بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / حافظ محمد سعیدکی نظر بندی کا فیصلہ ریاست کی پالیسی ہے،میجر جنرل آصف غفور

حافظ محمد سعیدکی نظر بندی کا فیصلہ ریاست کی پالیسی ہے،میجر جنرل آصف غفور

راولپنڈی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل، میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ حافظ محمد سعیدکی نظر بندی کا فیصلہ ریاست کی پالیسی ہے،فوجی عدالتوں میں جتنے کیس آئے عدالت نے اپنا پورا کام کیا،فوجی عدالتوں میں توسیع کے حوالے سے حکومت عمل کو آگے بڑھا رہی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار 920 پاکستانیوں کا خون بہا، ملک بھر میں 26 ہزار سے زائدآپریشنز کئے گئے،دہشتگردی کے خلاف جنگ ابھی بھی جاری ہے ہمیں اس کامیابی کو دائمی نتائج اور امن کی طرف لے کر جانا ہے،بھارت ہمارا ہمسایہ ملک ہے،کسی سے جنگ نہیں چاہتے لیکن اگر جنگ مسلط کی گئی تو بھرپور جواب دیا جائے گا،بھارتی آرمی چیف کا کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن سے متعلق تازہ بیان ہمارے خدشات کی تصدیق کرتا ہے، بھارتی آرمی چیف نے اپنے عزائم ظاہر کر دیئے ہیں ، پاک فوج 15 مارچ سے قومی مردم شماری و خانہ شماری کے عمل کی مدد کر رہی ہے۔

2 لاکھ پاک فوج کے جوان اس عمل میں حصہ لیں گے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 2008-09ء میں 9/11 کے بعد کی صورتحال پر ہم نے جامع منصوبہ تشکیل دیا اور دہشت گردی کے خلاف باجوڑ، مہمند، سوات، کرم، خیبر اور اورنگزئی ایجنسیوں میں آپریشن کئے۔ 2014ء جون میں شمالی وزیرستان میں ضرب عضب آپریشن شروع کیا گیا جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ملک کے باقی حصوں میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کومبنگ آپریشن کئے گئے۔ آج امن وامان کی جو بہتر صورتحال ہے یہ راتوں رات نہیں ہوئی، یہ کسی ایک ادارے کی کامیابی نہیں ہے بلکہ پاکستان کے ہر فرد اور ادارے نے اپنا حصہ ڈالا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار 920 پاکستانیوں کا خون بہا۔ 21ہزار 839 شہید ہوئے جبکہ 49 ہزار 81 زخمی ہوئے، ملک قربانیاں مانگتا ہے جب تک حالات درست نہیں ہو جاتے ہم قربانیاں دیتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں 26 ہزار سے زائد انٹیلی جنس کی بنیادوں پر کومبنگ آپریشن ہو چکے ہیں جبکہ قبائلی علاقے اور خیبرپختونخوا جہاں شدت پسندی عروج پر تھی وہاں آپریشنز کے نتیجے میں سڑکیں بن رہی ہیں۔

سکول اور ہسپتال کام کر رہے ہیں۔ امن وامان کی صورتحال وقت کے ساتھ مزید بہتر ہو گی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ضرب عضب کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے 84 فیصد قبائلی اپنے گھروں کو واپس چلے گئے ہیں باقیوں کی واپسی کے لئے عمل تیز کیا جا رہا ہے وہ قبائلی جو افغانستان چلے گئے تھے ان کو بھی جلد از جلد واپس لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کی واپسی کا بھی عمل شروع ہو چکا ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ افغانستان میں بھی جلد از جلد امن آئے تاکہ پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین اپنے وطن واپس جا سکیں۔ پاکستان نے افغان بارڈر پر سکیورٹی انتظامات کئے ہیں اور بارڈر مینجمنٹ کا میکانزم بنایا ہے۔ طورخم اور چمن پر بھی میکانزم بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضرب عضب کی کامیابیوں سے پاک افغان سکیورٹی صورتحال میں بہتری آئی ہے جس سے افغانستان کو بھی فوائد حاصل ہوں گے۔ ہم نے افغان سرحد پر بارڈر فورسز اور کراسنگ پوائنٹس کا نظام اور ایف سی کے 29 نئے ونگ قائم کئے ہیں۔ امید ہے کہ افغانستان بھی اس حوالے سے مزید اقدامات کرے گا۔ بلوچستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ امن وامان کے حوالے سے بلوچستان میں بہتری آ چکی ہے۔ ایف سی اور صوبائی فورسز نے پاک فوج کے ساتھ مل کر محنتیں کیں جو رنگ لا رہی ہیں۔ ’

