں شاذ ہی کبھی کوئی جھگڑا ہوتا یا کسی بات پر کشیدگی نظر آتی یہ ہمیں کیا ہو گیا ہے ؟