بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / مجسٹریسی نظام ‘ سابق سینئر افسروں کی تجاویز

مجسٹریسی نظام ‘ سابق سینئر افسروں کی تجاویز


وطن عزیز میں اہم انتظامی عہدوں پر فائز رہنے والے خیبرپختونخوا کے تین سابق چیف سیکرٹریوں سمیت دیگر سینئر بیورو کریٹ برسرزمین حالات کے تناظر میں مجسٹریسی نظام کی بحالی کو ناگزیر قرار دے رہے ہیں۔ سینئر اعلیٰ افسروں کی پیشہ ورانہ مہارت اور تجربہ سرکاری سطح پر تشکیل دیئے جانے والے کسی بھی خصوصی تھنک ٹینک سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے ممتاز دانشور اور سابق چیف سیکرٹری عبداللہ کا کہنا ہے کہ مجسٹریسی نظام میں اوور سائٹ کا پورا مکینزم موجود تھا وہ اس سسٹم کو گڈ گورننس کیلئے اس کی اصل روح کے ساتھ بحال کرنے کی تجویز دیتے ہوئے یہ بھی کہتے ہیں کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا عہدہ در حقیقت سیفٹی والوو کی حیثیت رکھتا تھا صوبے کے سابق چیف سیکرٹری اور وفاق میں سیکرٹری کی حیثیت سے فرائض سر انجام دینے والے اعجاز رحیم بھی مجسٹریسی نظام کی بحالی کو ناگزیر گردانتے ہوئے اسے بہتری کی امید قرار دیتے ہیں ۔ سابق چیف سیکرٹری محمد اعظم خان صورتحال کے ماہرانہ تجزیے کے ساتھ مجسٹریسی سسٹم کی بحالی کو وقت کا تقاضا قرار دیتے ہیں ۔ سابق سیکرٹری داخلہ تسنیم نورانی جو کہ وزارت داخلہ کے ذمہ دار کی حیثیت سے خود امن و امان کی صورتحال کنٹرول میں رکھنے کا تجربہ رکھتے ہیں۔

موجودہ مسائل کی وجہ ہی مجسٹریل پاورز کی عدم موجودگی کو قرار دیتے ہیں ۔ ملک کی انتظامی مشینری میں مجسٹریٹ کا عہدہ ہمیشہ سے اہمیت کا حامل رہا ہے جو کسی بھی ڈسٹرکٹ کے انتظام و انصرام کا حصہ ہوتا تھا اس سسٹم میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ بھی تھے اور انتظامی قاعدے قانون کے تحت تھانہ مجسٹریٹ بھی کام کرتے تھے یہ افسر عدالتی امور میں معاشی طور پر جبکہ انتظامی معاملات میں ڈپٹی کمشنر کو جواب دینے کے پابند تھے اس سسٹم میں چیک اینڈ بیلنس کا ایسا مکینزم تھا کہ جو گڈ گورننس کے لئے بنیاد کہلاتا ہے۔ ضرورت تو یہ تھی کہ وقت کی ڈیمانڈ کے مطابق اس سسٹم کو مزید فعال اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جاتا تاکہ نچلی سطح پر انتظامی امور احسن انداز میں نبھائے جاسکتے بد قسمتی سے ہمارے ہاں فوجی حکمرانی کے ادوار میں بلدیاتی نظام کو بار بار تختہ مشق بنایا گیا فیلڈ مارشل ایوب خان نے ایک سسٹم دیا تو جنرل ضیاء الحق نے اس کی ہیئت میں اپنی تبدیلیاں کیں جنرل مشرف کے پالیسی سازوں نے ضلعی حکومتوں کے دیئے گئے بیرسٹر کمال اظفر کے آئیڈیا کو نئی شکل دیتے ہوئے مجسٹریسی نظام کو پورے سسٹم سے منفی کر دیا اس کے ساتھ ہی مختلف انتظامی حوالوں سے مشکلات کا آغاز ہوا جو بڑھتے بڑھتے حکومتوں کے متعدد مثبت اقدامات تک کو بے ثمر کرنے کا ذریعہ بن رہی ہیں ۔

حکومت جتنے اقتصادی اعشاریئے دے دے زر مبادلہ کے ذخائر جتنے بڑھ جائیں عالمی ادارے پاکستانی معیشت کے بڑھتے گراف کی جتنی تعریفیں کر لیں اس کا فائدہ عام شہری کو براہ راست نہیں پہنچ رہا کیونکہ حکومت کے پاس اضلاع کی سطح پر مارکیٹ کنٹرول کا مؤثر نظام نہیں اس لئے لوگ مہنگائی کی چکی میں پس کر حکومتی اقتصادی اعشاریوں کو مذاق قرار دیتے ہیں مہنگائی کے ساتھ ملاوٹ بڑھتے بڑھتے اب انسانی صحت اور زندگی کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا چکی ہے ۔ پہلے سے بے ترتیب ٹریفک کسی احتجاج پر جام ہو جاتی ہے اور پولیس کے ساتھ معاونت کرنے والے مجسٹریٹ نہ ہونے سے اہم اور موقع پر ناگزیر فیصلے نہیں ہو پاتے نئے بلدیاتی نظام کے ساتھ اصلاحات کے لئے عزم رکھنے والی حکومت کے لئے اصل مسئلے کا ادراک کرتے ہوئے مجسٹریسی نظام کی فوری بحالی کا حکم دینا ضروری ہے ۔ اس میں مزید تاخیر حکومتی اقدامات کو بے ثمر کر کے عوام میں مایوسی کا ذریعہ ہی بنتی رہے گی۔ سابق سیکرٹری داخلہ تو نیشنل ایکشن پلان کی کامیابی کے لئے بھی اس سسٹم کی بحالی ناگزیر قرار دیتے ہیں تاکہ نچلی سطح تک رسائی ممکن ہو سکے۔