بریکنگ نیوز
Home / کالم / اصلاحات برائے قبائلی علاقہ جات

اصلاحات برائے قبائلی علاقہ جات


وزیراعظم نواز شریف کو حقیقی معنوں میں اِس بات کا اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے 27ہزار 224 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلی کم وبیش چالیس لاکھ آبادی والے قبائلی علاقوں کی قسمت کا فیصلہ کر دیا۔ یہ علاقے پاکستان کی آبادی کے بمشکل تین فیصد رقبے پر محیط ہیں اور یہاں ملک کی کم و بیش 2فیصد آبادی رہتی ہے۔ امریکہ کے سابق صدر بش نے قبائلی علاقوں کے بارے کہا تھا کہ یہ ’’دنیا کے انتہائی خطرناک علاقے ہیں۔‘‘اسی طرح امریکی سی آئی اے کے کے سابق ڈائریکٹر مائیکل ہائیڈن نے بھی کہا تھا کہ قبائلی علاقے القاعدہ تنظیم کا مرکز ہیں جہاں واضح خطرات موجود ہیں۔ امریکی فوج کے سابق چیف آف سٹاف ایڈمرل مائیکل مولن کے بقول اگر امریکہ پر کہیں سے آئندہ حملہ ہوگا تو وہ قبائلی سرزمین ہی ہوگی۔ عالمی فوج کی قیادت کرنے والے جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ امریکہ پر ستمبر دو ہزار گیارہ (نائن الیون) کے حملے (پاکستان کے) قبائلی علاقوں ہی کی پیداوار ہیں!وزیراعظم نواز شریف کوشش کر رہے ہیں کہ قبائلی علاقہ جات میں استحکام آئے۔ آئین کا آرٹیکل 247 کہتا ہے کہ ’’مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے کسی بھی قانون کا اطلاق قبائلی علاقوں پر نہیں ہوتا۔‘‘آئین کی اس شق کو بھی ختم ہونا چاہئے۔ 1901ء میں ’فرنٹیئر کرائمز ریگولیشنز (ایف سی آر)‘ تشکیل دی گئیں جن کے تحت قبائلی علاقوں کو انتظامی طور پر چلایا جاتا ہے۔ ایف سی آر نامی قواعد کے اس مجموعے میں جرائم کا انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی اطلاق ہوتا ہے جس کیلئے ’ایف سی آر‘ کی شق نمبر چالیس موجود ہے اور اس کا بھی خاتمہ ہونا چاہئے کیونکہ اِسی شق کے تحت کسی قبائلی علاقے کی ’پولیٹیکل انتظامیہ‘ کو یہ اختیار مل جاتا ہے کہ وہ کسی بھی شخص کو بنا اس کا جرم یا وجہ بتائے تین سال تک قید رکھ سکتی ہے اور یہ قانون قبائلی علاقوں کے قواعد (ایف سی آر) میں سب سے زیادہ بدترین ہے۔

یاد رہے کہ ’ایف سی آر‘ کے تین باب‘ 64 شقیں اور 3 شیڈولز ہیں۔ ان سب سے خلاصی بھی ضروری ہے۔آئینی طور پر دیکھا جائے تو قبائلی علاقے پاکستان کا حصہ ہیں لیکن اِن کی آئینی حیثیت ملک کے دیگر حصوں سے مختلف رکھی گئی اور قیام پاکستان سے آج تک قبائلی علاقوں میں انتظامی نظم و نسق بھی جداگانہ رکھا گیا اگر ہم قبائلی علاقوں کا تعارف کریں تو اس کے رہن سہن اور یہاں کے رہنے والوں میں تین باتیں مشترک پائی جاتی ہیں۔ غربت‘ ناخواندگی اور بطور ورثہ (احساس) محرومی۔ جب ہم قبائلی علاقوں میں تعمیروترقی کا احوال دیکھتے ہیں تو یہ باقی ماندہ پاکستان سے بہت پیچھے ہیں۔ یہاں پاکستان کے دیگر حصوں کے مقابلے میں زیادہ ناخواندہ لوگوں کی آبادی ہے۔ المیہ یہ بھی ہے کہ قبائلی علاقوں کو پاکستان کے سیاسی‘سماجی‘ اقتصادی اور آئینی رائج الوقت طورطریقوں سے الگ رکھا گیا۔ پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے انتخابی منشور میں وعدہ کیا گیا تھا کہ قبائلی علاقوں کی حیثیت پاکستان کے دیگر حصوں کے مساوی کی جائے گی۔

اور ان قبائلی علاقوں کے رہنے والوں کو پاکستان کے دیگر حصوں کی طرح ’’سیاست کے قومی دھارے‘‘ میں شامل کیا جائے گا۔ اطلاعات ہیں کہ آئندہ قومی وسائل کی صوبوں میں تقسیم کے لئے ہونے والے ’نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی)‘ اجلاس میں وفاقی حکومت قبائلی علاقوں کے لئے 100 ارب روپے مختص کرنے جا رہی ہے۔ نواز لیگ حکومت پہلے ہی قبائلی علاقوں میں آبپاشی اور پانی کی فراہمی کے 13 ترقیاتی منصوبوں پر کام کا آغاز کر چکی ہے۔ قبائلی علاقوں میں تیزرفتار ترقی اور انتظامی و سیاسی اصلاحات کے لئے متعدد اقدامات تجویز کئے گئے ہیں جن میں یہ بات بھی شامل ہے کہ قبائلی علاقوں کو خیبرپختونخوا صوبے میں ضم کردیا جائے۔قبائلی علاقوں میں رہنے والے چالیس لاکھ افراد کے لئے گزربسر کرنے کے پانچ ذرائع ہیں۔ اشیاء کی غیرقانونی نقل و حمل (سمگلنگ)‘ گاڑیوں کی چوری‘ منشیات فروشی کا دھندا‘ غیرقانونی اسلحے کا وسیع کاروبار یا پھر انتہاء پسند جماعتوں کا حصہ بن جانا۔ کیا ’نواز لیگ‘ قبائلی علاقوں کے رہنے والوں کی مجبوریوں اور محرومیوں کا ازالہ کرے گی؟ (بشکریہ دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)