بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پاناما کیس :حسین نواز نے پورا سچ نہیں بولا،سپریم کورٹ

پاناما کیس :حسین نواز نے پورا سچ نہیں بولا،سپریم کورٹ


اسلام آباد۔ سپریم کورٹ نے پاناما کیس میں ریمارکس دیئے کہ لندن فلیٹس کے لیے سرمایہ کہاں سے آیا،اگر کسی نتیجے پر پہنچیں تو حسین نواز نے پورا سچ نہیں بولاجبکہ وزیر اعظم کے صاحبزادوں کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے عدالت کو بتایا کہ اگر حسین نواز کچھ چھپا رہے ہوں تو اس کی سزا وزیرا عظم کو نہیں دی جا سکتی ،دوسری جانب سے کوئی ثبوت نہیں آیا۔ کرنسی اونٹوں پر لاد کر دینے کی بات بعید از قیاس ہے۔ یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ، نقد رقم بھی لی جاتی ہے، عدالت مفروضوں کو نہ دیکھے۔ الثانی خاندان کے پاس لندن میں بہت سے فلیٹس ہیں۔ عدالت نیمزید سماعت آج (بدھ ) تک کیلئے ملتوی کر دی ۔جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بنچ نے پانامہ کیس کی سماعت کی،سماعت کے آغاز پر نیب پراسیکیوٹر نے حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس پر عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائر نہ کرنے کا ریکارڈ پیش کیا،پراسیکیوٹر جنرل نیب وقاص نے حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس پر اپیل دائر نہ کرنے سے متعلق اجلاس کی کارروائی کے منٹس جمع کروائے۔

جسٹس گلزار نے استفسار کیا کہ ایسے کتنے مقدمات ہیں جن میں اپیل دائر نہیں کی گئی؟جس پر پراسیکیوٹر جنرل نیب وقاص نے جواب دیا کہ ایسے لا تعداد مقدمات ہیں جن میں ججز کے فیصلے میں اختلاف کی وجہ سے اپیل دائر نہیں کی گئی،جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ ایسے بہت سے مقدمات بھی ہیں جن میں ججز نے متفقہ فیصلہ دیا لیکن نیب نے اپیل دائر کی۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ جب نیب کی باری آئے گی تو اس پہلو کو زیر غور لائیں گے،وقاص نے بتایا کہ پراسیکیوٹر نیب نے اپیل دائر نہ کرنے کی تجویز دی، جس سے چیرمین نیب نے اتفاق کیا،جس پر عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل سے نیب کے اس اجلاس کی تفصیل طلب کرلی تھی جس میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا تھا کہ حدیبیہ پیپر ملز کی اپیل دائر نہیں کی جائے گی۔سماعت کے آغاز پر وزیراعظم کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز کے وکیل سلمان اکرم راجا نے اپنے دلائل کا دوبارہ آغاز کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ریکارڈ سے ثابت ہے کہ فیکٹری کی فروخت سے 12 درہم ملین ملے۔جسٹس اعجاز افضل نے استفسار کیا کہ کیا 75فیصد حصص کی فروخت پر بینک کو قرضے کی ادائیگی ہوئی ؟ بینک کے واجبات کس نے ادا کیے اور یہ بھی بتایا جائے کہ فیکٹری کے باقی واجبات کا کیا ہوا ؟وکیل نے جواب دیا کہ ہو سکتا ہے فیکٹری کے منافع سے واجبات ادا کیے گئے ہوں۔ریکارڈ سے ثابت ہے فیکٹری کی فروخت سے 12ملین درہم ملے، کاروبار پر کنٹرول میاں شریف کا تھا۔

طارق شفیع گلف فیکٹری کے روزانہ کے معاملات نہیں دیکھتے تھے۔وہ صرف 12 ملین درہم کی رقم سرمایہ کاری کیلئے الثانی فیملی کو دینے کے گواہ تھے۔اگر نتیجے پر پہنچیں تو حسین نواز نے پورا سچ نہیں بولا۔ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیے 12ملین درہم کی رقم نقد وصول کی تھی یا بینک کے ذریعے ؟ فیکٹری کی فروخت سے 12ملین درہم ملے یہ غیر متنازع حقائق ہیں۔جو دستاویز ات لائی گئی اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا۔جسٹس گلزار احمد نے سلمان اکرم راجہ کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا کہ یہ فلیٹس شریف فیملی کے زیر استعمال کب آئے۔تو وزیرا عظم کے صاحبزادوں کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ شریف فیملی نے فلیٹس 2006ء میں خریدے۔ لندن فلیٹس کی 1993ء سے 1996ء میں مجموعی پاکستان مالیت 7کروڑ بنتی ہے۔

