Home / کالم / آیاز میر / دہشت گردی کے محاذ پر نرمی دکھانے کا شاخسانہ

دہشت گردی کے محاذ پر نرمی دکھانے کا شاخسانہ

کیاہم دہشتگردی کی لہر کو بڑھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں اوردہشتگرد تنظیمیں جن پر ضرب عضب نے کاری ضرب لگائی تھی ایک مرتبہ پھر فعال ہورہی ہیں؟شواہد پریشان کن ضرور ہیں ایک ہی دن میں پشاور اور مہمند میں حملے اور ان سے پہلے چیئرنگ کراس ‘لاہور میں( لفظ چیئرنگ کراس آؤٹ آف فیشن ہوچکاتھا لیکن اب اس دھماکے نے اسے پھر نمایاں کردیا ہے) اور اب سیہون شریف میں حملہ۔ انتہا پسندی کے ہاتھوں زخم اٹھانیوالی ہماری ریاست میں کامیابی یا ناکامی کے میزان کو کسی ایک طرف جھکانے کے لئے معمولی ساوزن بھی کافی ہوتا ہے جب کچھ دیر تک کوئی واقعہ پیش نہیں آتا تو ہمارے دلوں میں امید کے چراغ روشن ہوجاتے ہیں اور ہمارے ذہن سے دہشتگردی کی سیاہ رات چھٹنے لگتی ہے اسکے بعد چند ایک واقعات پیش آتے ہیں جیسا کہ گزشتہ ایک دو دن کے اندر تومایوسی کے مہیب سائے گہرے ہونے لگے ہیں اور افق پر بربادی رقص کناں دکھائی دیتی ہے ۔ یہاں ہمیں چند ایک واضح حقائق کو دیکھنا ہوگا پاکستانی ریاست کو چیلنج کرنے پر کمربستہ تنظیموں پر ضرب ضرور لگی تھی لیکن انھوں نے سرحد پار کرکے افغانستان کے پہاڑوں اور وادیوں میں پناہ لے لی تھی انکا خاتمہ نہیں ہوسکا تھا تو کیا ان گروہوں پر دباؤ میں کمی واقع ہوئی ہے ؟ کیا انہیں سانس لینے کا موقع مل گیا ہے ؟اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انھوں نے خیبرپختونخوا اور پنجاب اور ملک کے دیگر حصوں میں حملے شروع کردیئے ہیں؟ دوسرے الفاظ میں کیا ضرب عضب کی کاٹ کند ہوچکی ؟۔ جہاں تک سویلین حکومت جسے اس جنگ میں انتہا پسندوں کو شکست سے دوچار کرنے کیلئے پاکستان کی سمت درست کرنی تھی کا تعلق ہے تو اسے پاناما سماعتوں نے اگرمعذور نہیں تو بھی بہت حد تک کمزور ضرور کررکھا ہے کیا اس ماحول میں یہ کسی اور معاملے پر توجہ مرکوز کرنے کے قابل ہوسکتی ہے ؟چنانچہ جائے حیرت نہیں کہ سویلینز مختلف تماشے دکھاتے ہوئے جیسا کہ پاکستان سپرلیگ کا فائنل لاہور میں کرانے کا عزم، قوم کی توجہ پاناما کیس سے ہٹانے کی کوشش میں ہیں کیا اس کی بجائے بہتر نہیں ہوگا کہ انتہا پسندوں ، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پنجاب میں اپنے محفوظ ٹھکانے رکھتے ہیں۔

کے خاتمے کے لئے بامقصد اقدامات اٹھائے جائیں؟لیکن دہشتگردی کے حقیقی خاتمے کے لئے آپریشن حکمران جماعت کے ہوم گراؤنڈ، پنجاب کا رخ کرتا دکھائی نہیں دیتا چنانچہ اس مشکل راہ پر چلنے کی بجائے بہتر ہے کہ قوم کو کھیل تماشوں میں لگائے رکھیں تاکہ انکی توجہ بٹ سکے لوگ پہلے ہی کہنا شروع ہوگئے ہیں کہ وہ جنرل راحیل شریف کی کمی محسوس کررہے ہیں انکے وقت میں بھی دہشتگردی کے واقعات پیش آئے تھے لیکن ایک احساس تھا کہ ایسے گروہوں کے خلاف کاروائی جاری ہے ۔ جنرل راحیل شریف کی روانگی کے بعد پی ایم ایل (ن) کی طرف جھکاؤ رکھنے والے مبصرین کے دھڑوں نے ان پر تنقید شروع کر دی تاکہ انکی ہیرونما شخصیت کا قد کم کیا جاسکے ا س گروہ میں شامل کچھ ناقدین تو یہاں تک کہا کرتے تھے کہ سابق آرمی چیف کی اعلیٰ پروفائل دراصل سابق ڈی جی آئی ایس پی آر کی ٹویٹ مہارت کی مرہون منت ہے لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ کا فوری ٹویٹ کرنے میں اس روئے زمین پر اگر کوئی حریف ہے تو وہ صرف صدر ٹرمپ ہی ہیں کچھ دن پہلے مجھے پشاور سے ایک مہربان کا ایس ایم ایس وصول ہوا جو عوام میں بڑھتے ہوئے اس احساس کی حقیقی ترجمانی کرتا ہے …’’جنرل راحیل شریف کے بعد کیا دہشت گردی پھر شروع ہورہی ہے ؟

