بریکنگ نیوز
Home / کالم / اچھے فاسٹ باؤلروں کا فقدان

اچھے فاسٹ باؤلروں کا فقدان

ہم ایک جذباتی قوم ہیں جس کا مظا ہرہ کسی نہ کسی شکل میں روزانہ دیکھنے کو ملتارہتا ہے ‘ کھیلوں میں بھی اس کی جھلک نظر آہی جاتی ہے کھیل ‘ کھیل ہوتا ہے اور اسے صرف کھیل ہی تصور کرنا چاہئے عزت اور بے عزتی کامسئلہ نہیں بنانا چاہئے دوسرے کھیلوں کے مقابلے میں اس ملک میں عرصہ دراز سے کرکٹ کا غلغلہ ہے اگر ہماری کرکٹ ٹیم یا اس کا کوئی کھلاڑی کسی سیریز میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر دے تو ہم اسے آسمان پر بٹھا دیتے ہیں دن رات اس کی شان میں میڈیا پر قصیدے پڑھتے ہیں لیکن اگر وہ کسی جگہ اچھی کارکردگی کامظاہرہ کسی وجہ سے نہ کر سکیں تو اس صورت میں پھر ہم انہیں زمین پر ایسی پٹخنیاں دیتے ہیں کہ ان کی ہڈی پسلی توڑ دیتے ہیںآج کل پاکستان کی کرکٹ ٹیم پر سپورٹس میڈیا کا نزلہ گرا ہوا ہے کیونکہ وہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے دورے سے بے نیل مرام لوٹی ہے اسے ہمارا میڈیا بے نقط سنا رہا ہے ہماری ٹیم میں مصباح الحق ‘ یونس خان ‘ شعیب ملک اور حفیظ جیسے جو بوڑھے گھوڑے ہیں ان کو بین السطور مشورے دیئے جا رہے ہیں کہ بھئی اب بہت ہو چکی وہ خود ہی اب کرکٹ سے سنیاس لیکر ایک طرف کو ہو جائیں تو بہتر ہے اس قسم کا مطالبہ کرنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ لگی روزی پر کون لات مارتا ہے اس ملک میں ریٹائر لوگوں کو بھلا کون گھاس ڈالتا ہے تب ہی تو ان میں اکثر کھلاڑی سردست ریٹائر ہونا نہیں چاہتے ان کابھی اصرار ہے کہ گوہاتھ میں جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے رہنے دوابھی ساغر و مینا میرے آگے‘ کھیلوں میں ہار جیت اور نشیب و فراز کا سامنا کرنا پڑتا ہے ہر میچ جیتا نہیں جا سکتا اور ہرکھلاڑی سے یہ توقع کرنا بھی عبث ہے کہ وہ ہر میچ اچھا کھیلے گا بریڈمین‘ ہٹن‘ سوبرز‘ ویورچرڈز‘ گواسکر‘ ٹنڈولکر‘ جاوید میانداد اورکوہلی ہر ہما شما نہیں ہو سکتا کہ وہ ہر میچ میں عمدہ کارکردگی دکھائے ہماری بیٹنگ اور باؤلنگ حالیہ دورہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں اس لئے مطلوبہ معیار پر پورا نہ اتر سکی کہ ہم ایک عرصے سے امارات کی پچز پر کھیل رہے ہیں کہ جن میں اور آسٹریلیا‘ نیوزی لینڈ‘ جنوبی افریقہ‘ انگلستان وغیرہ کی پچز میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

امارات میں ہی تواتر سے کھیلنے سے ہمیں فائدہ کے بجائے نقصان زیادہ ہوا ہے ہم امارات کی پچزپر تو کافی کامیاب تھے لیکن جب ہم نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کی پچز پر کھیلے تو ہماری اصلیت سامنے آ گئی اب پچھتانے سے کیا فائدہ جب چڑیاں کھیت کوچگ گئی ہیں ایک دوسرے کو اپنی شکست کیلئے مورد الزام ٹھہرانا ٹھیک نہ ہو گا‘ بوڑھے گھوڑوں کو بے شک اب رخصت ہونا چاہئے یہ مفروضہ غلط ہے کہ ان کے بغیر ہماری ٹیم تجربہ کار لوگوں سے خالی ہو جائے گی آخر کب تک اس مفروضہ کی آڑ میں ہم ان کھلاڑیوں پر تکیہ کرتے رہیں گے کہ جن کو آج سے دو برس پہلے ریٹائر ہو جانا چاہئے تھا لیکن جو سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے آج بھی کھیل رہے ہیں ان کی جگہ نئے کھلاڑیوں کو ٹیم میں جگہ دیکر 2019ء کے ورلڈ کپ کے لئے ابھی سے گروم کیا جا سکتا ہے ہماری تما م ترتوجہ اب آئندہ ورلڈ کپ کی تیاریوں پر مرکوز ہونی چاہئے خوش قسمتی سے ہمارے پاس بابراعظم‘ شرجیل‘ اسدشفیق ‘سرفراز کی شکل میں جارحانہ بلے بازی کرنیوالے جواں سال بلے باز موجود ہیں ۔

ہاں ہمیں فاسٹ باؤلنگ کے ڈیپارٹمنٹ کو مضبوط کرنا ہوگا ایک آدھ فاسٹ باؤلر کو چھوڑ کر ہمارے پاس اس معیار کے تیز رفتار باؤلر موجود نہیں جیسا کہ اپنے وقتوں میں عمران خان ‘ سرفراز نواز ‘ وسیم اکرم ‘ وقار یونس یا شعیب اختر ہو ا کرتے تھے اس فیلڈ میں قحط الرجال ہے اور خدا لگتی یہ ہے کہ پی سی بی ابھی تک باوجود کوشش کے ایسے فاسٹ باؤلر دریافت نہیں کر سکی کہ جن کی جارحانہ تیز باؤلنگ سے دیگر ممالک کی کرکٹ ٹیموں کے بلے بازوں میں دہشت پھیل سکے ایک عرصے تک ویسٹ انڈیز ون ڈے کرکٹ پر محض اس لئے راج کرتا رہا کہ اس کے پاس 6 سے زیادہ تیز رفتار باؤلر تھے جن کو کھیلنے کے لئے کافی بڑا دل گردہ درکار تھا جس دن سے وہ تیز رفتار باؤلر ریٹائر ہوئے ویسٹ انڈین کرکٹ زوال پذیر ہوگئی۔