بریکنگ نیوز
Home / کالم / ڈاکٹر عبید / لڑکوں کی پیدائشی نقص

لڑکوں کی پیدائشی نقص


احمد کی ماں کو پتہ چلا کہ میں ملتان میں ہوں تو اسکی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا۔ پہلے ہی دن بچوں کو لے کر مجھ سے نشتر ہسپتال کے پلاسٹک سرجری وارڈ میں ملنے آئی جب مجھے پیغام ملا تو میں اس وقت آپریشن کررہا تھا اسلئے انہیں انتظار کرنے کو کہا اگرچہ ان کو پورا ایک گھنٹہ انتظار کرنا پڑا لیکن احمد کی والدہ، والد اور دوسرا بھائی میرے لئے دوسرے کمرے میں چشم براہ تھے میں نے احمد کو گود میں اٹھایا اور بستر میں لٹاکر معائنہ کیا اسکے والدین سے اپنی تسلّی کا تبادلہ کیا اور احمد کیلئے ایک اور مرہم کا انتظام کیا۔ جاتے جاتے احمد کی والدہ نے میرے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی تھیلی پکڑادی جس میں ملتان کے مشہور حلوے کے دو بند ڈبے تھے نوجوان جوڑے نے واضح کیا کہ یہ احمد کی فرمائش پر میرے لئے لیکر آئے تھے۔

آپ یقیناًاپنے اپنے خیال کے گھوڑے دوڑا رہے ہوں گے کہ میں ملتان جاکر کیا کررہا تھا اور پھر ملتان کے مریضوں سے میرا کیا تعلق ہے اسکی وضاحت آپکو احمد کی کہانی پڑھ کر ہوجائے گی آج سے کوئی دو تین ماہ قبل ملتان سے مجھے احمد کی والدہ نے فون کیا اور بتایا کہ احمد کو ختنے کے دوران کوئی پیچیدگی ہوگئی ہے اور وہاں کے مقامی ڈاکٹروں نے مجھ سے رابطہ کرنے کو کہاہے فون اور ای میل پر ابتدائی معلومات کے تبادلے کے بعد وہ احمد کو لے کر پشاور آئے ایک دودن آپریشن کیلئے ہسپتال میں رکے رہے اور پھر واپس چلے گئے پٹی کی تبدیلی کیلئے میں نے انکو اتنا لمبا فاصلہ طے کرنے سے روکا اور وہیں مقامی طور اپنے پلاسٹک سرجری کے دوستوں کو سفارش کرکے احمد کا بقیہ علاج انکی نگرانی میں کرنے کا بندوبست کر دیا۔

میری کوشش ہوتی ہے کہ مختلف بیماریوں اور ان کے علاج کے بارے میں آسان زبان میں قارئین کی معلومات میں اضافہ کروں اور انکو علاج کے ساتھ ساتھ حفاظتی تدابیر سے بھی آگاہ کیا کروں لیکن ہماری صحافت بعض بیماریوں کے بارے میں بہت حسّاس ہے جنکی اشاعت سے فحاشی کا الزام لگ سکتا ہے ہاں البتہ اشتہارات کی حد تک وہ ساری حدود نہ صرف حلال ہوجاتی ہیں بلکہ پیسے کے زور پر پہلے صفحات تک پہنچ جاتی ہیں چنانچہ میں نے کئی بار ایسی ہی موضوعات پر لکھنے کی کوشش کی لیکن اشتہارات کا مقابلہ بھی نہیں کرسکا۔