اس پر آپکی کیارائے ہے؟‘‘ یقیناًآپ بات سمجھ گئے ہوں گے۔ خدا نہ کرے، لیکن دہشت گردی کے چند ایک مزید واقعات سے جنرل راحیل شریف کی یاد میں مزید شدت آتی جائے گی۔ ناسٹیلجیا ماضی کو دھندلا کر خطرناک مفروضوں اور مبہم التباسات کو ٹکسال کرتا ہے اگر نواز شریف اور اُن کے اہلِ خانہ نے واقعات کو نہ سنبھالا اور اگر انھوں نے پاناما کیس کی دلدل سے پاؤں باہر نہ نکالا تو خدشہ ہے کہ یہ احساس حتیٰ کہ پنجاب، جو جاگنے میں قدرے تساہل سے کام لیتا ہے، میں بھی گہرا ہوتا جائے گا کہ ملک اور اس کا مستقبل خطرے میں ہے تاوقتیکہ چوٹی کی نااہل قیادت کا کچھ تدارک کیا جائے اسکی وجہ سے مایوسی کا احساس مزید گہرا ہوگا اورکچھ یادیں تازہ ہوجائیں گی اگر ویمر ری پبلک کمزور نہ پڑتی تو ہٹلر کو سراٹھانے کا موقع نہ ملتا اگر امریکہ میں ملازمتوں کے مواقع کم ہونے کا بحران پیدا نہ ہوتا یا امریکی مداخلت کی وجہ سے مشرق وسطیٰ کا بحران برپا نہ ہوتا اور مہاجرین کا سیلاب یورپ کے کناروں کی طرف بڑھتا دکھائی نہ دیتا تو شاید ٹرمپ بھی صدارتی عہدے پر دکھائی نہ دیتے‘ میں یہ بات دوٹوک انداز میں کہنے کی پوزیشن میں تو نہیں ہوں لیکن میرا خیال ہے کہ دہشتگردی اور حکمران طبقے کی بدعنوانی سے پاکستان میں بھی ایسی ہی صورتحال برپا ہوسکتی ہے اور یہ احساس تقویت پاسکتا ہے کہ پاکستان کو ایک مضبوط اور بے رحم قیادت کی ضرورت ہے ۔ پاناما کی سماعت نے دو باتیں واضح کردی ہیں (1) حکمران خاندان مسلسل چکمہ دیتا اور دروغ گوئی سے کام لیتا دکھائی دے رہا ہے اور (2)اسلام کے اس قلعے میں طاقتور عناصر کا احتساب کرنا مشکل ہے ، نیز یہاں ہم مذہب کی اصل روح سے اجتناب کرتے ہیں۔

جنرل راحیل شریف کے بعد حکمران خاندان کے مفادات سے قربت رکھنے والے مبصرین کے کچھ دھڑے گزشتہ تین سال کی تاریخ کو از سرنو تحریر کرنے میں جت گئے اور اس تصور کو ٹکسال کیا گیا کہ دہشتگردی کی پسپائی محض ایک ادارے کی جانفشانی کی وجہ سے نہیں تھی بلکہ اس میں سویلین اور ملٹری قیادت، دونوں کی مشترکہ کاوش کا عمل دخل تھایہ بیانیہ سچائی سے اتناہی دور ہے جتنا شمال سے جنوب۔ اگر دہشتگردی کی لہر کارخ موڑا گیا اور پاکستان نسبتاً ایک محفوظ ملک بن گیا تو اسکی وجہ پاک فوج کی طرف سے دی گئی قربانیاں تھیں اور اس دوران پی اے ایف کی بے مثال کارکردگی کومت بھولیں سویلینز تو اس راہ پر قدم بھی نہیں رکھنا چاہتے تھے لیکن چاروناچار اس طرف آنا پڑ ا جب فوج نے آپریشن ضرب عضب شروع کردیا اسکے بعد انکے پاس کوئی اور آپشن نہیں بچا تھا دہشتگردی کا خطرہ کم ہوگیا تھا لیکن ختم نہیں۔ کچھ انتہاپسند روپوش ہوگئے تھے کچھ ڈیورنڈ لائن کی دوسری طرف کھسک گئے جبکہ کچھ جیسا کہ رپورٹس آرہی ہیں ،نے اپنی خدمات داعش کے سپرد کردی ہیں جب ایک طاقتور کمانڈر منظر سے ہٹ گئے تو ضربِ عضب کی شدت میں کمی آئی اور دہشت گردی کے ناگ پھر سے پھن اٹھانے لگے ۔ دہشت گردی اور پانا ما سماعت باہم مربوط ہیں اور اپنے ملک کی سلامتی کیلئے ہمیں اس ربط کو سمجھنا ہوگا دہشتگردی کیخلاف جنگ میں صاف ستھری طاقتور قیادت کی ضرورت ہے تاہم پاناما سماعتیں اس حقیقت سے پردہ اٹھا رہی ہیں کہ غیر شفاف فضا اور بدعنوانی کی دھند میں لپٹے ماحول سے ایسی قیادت نہیں ابھر سکتی ۔