بریکنگ نیوز
Home / صحت / بچوں میں 14 نئے جینیاتی عارضوں کی دریافت

بچوں میں 14 نئے جینیاتی عارضوں کی دریافت

کیمبرج۔ ماہرین نے ایک بہت بڑے مطالعے کے بعد 14 ایسے جین دریافت کئے ہیں جو بچوں میں پیدائشی نقائص اور امراض کی وجہ بن سکتےہیں۔

اس مطالعے میں 14 نئی جینیاتی تبدیلیوں اور نقائص کو نوٹ کیا گیا ہے جو پیدائشی عوارض، جسمانی خامیوں اور بیماریوں کی وجہ بنتے ہیں۔ پوری دنیا میں تین لاکھ بچے جینیاتی مسائل کی وجہ سے لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ ان امراض میں نشوونما کے مسائل، اعصابی خرابی، دل کے عارضے، آٹزم، ڈاؤن سنڈروم یا ذہنی صلاحیتوں کا کم ہونا شامل ہیں۔ تاہم اب ماہرین نے ان کی وجہ بننے والے بعض جین دریافت کئے ہیں۔

اس مطالعے کا نام ڈی ڈی ڈی رکھا گیا ہے جس کا مطلب ’’ڈیسائفرنگ ڈیولپمنٹل ڈس آرڈرز‘‘  ہے  اور اس میں آج دستیاب اعلیٰ ترین ٹیکنالوجیز استعمال کی گئی ہیں۔ اس مطالعے کو بچوں کے پیدائشی امراض کا سب سے بڑا جینیاتی سروے کہا جاسکتا ہے۔ ڈی ڈی ڈی میں برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کے 200 جینیات دانوں نے 20 ہزار سے زائد جین کا بغور مطالعہ کیا۔ یہ جین 4 ہزار خاندانوں اور بچوں کے تھے اور اس مطالعے کی تفصیل برطانوی سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہوئی ہے۔

ڈی ڈی ڈی سروے کا اہم کام کیمبرج میں ویلکم ٹرسٹ سینگر انسٹی ٹیوٹ میں کیا گیا ہے اور اس تحقیق کے اہم ماہرین ڈاکٹر میتھیو ہرلس اور جیریمی مک رائی ہیں۔ ماہرین نے اس کے لیے 4293 خاندانوں کے جین کا مطالعہ کیا ہے اور ان میں کوئی نہ کوئی جینیاتی عارضہ موجود تھا۔

اس مطالعے کو انجام دینے کے لیے ایکزوم سیکوئنسنگ استعمال کی گئی تھی جس میں انسانی ڈی این اے کے وہ علاقے دیکھے جاتے ہیں جو ایسے پروٹین بناتے ہیں جو کسی قسم کا عارضہ یا بیماری پیدا کرسکتےہیں۔ اس سروے کے نتائج کا طبی جائزہ بھی لیا گیا اور پہلے سے موجود ہزاروں کیسز سے ان کا موازنہ کیا گیا۔

مطالعے سے معلوم ہوا کہ صرف برطانیہ میں سالانہ چار لاکھ بچے پیدائشی عارضوں اور امراض کے شکار ہوتے ہیں جس کی وجہ جینیاتی ہوتی ہے۔ 42 فیصد شرکا کے پروٹین میں ’’ڈی نووو‘‘ میوٹیشن (تبدیلی) دیکھی گئی ۔

ماہرین کے مطابق اس سروے سے ایک جانب تو نئی جینیاتی بیماریوں پر روشنی ڈالنے میں مدد ملے گی تو دوسری جانب ان کے بہتر تدارک کی راہیں بھی کھلیں گی۔