جسٹس کھوسہ نے سوال کیا کہ وزیراعظم کی تقریر کے مطابق سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں 6 نئی فیکٹریاں لگانے کا ذکر ہے جبکہ جسٹس گلزار نے ریمارکس دیئے کہ جب پاکستان میں 6 نئی فیکٹریاں لگائیں تو گلف فیکٹری کی کیا ضرورت تھی، وزیراعظم کی تقریر میں قطری سرمایہ کاری کا ذکر نہیں۔جس پر سلمان اکرم راجا نے جواب دیا کہ دبئی مل ایک حقیقت ہے اور جدہ کی مل، دبئی فیکٹری کی مشینری سے تیار کی گئی اور بعدازاں اس میں نئی مشینری بھی لگائی گئی۔جسٹس کھوسہ نے سوال کیا کہ کیا دبئی فیکٹری کی مشینری حسین نواز نے خریدی تھی، کیونکہ مشینری کی خریدوفروخت کا وزیراعظم نے کہیں ذکر نہیں کیا۔اس موقع پر جسٹس اعجاز الحسن نے ریمارکس دیئے کہ طارق شفیع کے بیان حلفی کے بعد دوسرے بیان حلفی میں بہتری لائی گئی۔سلمان اکرم راجا نے عدالت کو بتایا کہ 7 نومبر کے تحریری جواب میں دبئی فیکٹری میں 12 ملین درہم کی سرمایہ کاری کا ذکر ہے۔جس پر جسٹس اعجاز الحسن نے ریمارکس دیئے کہ اگر طارق شفیع کو قطری سرمایہ کاری کا علم تھا تو بیان حلفی میں ذکر کر دیتے۔ایڈووکیٹ سلمان اکرم نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے میں قطری شاہی خاندان شامل تھا اس لیے 7 نومبر کے جواب میں قطری سرمایہ کاری کا ذکر نہیں کیا گیا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ 5 نومبر کو قطری آیا جبکہ طارق شفیع کا بیان حلفی 12 نومبر کو آیا، سوال یہ ہے کہ لندن فلیٹس کے لیے سرمایہ کہاں سے آیا، حسین نواز کے مطابق لندن فلیٹس قطری سرمایہ کاری سے ملے۔جس پر سلمان اکرم نے کہا کہ کیا ایسا لگ رہا ہے کہ ٹرائل ہو رہا ہے، طارق شفیع کو کٹہرے میں بلا کر کر سوالات پوچھ لیے جائیں۔جس پر جسٹس کھوسہ نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ میں نے ایک ریمارکس میں کتاب میں صفحہ گم ہونے کی بات کی تھی، جس پر ایک محترم رکن اسمبلی نے بہت ڈانٹا تھا کہ سارے ثبوت موجود ہیں اور نظر نہیں آرہے۔سلمان اکرم نے عدالت کو بتایا کہ لندن فلیٹس کی 1993 سے 1996 میں مجموعی پاکستانی مالیت 7 کروڑ بنتی ہے، یہ کوئی راز نہیں کہ شریف فیملی کے بچے شروع سے وہاں رہ رہے ہیں، شریف فیملی نے فلیٹس 2006 میں خریدے، شریف فیملی اس وقت آف شور کمپنیوں کی مالک نہیں تھی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ 1993 سے 1996 کے درمیان یہ فلیٹس کس کی ملکیت تھے، جس پر سلمان اکرم نے کہا کہ شریف فیملی نے 1993 سے 1996 کے درمیان لندن کے فلیٹس نہیں خریدے۔ 2006 سے پہلے کمپنیوں کے بیریئر سرٹیفکیٹس الثانی خاندان کے پاس تھے، الثانی خاندان نے 1993 سے 1996 میں آف شور کمپنیوں کے ذریعے فلیٹس خریدے، رحمان ملک رپورٹ کے مطابق 93 میں یہ کمپنیاں انس پارکر کے پاس تھیں۔ جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ کیا ہم رحمان ملک کی رپورٹ درست تسلیم کر لیں۔ کیا حماد بن جاسم سے پوچھ لیں انہوں نے یہ فلیٹس کب خریدے۔ سلمان اکرم نے کہا کہ یہ پوچھنے کی ضرورت نہیں، شریف فیملی کے بچے وہاں رہ رہے تھے، جس پر جج صاحبان نے استفسار کیا کہ شریف فیملی کے بچے وہاں کیسے رہ رہے تھے، حسن اور حسین نواز کب سے وہاں رہنا شروع ہوئے۔ سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ خاندانی تعلقات کی بدولت 1993 سے ان فلیٹس میں حسن اور حسین رہتے تھے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ بڑے گہرے تعلقات تھے کہ شریف فیملی 13 سال تک فلیٹس میں رہائش پذیر رہی۔ سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ شریف خاندان فلیٹس کا کرایہ ادا کرتا تھا، الثانی خاندان کے پاس لندن میں بہت سے فلیٹس ہیں، عدالت مفروضوں کو نہ دیکھے، لندن فلیٹس التوفیق کمپنی کے پاس گروی نہیں رکھے گئے، شیزی نقوی نے رحمان ملک رپورٹ کی بنیاد پر فلیٹس کی ملکیت شریف خاندان کی بتائی تھی۔عدالت کے استفسار پر سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ شیزی نقوی پاکستانی شہری اور التوفیق کمپنی کے ساتھ وابستہ ہے، اس کے بیان کی نقل موجود ہے لیکن تصدیق شدہ نہ ہونے کی وجہ سے فائل نہیں کی۔ جس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیئے کہ شیزی نقوی کے برطانوی عدالت میں پیش بیان حلفی کی نقل جمع کرا دیں کیونکہ برطانوی عدالت نے شیزی نقوی کے بیان حلفی پر ہی فلیٹس ضبطگی کا نوٹس جاری کیا تھا۔ سلمان اکرم راجا نے کہا کہ برطانوی عدالت کا حکم عبوری تھا، التوفیق کمپنی کے واجبات 34 ملین ڈلر کے نہیں تھے۔ جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا رقم ادائیگی پر برطانیہ کی عدالت نے چارج واپس لیا۔ سلمان اکرم راجا نے کہا کہ التوفیق کیس سے ثابت نہیں ہوتا کہ شریف فیملی 1999 سے پہلے فلیٹس کی مالک تھی،انگلی میرے موکل کی طرف نہیں اٹھ سکتی وہ اپنے موقف پر قائم ہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ آپ کہتے ہیں فلیٹس 2006 میں خریدے گئے، آپ 13 سال فلیٹس میں رہے، انگلی تو آپ کی طرف اٹھے گی۔عدالت نے مزید سماعت آج تک کے لئے ملتوی کر دی۔