بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / قومی وقار سب سے مقدم ہے

قومی وقار سب سے مقدم ہے

پاکستان سپر لیگ جیسے کرکٹ کے بڑے ایونٹ میں اسلام آباد یونائٹیڈ کے کھلاڑیوں شرجیل خان اور خالد لطیف کو بکیوں کے ساتھ رابطوں کے الزام میں معطل کر دیا گیا ہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں کھلاڑیوں نے پشاور زلمی کے خلاف میچ کے بعد ہوٹل کی لابی میں مشکوک افراد سے ملاقات کی جس پر پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ نے ان کے خلاف اینٹی کرپشن کوڈ کی خلاف ورزی کے الزام میں ایکشن لیا۔ پاکستان سپر لیگ کے سربراہ نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ پتہ چلا تھا کہ جواری دبئی پہنچ گئے ہیں تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کیس کے حوالے سے فی الحال کوئی تبصرہ مناسب نہیں ہوگا پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ کے چیئرمین شہریار خان کا کہنا ہے کہ میچ فکسنگ میں ملوث کھلاڑیوں کے خلاف ثبوتوں کی روشنی میں سخت کاروائی کی جائے گی اور انہیں نشان عبرت بنا دیا جائے گا ۔

دبئی سے خبر رساں ایجنسی کی ایک رپورٹ میں یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ پی سی بی کے اینٹی کرپشن یونٹ نے اپنی تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے جس میں مزید نام بھی سامنے آ سکتے ہیں میڈیا رپورٹس میں بتایا جاتا ہے کہ اسلام آباد یونائٹیڈ کے شرجیل خان کو صرف 2 گیندیں روکنے پر 20 لاکھ روپے دیئے گئے رپورٹس میں یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ کھلاڑیوں کے خلاف تحقیقات کا آغاز پی سی بی نے نہیں بلکہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے انویسٹی گیٹرز نے کیا کھلاڑیوں پر عائد الزامات سے متعلق اصل حقائق تو انکوائری رپورٹ کے بعد ہی آئیں گے تاہم ماضی کے قصوں اور حال کے واقعہ کو مد نظر رکھتے ہوئے کھلاڑیوں کے رویے پر افسوس کے اظہار اور مذمت پر اکتفا نہیں کرنا چاہئے خالد لطیف اور شرجیل ہوں یا کوئی اور اگر عالمی سطح پر وطن کی نمائندگی کا احساس نہیں کرتا تو اس کے خلاف مؤثر کاروائی ہونی چاہئے ۔ذمہ دار ادارے ٹیم کے انتخاب اور بعد کے مراحل میں چیک کا فول پروف نظام وضع کریں کسی کھلاڑی پر جرم ثابت ہونے پر اس کی سلیکشن اور دوسرے انتظامی امور کے نگران اداروں کے خلاف بھی کاروائی ہونی چاہئے جس طرح شہریار خان سخت ایکشن کی یقین دہانی کرا رہے ہیں واقعی میں ایسا ہوتا ہے تو آئندہ صرف پیسے کمانے کیلئے قومی وقار کو ٹھیس پہنچانے کی ہمت کسی میں نہیں ہوگی۔

نیپرا کیساتھ دیگر معاملات بھی سلجھانے ہیں

وفاق اور صوبائی حکومتوں کے اجلاس میں نیپرا 1997ء کے ایکٹ میں ترمیم پر کوئی حتمی فیصلہ نہ ہوسکا خواجہ آصف کہتے ہیں کہ مزید پیشرفت اگلے اجلاس میں ہوگی قابل اطمینان بات صرف اتنی ہے کہ وفاق نے واضح کردیا ہے کہ صوبوں سے بجلی چوری کی کوئی شکایت باقی نہیں رہی ۔پہلے اس ضمن میں خیبر پختونخوا کے حوالے سے نہایت سخت لہجے نوٹ کئے جاتے رہے ہیں اجلاس میں شریک وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ انہوں نے وفاق کو اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا ہے اورامیدہے کہ معاملات طے پاجائیں گے اپنے ایجنڈے کے حوالے سے اہم نوعیت کے حامل اجلاس میں تمام وزراء اعلیٰ کی شرکت ضروری تھی جس کو اگلے اجلاس میں یقینی بنانا ہوگا قابل اطمینان ہے کہ نیپرا ایکٹ جیسے معاملے کو بات چیت کے ذریعے آگے بڑھا یا جارہا ہے بات چیت کے عمل میں این ایف سی ایوارڈ میں وسائل کی تقسیم بجلی کے خالص منافع اور اس کے بقایا جات کی بروقت ادائیگی جیسے معاملات بھی نمٹائے جائیں ضرورت فاٹاکے مستقبل سے متعلق فیصلہ بھی جلد کرنیکی ہے جس میں پہلے ہی کافی وقت ضائع ہوچکا ہے ۔