را‘‘ اور این ڈی ایس کی پشت پناہی کے ساتھ دہشت گرد جو کارروائیاں کر رہے تھے اس کو بہتر انداز میں چیک کیا جا رہا ہے۔ اب تک بلوچستان میں 3000 انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کئے گئے۔ 2016ء میں امن کی بحالی کے لئے آرمی، ایف سی اور پولیس کے 189 جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا جبکہ 376 پاکستانی شہید ہوئے۔ صوبے میں امن وامان کی بہتری کے ساتھ ساتھ ترقیاتی کام بھی جاری ہے سی پیک اور گوادر پورٹ بلوچستان کے روشن مستقبل کی نوید ہیں۔ ایف ڈبلیو او نے بلوچستان میں 870 کلومیٹر لمبی سڑکوں کا جال بچھا دیا ہے۔ کامیابی کے اس سفر میں ہمارے بلوچ بھائیوں کا تعاون اور قربانیاں قابل قدر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں دو سالوں سے رینجرز کے آپریشن کی بدولت حالات تبدیل ہو گئے ہیں۔ دہشت گردی، بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں 90 فیصد کمی ہوئی ہے تاہم سٹریٹ کرائمز ابھی جاری ہیں۔ اس سلسلے میں رینجرز، سندھ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے کراچی کے شہریوں کے تعاون سے اپنا کام جاری رکھیں گے اور کامیاب ہوں گے۔ اب تک کراچی میں 8840 آپریشنز کئے گئے اس دوران رینجرز کے 33 اہلکار شہید اور 100 سے زائد زخمی ہوئے۔ دہشت گردی کے خلاف کامیابی تینوں مسلح افواج کے درمیان بے مثال تعاون کا نتیجہ ہے۔ پاک فضائیہ آپریشن کے ہر مرحلے میں شانہ بشانہ رہی جبکہ نیوی نے ساحلوں اور ملحقہ علاقوں میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں سرانجام دیں مسلح افواج کا باہمی ربط اور پاکستانی قوم کا اپنی مسلح افواج پر بھرپور اعتماد ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ جنگ ابھی بھی جاری ہے ہمیں اس کامیابی کو دائمی نتائج اور امن کی طرف لے کر جانا ہے۔ انٹیلی جنس کی بنیاد پر کومبنگ آپریشن جاری رہیں گے تاکہ بچے کھچے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا صفایا کیا جا سکے۔ جب تک عوام ہمارے ساتھ ہیں ہم کسی بھی خطرے کا کامیابی سے مقابلہ کریں گے۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بھارت ہمارا ہمسایہ ملک ہے ہم کسی سے جنگ نہیں چاہتے لیکن اگر جنگ مسلط کی گئی تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔ جنگ مسائل کا حل نہیں ہے ہم تمام تصفیہ طلب مسائل بشمول کشمیر کا حل بات چیت اور امن کے ساتھ چاہتے ہیں۔ مگر امن کی خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے تین سال میں ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر 945 سیزفائر کی خلاف ورزیاں ہوئیں صرف پچھلے 4 ماہ میں 314 خلاف ورزیاں ہوئیں جس میں 46 پاکستانی شہید ہوئے جوابی کارروائی میں 40 بھارتی فوجی بھی ہلاک ہوئے۔ بھارت کی طرف سے یہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے۔ وہ کشمیر کے مسئلے کو پس پشت ڈالنے اور کشمیریوں پر جاری جارحیت سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ سرجیکل سٹرائیک کا ڈرامہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی آرمی چیف کا کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن سے متعلق تازہ بیان ہمارے خدشات کی تصدیق کرتا ہے۔ ماضی میں بھارت اس ڈاکٹرائن کی حقیقت سے مکمل طور پر انکاری رہا ہمارا موقف تھا کہ بھارت یہ صلاحیت حاصل کر رہا ہے۔ اب بھارتی آرمی چیف نے نہ صرف اس صلاحیت کی تصدیق کی بلکہ اس کو مزید تیز کرنے کا عندیہ دے کر اپنے ارادے ظاہر کر دیئے ہیں جس سے پاکستان کے ماضی میں کئے گئے خدشات کی تصدیق ہوتی ہے۔ پاک فوج دنیا کی واحد فوج ہے جو دو محاذوں پر کامیابی سے برسرپیکار ہے۔ مشرقی طرف بھارت کی جارحیت کے خلاف بھرپور مقابلہ اور مغربی سرحد پر دہشت گردوں کی بھرپور سرکوبی، دونوں محاذوں پر ملک کا کامیابی سے دفاع کیا جا رہا ہے۔