بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / امریکی عدالت کا فیصلہ

امریکی عدالت کا فیصلہ

نیویارک کی ایک عدالت نے امریکی صدر ٹرمپ کے اس حکم نامے پر عمل درآمد روک دیا ہے جس کے تحت7مسلم ممالک کے شہریوں اور پناہ گزینوں کو امریکہ داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا ‘ عدالت نے یہ حکم شہری آزادی کی ایک تنظیم کی جانب سے دائر درخواست پر جاری کیا ۔ اے سی ایل یو کے نام سے کام کرنے والی اس تنظیم کے سربراہ کا کہنا ہے کہ عدالتی حکم سے ان لوگوں کو امریکہ بدر کیے جانے کا عمل رک جائے گا جو اس حکم نامے کی زد میں آگئے تھے ‘ نیو یارک کی عدالت نے صدارتی حکم نامے پر عمل درآمد کے تحت ہوائی اڈوں اور دیگر مقامات سے گرفتار افراد سے متعلق تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں ان لوگوں کی تعداد200 تک بتائی جا رہی ہے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پناہ گزینوں سے متعلق امریکی صدر کے حکم سے پاکستان ‘ افغانستان ‘ ملائیشیا‘ عمان‘ تیونس اور ترکی کے لوگ متاثرین ہوں گے البتہ گرین کارڈ رکھنے والوں کو امریکہ واپسی سے پہلے امریکی سفارتخانے یا قونصلیٹ رابطے کی ہدایت دی گئی ہے۔

‘ٹرمپ انتظامیہ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کا عندیہ دینے کیساتھ واضح کرتی ہے کہ صدارتی حکم نامہ برقرار رہے گا اس سب کیساتھ بعض میڈیا رپورٹس میں بتایا جارہا ہے کہ امریکہ امیگریشن سے متعلق فیصلوں کی فہرست کو توسیع دے گا اور بعض ممالک کے شہریوں کو ویزے دیتے وقت کڑی جانچ پڑتال کی جائے گی‘ امریکی صدر کے فیصلوں پر خود امریکی شہری سراپا احتجاج ہیں اقوام متحدہ کی جانب سے بھی امریکی صدر کو کہا جا رہا ہے کہ وہ تارکین وطن کیساتھ مساوی سلوک یقینی بنائیں ‘برطانیہ اور فرانس بھی امریکی پالیسیوں پر تنقید کر رہے ہیں جبکہ خود ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ7 ممالک پر پابندی کو تمام مسلمانوں پر پابندی نہیں قرار دیا جا سکتا‘ دوسری جانب کینیڈا نے امریکی فہرست میں شامل 7 ممالک کے پناہ گزینوں کو اپنے ہاں پناہ دینے کی پیشکش کی ہے ‘ امریکی صدر کے جارحانہ فیصلوں اور متعصبانہ اقدامات کیساتھ ہی امریکہ کے شہر ہوسٹن میں نامعلوم افراد نے مسجد کو لگا دی ہے جس پر مسلم تنظیموں میں تشویش پائی جاتی ہے ‘ برسر زمین حالات اور ان کی روشنی میں ٹرمپ انتظامیہ کے مستقبل کے فیصلوں سے متعلق اندازوں کا تقاضا ہے کہ امریکی کانگریس اپنا موثر کردار ادا کرے اور حالات کو مزید بگڑنے سے بچایا جائے ۔

ڈرگ ریگولیشنز میں اصلاحات

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے سربراہ ڈاکٹر محمد اسلم ڈرگز سے متعلق قوانین میں اصلاحات کا عمل جاری رکھنے کا عزم دہراتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس میں کسی رکاوٹ کی کوئی پرواہ نہیں کی جائے گی وہ امراض قلب میں مبتلا مریضوں کو غیر معیاری سٹنٹ لگائے جانے سے متعلق اتھارٹی کا موقف اور اقدامات بھی واضح کرر ہے ہیں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ میڈیکل ڈیوائسز کو ریگویشن کے دائرے میں لایا جائے گا اور پھر ان کی قیمتوں کا تعین ہو گا۔ وطن عزیز میں میڈیکل ڈیوائسز رولز2015 میں نافذ ہوئے اس سے پہلے ان سے متعلق1976ء کے ڈرگ ایکٹ کے تحت قاعدوں پر ہی عمل ہوتا تھا ‘ ڈیوائسز سے متعلق قاعدے قانون کا بن جانا قابل اطمینان ضرور ہے تاہم جب تک اس پر عمل کیلئے موثر مکینزم نہیں بنتا مارکیٹ میں چیک اینڈ بیلنس کا نظام نہیں آتا اس وقت تک ساری ایکسرسائز بے ثمر ہے دو نمبر اور جعلی دوا غیر معیاری سٹنٹ جعلی میڈیکل لیبارٹریاں ہر قاعدے سے آزاد میڈیکل سروسز کے چارجز اس سارے بگاڑ کو سنوارنا ایک مشکل کام ہے جس کیلئے سب سے پہلے موثر منصوبہ بندی کرنا ہو گی جس میں وفاق اور صوبوں کے ذمہ دار اداروں کے درمیان باہمی رابطہ ناگزیر ہے۔