بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / سپریم کورٹ نے نوازشریف کیخلاف ماضی میں بڑی نرمی دکھائی ،اعتزاز احسن

سپریم کورٹ نے نوازشریف کیخلاف ماضی میں بڑی نرمی دکھائی ،اعتزاز احسن

لاہور۔پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنمااعتزاز احسن نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے میاں نوازشریف کیخلاف ماضی میں بڑی نرمی دکھائی ہے اب توقع کرتے ہیں وہ انصاف پر مبنی فیصلہ دے گی، پچاس ، پچاس کروڑ روپے کے گفٹ باپ بچوں اور بچے باپ کو دے رہے ہیں ،کوئی بھی کسی عربی سے خط لے کر اسے 10 کروڑ دیدے، اس طرح تو ہر کالادھن سفید ہو جائے گا،کون سا ایف آئی اے اور کون سا نیب ایسے کاروبار کو جائز تسلیم کر سکتا ہے جس کی بینکنگ ٹرازیکشن کا ثبوت ہی نہ ہو۔لاہور ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ شریف فیملی نے قطری فیملی کے ساتھ اربوں روپے کا کاروبار کیا جس کا حاصل 8 ارب روپے تھا۔

سارا کاروبار کیش میں کیا گیا اور لاکھوں ڈالر بوریوں میں ڈال کر گدھوں پر لاد کر آتے جاتے رہے ، ان پیسوں کی گنتی کون کرتا رہا اور شریف خاندان کا کون سا فرد اس سارے عرصے کے دوران قطر میں بیٹھ کر کاروبار کی دیکھ بھال کرتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ قطری شہزادے کا خط اوپن منی لانڈرنگ کا اعتراف ہے اور یہ منی لانڈرنگ کیلئے ہر بزنس مین کو سہولت پیدا کر سکتا ہے، کوئی بھی کسی عربی سے خط لے کر اسے 10 کروڑ دیدے، اس طرح تو ہر کالادھن سفید ہو جائے گا۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ عجیب بات ہے پورا خاندان ایک دوسرے کو اربوں روپے کے تحائف دے رہا ہے ، منی ٹریل قطری کے خطوں سے نہیں بینکوں کے کھاتوں سے بنے گی اور شریف خاندان کے تمام افراد کے بینک اکانٹس کی چھان بین نہ ہوئی تو منی ٹریل کا پتہ لگانا ناممکن ہے ۔

انہوں نے کہا کہ دیگر فریقین پر بار ثبوت اتنا ہی تھا کہ فلیٹ ان کی ملکیت ثابت کر دیں اور اب بار ثبوت شریف خاندان پر ہے کہ وہ ثابت کریں کہ یہ فلیٹ جائز ذرائع سے لئے گئے۔ اور جائز ذرائع وہ ہوتے ہیں جو بینک کی ٹرانزیکشن کے ذریعے ثابت ہو سکے، اگر سپریم کورٹ نے کیش ٹرانزیکشن کو تسلیم کر لیا تو پھر ایف بی آر اور سی بی آر کا سارا نظام تباہ ہو جائے گا۔ شریف خاندان نے یہ کس قسم کی فنانشل انارکی اور مالیاتی طوائف الملوکی پیدا کر دی ہے۔ کون سا ایف آئی اے اور کون سا نیب ایسے کاروبار کو جائز تسلیم کر سکتا ہے جس کی بینکنگ ٹرازیکشن کا ثبوت ہی نہ ہو۔اس موقع پر انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں نے اپنے بیٹے کو گزشتہ سال 30 لاکھ روپے گفٹ کیا اور وہ بینک کے ذریعے دیا کیونکہ انکم ٹیکس افسر نے کہا کہ اگر کیش دیدیا تو اسے ہم گفٹ تسلیم نہیں کریں گے بلکہ آمدن تسلیم کریں گے اور اس پر ٹیکس عائد ہو گا ، اگر آپ بیٹے کو گفٹ دینا چاہتے ہیں تو بینک ٹرانزیکشن تو ہم گفٹ نہیں آمدن مانیں گے اور اس پر ٹیکس لگے گا، اگر بیٹے کو گفٹ دینا ہے تو چیک کے ذریعے دیں، بینکنگ ٹرانزیکشن کے ذریعے دیں۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ معاملہ عدالت میں ہے اور فیصلہ بھی عدالت ہی کرے گی لیکن ہم اس معاملے کو پارلیمنٹ میں بھی ضرور اٹھائیں گے ، سپریم کورٹ کے تحفظات سے لگتا ہے کہ میاں نوازشریف کی جانب سے نرمی دکھائی جارہی ہے ،1998ء میں بھی چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے بغاوت کی ، نوازشریف کے حق میں دس سال کی معیاد ہیلی کاپٹر کیس میں کم کردی ، سپریم کورٹ نے حدیبیہ پیپرز مل پر اسحاق ڈار کے بیان کو نظرانداز کیا لیکن آج پھر اس پر جرح ہورہی ہے ، ماضی میں سپریم کورٹ نے نوازشریف کے لئے بڑی نرمی دکھائی لیکن اب توقع کرتے ہیں کہ وہ انصاف پر مبنی فیصلہ دے گی اور 28سال کی منی ٹریل کو تسلیم نہیں کرے گا۔