بریکنگ نیوز
Home / کالم / حبیب ا لرحمان / ٹرمپ کی امتیازی پالیسیوں کی مزاحمت

ٹرمپ کی امتیازی پالیسیوں کی مزاحمت


کیا پاکستان میں تشدد اور خونریزی کی تازہ لہر صدر ڈونلڈٹرمپ کے امریکہ، نریندرمودی کے بھارت اور اشرف غنی کے افغانستان پر مشتمل ممالک کے نوزائیدہ گٹھ جوڑ کی کارستانی ہے؟ اپنی اسلام مخالفت اور مسلمان دشمنی میں شہرت کے حامل ٹرمپ نے 20جنوری کو امریکی صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ایک سے زائد بار اپنے بقول اسلامی شدت پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم کا اعلان کرتے ہوئے یہ کہہ کہ نریندرمودی کی پیٹھ بھی ٹھونکی ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف براہ راست کاروائی کرنے کی بجائے اس غرض کیلئے بھارت کو استعمال کریں گے، ٹرمپ کے اسی نوعیت کے بیانات کی وجہ سے امریکہ میں مسلمان دشمنی کی لہر پھیلانے پر سوالات اٹھ رہے ہیں ان کے فکر وعمل کے اسی طرز کی بناء پر تجزیہ کار یہ خیال ظاہر کررہے ہیں کہ اب تک تو باور کیاجارہا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی افغانستان کے راستے بھارت کرا رہا ہے لیکن وائٹ ہاؤس کے نئے چیف آف سٹاف واضح کرچکے ہیں کہ اسلامی انتہا پسندی کا قلع قمع کرنے اور امریکہ کو محفوظ ملک بنانے کیلئے مزید تین مسلمان ملکوں سے تارکین وطن کے امریکہ میں داخلے کی حوصلہ شکنی کی جائے گی، ان ملکوں میں پاکستان، سعودی عرب اور افغانستان شامل بتائے گئے تھے، امریکہ سے حال ہی میں آنیوالے پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد امریکہ میں مقیم پاکستانی اور دیگر مسلم ممالک کے تارکین وطن میں شدید سراسیمگی پائی جاتی ہے، بیشتر تارکین وطن نے امریکہ سے اپنے یا دیگر ممالک کے سفر کے پروگرام اس ڈر سے منسوخ کردیئے ہیں کہ کہیں واپس آنے پر انہیں ا مریکہ میں داخل ہی نہ ہونے دیاجائے، صدر ٹرمپ کے احساسات اور اقدامات پر خود امریکہ میں مختلف ادارے سخت تنقید کررہے ہیں جبکہ عدالتیں ان احکامات کو کالعدم قرار دینے کیلئے دھڑا دھڑا متناعی احکام جاری کررہی ہیں، ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر جنہوں نے محض ایک ماہ قبل ہی عہدہ سنبھالا تھا، استعفیٰ دے کر نئے امریکی صدر کی ٹیم میں شامل ہونے سے انکار کردیا ہے۔

روس کی طرف ٹرمپ کا جھکاؤ اور صدر پیوٹن کے ساتھ دوستی گانٹھنے کی کوششیں بھی ہدف تنقید بنائی جارہی ہیں۔ امتناعی احکام جاری کرنے پر ٹرمپ عدالتوں کے خلاف شدید برہم ہیں اور ججوں کو احمق اور حقائق سے لاعلم ہونے کے طعنے دے رہے ہیں، انہوں نے یہاں تک کہا ہے کہ عدالتیں ہمارا کام مشکل بنا رہی ہیں اور سیاسی فیصلے کئے جارہے ہیں، انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ میں کچھ ہوا تو اس کا ذمہ دار وہ جج ہوگا جو میرے احکامات کو منسوخ کرے گا ، صدارتی طیارے میں فلوریڈا جاتے ہوئے میڈیا گفتگو کے دوران ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ مسلم ممالک کے شہریوں کو امریکہ میں داخل ہونے سے روکنے اور امریکہ میں غیر قانونی طورپر رہنے والے تارکین وطن کو نکالنے کیلئے چند دن کے اندر نیا حکم نامہ جاری کرنے والے ہیں، وجہ اس کی یہ ہے کہ امریکہ میں تمام عدالتیں حتیٰ کہ اپیل عدالتیں بھی نئے صدر کے حکام نامے منسوخ اور منسوخی کے خلاف اپیلوں کو مسترد کرچکی ہیں، صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ کی سیکورٹی کے باعث پابندی کے حکم ناموں کو برقرار رکھنے کیلئے تیزی سے کام کرنے کی ضرورت ہے، ٹرمپ نے یہ بیان سان فرانسسکو کی اپیل کورٹ کی جانب سے سفری پابندی سے متعلق ان کے حکم نامہ کی معطلی برقرار رکھے جانے کے بعد جاری کیا ہے، اس دوران وائٹ ہاؤس کے چیف آف سٹاف رینس پرائبس نے کہا ہے کہ اپیل عدالت کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ جانے سمیت تمام راستوں پر غور کیاجارہا ہے اور ٹرمپ کی سفری پابندی برقرار رکھنے والی وفاقی عدالت کے ایک جج نے عدالت کے تمام 25کل وقتی ججز سے درخواست کی ہے کہ وہ عارضی سفری پابندی سے متعلق صدارتی حکم نامہ کی 11رکنی پینل میں ازسر نو سماعت کرانے کیلئے رائے شماری کریں، تجزیہ کاروں کے مطابق اگر دوبارہ سماعت کا فیصلہ ہوتا ہے۔