احمد کو اسکے والدین اپنے فیملی ڈاکٹر کے پاس ختنے کیلئے لے گئے۔ موصوف روزانہ کئی بچوں کا ختنہ کرتے ہیں اور سارے خاندان دعائیں دیتے ہوئے واپس چلے جاتے ہیں احمد کی قسمت میں تکلیف لکھی تھی اور اس کے ختنے کے گرد کی جلد سڑنا شروع ہوگئی ۔ ختنے کرنے والے ڈاکٹر کے ہاتھ پاؤں پھول گئے کہ صرف پولیس یا میڈیکل کے نگرانی کے اداروں کا ڈر نہیں تھا احمد کے ڈاکٹر صاحب کے ساتھ گھریلو تعلقات تھے۔ ملتان میں کئی پلاسٹک سرجنوں کا مشورہ یہی تھا کہ احمد کو میرے پاس پشاور بھیجا جائے احمد کا پشاور میں آپریشن ہوا بلکہ میں کہوں کہ کئی آپریشنوں میں سے پہلا مرحلہ طے ہوگیااب میں کوئی اتنا بڑا سرجن بھی نہیں کہ پورے پنجاب کو چھوڑ کر پشاور میں مریضوں کا تانتا بنے تاہم ختنے سے تعلق رکھنے والے ایک پیدائشی نقص کا علاج اتفاقیہ طور پر مجھ سے جڑ گیا ہے دراصل اس پیدائشی نقص کے بین الاقوامی طور پر نمبر ایک اور دو سرجن میرے اساتذہ رہے ہیں اور مجھے اللہ نے ان سے کچھ علم و ہنر سیکھنے کا زریں موقع فراہم کیا اور یوں اندھوں میں کانا راجہ کے طور پر خادم کا نام پھیلتا گیا میں نے کبھی اس ہنر کو سینہ بہ سینہ رکھنے کی کوشش نہیں کی اور ہمیشہ اسے انسانیت کا حق سمجھ کر ہر جگہ سکھانے کا سلسلہ گزشتہ بیس تیس سال سے جاری رکھے ہوئے ہوں۔ ملتان جانے کی نوبت بھی یوں آئی کہ وہاں کے پلاسٹک سرجری کے پروفیسر نے اپنے شاگردوں کو سکھانے کیلئے مجھے دعوت دی اور پچھلے ہفتے ملتان میں صبح آٹھ سے تین چار بجے تک تربیت کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ مجھے اس سلسلے میں نہ صرف ملک بھر بلکہ بھارت سمیت کئی ممالک سے دعوتیں موصول ہوتی رہتی ہیں۔

میں نہایت محتاط الفاظ میں اس پیدائشی نقص کے بارے میں بتانا چاہوں گا کہ اخبار کو اسے شائع کرنے سے کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہ رہے۔ جب ایک سو پچاس لڑکے پیدا ہوتے ہیں تو ان میں سے ایک لڑکے کا پیدائشی طور پر ختنہ ادھورے طور پر ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ عام انداز میں پیشاب نہیں کرسکتااسے انگریزی میں ہائیپو سپیڈیاس کہا جاتا ہے۔کہنے کو تو یہ ایک معمولی نقص ہے لیکن اسکا علاج نہایت پیچیدہ ہے۔ پوری دنیا میں چند ایک ہی ایسے ڈاکٹر ہیں جن کے ہاتھوں میں کامیابی زیادہ لکھی ہوتی ہے چونکہ دنیا میں سب سے زیادہ یہ آپریشن پشاور میں ہوتے ہیں ا سلئے اللہ کی خصوصی مہربانی سے ان ڈاکٹروں کی فہرست کے ایک کونے میں میرانام بھی لکھا گیا ہے اور اس کا مقصد اپنے ہنر کا مشتہر کرنانہیں بلکہ صرف یہ بتانا ہے کہ جیسے جو کمہار ایک قسم کا برتن بنائے تو اس میں بہترین کمال حاصل کرلیتا ہے، اسی طرح سے محض زیادہ تعداد اور بار بار کی پریکٹس سے میرے نتائج اچھے نتائج میں شمار ہوتے ہیں ۔

اس سارے کالم کا بنیادی مقصد والدین کی رہنمائی ہے ختنہ مسلمانوں میں سنت ابراہیمی کے طور پر رائج ہے اسکے بے شمار فوائد بھی ہیں جن میں سے ایک اس جگہ کے کینسر سے بچاؤ ہے ملک میں ہر سال سینتالیس لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں اگر اسکی آدھی تعداد بھی لڑکے ہوں تو گویا تئیس لاکھ لڑکوں میں سے ہر سال پندرہ ہزار لڑکے اس پیدائشی نقص کا شکار رہتے ہیں اسکے علاج کی پیچیدگی کیوجہ سے ضروری ہے کہ ان بچوں کا ختنہ پیدائش کے فوراً بعد نہ ہو بلکہ کسی پلاسٹک سرجن‘ پیڈیاٹرک سرجن یا یورالوجسٹ سے اسکا معائنہ کروایا جائے۔ ختنہ کروانے والے ڈاکٹرز، ڈسپنسرز اور کئی نائیوں کے علاوہ دائیوں اور پیدایش کے طور پر موجود ماہرین کو بھی اس بات کی آگاہی ہونی چاہئے کہ ایسے بچوں کے ختنے کی کوشش خود نہ کریں بلکہ مناسب ڈاکٹر کے پاس بھیجاجائے میں نے ان نائیوں اور ڈسپنسروں کو نہ صرف آگاہی کیلئے خطوط لکھے ہیں بلکہ کئی ایک کا شکریہ بھی ادا کیا ہے۔