بریکنگ نیوز
Home / کالم / انصاف حسب توقعات!

انصاف حسب توقعات!

پاکستان کے سیاسی اور آئینی حالات مشکل دور سے گزر رہے ہیں چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ’’عدلیہ کسی دباؤ کے بغیر فیصلے کرنے کی پابند ہے بنیادی حقوق پر عملدرآمد کرانا عدلیہ کا فرض ہے۔‘‘سارک لاء تنظیم کی پچیسویں سالگرہ کے موقع پر چیف جسٹس جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ آئین نے عدلیہ کو اختیار دیا ہے انتظامیہ کو اختیارات کے تجاوز سے روکے۔ ہماری بنیادی ذمہ داری جلد اور تیز رفتار انصاف کی فراہمی ہے مقدمات کے غیر ضروری التوا سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے جبکہ انصاف ہوتا بھی نظر آناچاہئے۔ جدید دور میں ذرائع ابلاغ کی اہمیت اور افادیت دو چند ہوئی ہے‘ گو سوشل میڈیا کی کچھ قباحتیں سامنے آئی ہیں تاہم یہ میڈیا بھی کئی معاملات میں روایتی میڈیا کا معاون ثابت ہوا ہے معاشرے میں انصاف کی فراہمی کیلئے میڈیا عدالتی معاون کی حیثیت اختیار کر چکا ہے عدلیہ نے کئی سوموٹو میڈیا کی رپورٹس پر لئے ہیں مشرف دور میں سٹیل ملز کوڑیوں کے بھاؤ فروخت کی جا رہی تھی‘ جس پر سپریم کورٹ نے سوموٹو لیتے ہوئے حکومت کو فروخت سے منع کر دیا اس وقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار چودھری تھے انکے خلاف صدر جنرل پرویز مشرف کے ایکشن کی وجہ حکومت کو سٹیل مل کی نجکاری سے روکنا بھی تھا جسٹس افتخار چودھری کی عمومی شہرت دباؤ قبول نہ کرنے والے جج کی تھی جس کیلئے انہیں اور ساتھی ججوں کو قید اور نظربندی جیسی سخت آزمائش اور صعوبتوں سے گزرنا پڑا۔ پاکستان کی عدلیہ میں بے لاگ اور جرات سے فیصلے کرنے والے جج ہر دور میں رہے تاہم دباؤ قبول نہ کرنے کے حوالے سے عدلیہ کی تاریخ درخشاں و تابناک نہیں ہے۔

جسٹس منیر کی مولوی تمیزالدین کیس میں نظریہ ضرورت کی ایجاد بعد میں مارشل لاؤں کو تحفظ دینے کا باعث بنی۔ جسٹس انوارالحق بھٹو کیس میں دباؤ اور مصلحتوں کا شکار ہوئے جس کا اعتراف مرحوم جسٹس نسیم حسن شاہ نے اِن الفاظ میں کیا۔ ’’ہم پر بھٹو کیس میں دباؤ تھا۔‘‘شاید ایسے اعتراضات کی بناء پر بھٹو کی پھانسی کو جوڈیشل مرڈر بھی کہا جاتا ہے اس کیس میں جسٹس صفدر شاہ دباؤ کو خاطر میں نہیں لائے تھے‘ انہوں نے اختلافی نوٹ لکھا جس کی پاداش میں ان کے خلاف ایکشن کیا گیا تو انہیں ملک سے راہ فرار اختیار کرنا پڑی یہ بھی ہماری عدلیہ میں ہوا کہ حکمرانوں کے فون اور چٹوں پر فیصلے کئے جاتے رہے۔عدلیہ کے پاس آئین اور قانون کی تفویض کردہ بہت بڑی پاور ہے‘ یہ بلا امتیاز انصاف کی فراہمی اور عملداری کے لئے استعمال ہو تو وطن عزیز ترقی و خوشحالی کی منزلیں طے کرتا چلا جائے دہشتگردی کے بعد ملک کا سب سے بڑا ناسور کرپشن ہے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کہتے ہیں کہ پاکستانیوں کے غیر ملکی بینکوں میں دو سو ارب ڈالر ناجائز ذرائع سے کما کر جمع کرائے گئے ہیں! نیب کے سابق چیئرمین فصیح بخاری اور سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے اپنے اپنے ادوار میں باور کرایا کہ ملک میں روزانہ دس سے چودہ ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے پانامہ اور بہاماس لیکس بھی کھربوں ڈالر کی کرپشن کے شاہکار ہیں۔ نیب نے تین کھرب روپے کے قریب رقوم پلی بارگین کے ذریعے ریکور کرائی ہیں۔ جن لوگوں سے یہ ریکوری ہوئی‘ ان سے لوٹ مار کی پائی پائی وصول کی جاتی تو یہ رقوم دس گنا زیادہ ہو سکتی تھیں ایک سو پچاس میگا کرپشن کیسز کی رپورٹ نیب نے سپریم کورٹ میں پیش کی تھی اسکے بعد چیئرمین نیب کو دھمکیاں دی گئی جن پر شاید وہ مرعوب ہو گئے سپریم کورٹ سے عوام کی امیدیں وابستہ ہیں ۔

کہ وہ ایک سو پچاس میگا کرپشن کیسز کے حوالے سے معاملے کو بلاتاخیر منطقی انجام تک پہنچائے گی پاکستان کے انصاف کے سب سے بڑے فورم سے قوم کو اور بھی بہت سے امیدیں ہیں ہر چیف جسٹس نے دباؤ میں آئے بغیر بلا امتیاز اور بلاتاخیر فیصلے کرنے کی اپنے اپنے دور میں یقین دہانی کرائی چیف جسٹس میاں ثاقب نثار بھی متعدد بار ایسا کہہ چکے ہیں انکے پاس اپنے اقوال پر عمل کرنے کیلئے مناسب وقت ہے۔ بلاامتیاز فیصلے کرنا تو عدلیہ کی اوّل و آخر ذمہ داری ہے بلاتاخیر فیصلوں میں لوئر سے ہائرکورٹس تک فعالیت نظر آنی چاہئے۔ اصغر خان کیس نوے سے التوا میں ہے ایسے کتنے ہی کیس ہوں گے ٹریبونلز کے فیصلوں میں نا اہل ہونے والے پانچ سال سٹے آرڈر پر گزار دیتے ہیں۔ تاریخ پر تاریخ دیکر اور لیکر دہائیوں تک مقدمات چلتے ہیں اس کا ذکر فاضل چیف جسٹس سپریم کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ نے ایک ہی روز مختلف مواقع پر اپنے خطابات میں کیا ہے پوری دنیا میں تیس سے چالیس فیصد مقدمات مصالحتی مراکز کو بھیجے جاتے ہیں ہمیں سٹے کلچر سے نکل کر نئی سوچ اپنانا ہوگی مصالحتی سسٹم کی حوصلہ افزائی کی ہر دور میں ضرورت رہی ہے لوگ اپنی سطح پر معاملات طے کریں تو عدلیہ کا بوجھ کم ہو سکتا ہے ۔(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: عاصم ریاض ایڈوکیٹ۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)