تو پھر ابتدائی طورپر فیصلہ دینے والے تین ججز کے مقابلے میں اب 11ججز کا فل پینل سماعت کرے گا، ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے صدر حسن ردحانی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور ان سے کہا کہ وہ زبان کھولتے ہوئے احتیاط کا مظاہرہ کریں، یہی ان کیلئے بہتر ہوگا، ٹرمپ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے ٹویٹ میں اسلام پر حملہ کیا، انہوں نے کہا کہ اسلام امریکہ کو ناپسند کرتا ہے، اسلام امریکہ کا دشمن ہے، تجزیہ کار کہتے ہیں کہ بے شک امریکہ دنیا کا قائد ہے لیکن اب طاقت کے مراکز تبدیل وتحلیل ہو رہے ہیں، چین 2028ء تک فوجی واقتصادی لحاظ سے سپر طاقت ہونے کا اعلان کرے گا، روس تیزی کے ساتھ اپنے سوویت یونین کے زمانے کی دوسری سپر پاور والی حیثیت بحال کرنے کی جانب گامزن ہے، سات مسلمان ملکوں سے تارکین وطن پر پابندی لگانے کے خلاف جتنا احتجاج امریکہ اور یورپ میں ہو ا ہے اتنا متعلقہ مسلم ممالک میں بھی نہیں ہوا، دیگر مسلم ممالک کی طرف سے بھی شدید ردعمل دیکھنے میں نہیں آیا بلکہ بعض مسلم ممالک نے تو دبے لفظوں میں یہ کہتے ہوئے امریکہ کی ناراضگی کا خطرہ مول لینے سے بچتے ہوئے دبے لفظوں میں یہ قرار دیتے ہوئے پابندی کی حمایت کردی ہے کہ ہر آزاد ملک اپنی خارجہ پالیسی اپنے قومی مفادات کے مطابق بنانے میں آزاد ہوتا ہے تاہم خود امریکہ میں سابق وزیر خارجہ میڈیلین البرائٹ نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ میں مسلمانوں کی الگ رجسٹریشن کی گئی تو وہ اپنا نام مسلمانوں کے زمرے میں لکھوائیں گی، سابق وزیر خارجہ جان کیری نے بھی سفری پابندیوں کی مخالفت کرتے ہوئے عدالتوں پر زور دیا کہ وہ ایسے اقدامات کو روکیں، تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگرچہ ہر آزاد وخودمختار ملک اپنی خارجہ پالیسی اپنے قومی مفادات کے تابع بنانے کا حق رکھتا ہے لیکن اب خودمختاری کا تصور بدل گیا ہے، امرواقعہ یہ ہے کہ ہر ملک کسی نہ کسی وجہ سے د وسرے ملک میں دلچسپی رکھتا ہے، اقوام متحدہ کے تحت جب تمام رکن ممالک ایک دوسرے سے عہد وپیمان کرتے ہیں تو وہ اس پر کاربند رہنے کے پابند ہوجاتے ہیں البتہ کوئی ملک انسانی حقوق کے عالمی منشور کے منافی کوئی پالیسی اختیار نہیں کرسکتا، ٹرمپ کے امریکہ میں مسلمانوں سے امتیازی سلوک انسانی حقوق کے عالمی منشور کی صریح خلاف ورزی ہے لہٰذا صرف مسلم ممالک ہی نہیں، دنیا کے تمام ملکوں کیلئے اس کی مخالفت اور مزاحمت اشد ضروری ہے۔