بریکنگ نیوز
Home / کالم / ڈاکٹر حفیظ / شادی بیاہ کی تقریبات

شادی بیاہ کی تقریبات


کوئی بڑی تقریب منعقد کرنا زندگی کا سب سے بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ اس میں پروگرام کو ترتیب دینا ہوتا ہے۔ جگہ کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ اخراجات کا تحمینہ لگانا پڑتا ہے پھر ان اخراجات کو پورا کرنے کے انتظامات کئے جاتے ہیں۔ سب سے مشکل مرحلہ دعوت نامے جاری کرنا ہوتا ہے اور جب شادی بیاہ جیسی خاندان میں کوئی تقریب ہو۔ تو یہ مشکل دوچند ہوجاتی ہے۔ یہ تمام کام نمٹانا کسی ایک فرد کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ خاص طور پر رشتہ داروں، دوستوں، احباب اور عزیز و اقارب کو یاد رکھنا پڑتا ہے۔ کوئی ایک اہم شخصیت آپ سے رہ گئی تو ساری زندگی اس کے سامنے شرمندہ رہنا پڑتا ہے‘ تقریب کے شرکاء کی فہرست تیار کرنا ایک مشکل اور محنت طلب مرحلہ ہے۔ اس کیلئے طویل مشاورت کرنی پڑتی ہے اور کئی دنوں کی محنت کے بعد بھی جو فہرست تیار ہوتی ہے۔ وہ بھی نامکمل لگتی ہے۔دعوت نامے کی فہرست کی تیاری کے بعد دعوتی کارڈ کا انتخاب بھی ایک محنت طلب کام ہے۔ کارڈ پسند کرنا ، ان کی بروقت چھپائی اور تقسیم اپنی جگہ ایک بڑا منصوبہ ہوتا ہے۔ کچھ ہوشیار قسم کے مرد اور خواتین تقریب سے مہینوں پہلے کارڈ جمع کرنا شروع کرتے ہیں۔ بہت سے کارڈ جمع ہوجائیں تو ان میں سے باہمی مشورے کے بعد ایک کارڈ کا چناو ہوتا ہے لیکن اس وقت سارے کئے دھرے پر پانی پھر جاتا ہے جب پسند کیا گیا کارڈ مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہوتا۔ یا اتنی تعداد میں دستیاب نہیں ہوتا۔ جتنا درکار ہوتا ہے۔ یا پھر اس پر اپنی مرضی کی چھپائی ممکن نہیں ہوتی۔

بالاخر تھک ہار کر اسی کارڈ کا انتخاب کرنا پڑتا ہے جو مارکیٹ میں دستیاب ہوتا ہے۔ دعوتی کارڈ پر میزبانوں کے نام لکھنا بھی ایک مشکل مرحلہ ہے۔ یہ مرحلہ بھی بخیروخوبی طے ہوجائے تو کارڈ رکھنے کیلئے لفافے کا چناؤ کرنا پڑتا ہے۔ گوند والے خاکی لفافوں میں کارڈ ڈال کر بھیجنے کا دور گزر گیا۔ اب کارڈ سے ملتے جلتے ڈیزائن والے لفافے بھی بنوانے پڑتے ہیں۔ اب مشکل تر مرحلہ کارڈوں کی تقسیم کا ہے۔ طویل فہرست سے کارڈوں کا موازنہ کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ فہرست میں درج ناموں کے مقابلے میں کارڈ کم پڑ رہے ہیں اب دوگنی قیمت پر ایمرجنسی میں مزید کارڈ چھاپنے پڑتے ہیں۔ مہمانوں کی فہرست تیار کرنے کیلئے عموما ایک کمیٹی بنائی جاتی ہے۔ جو پہلے ننھیال اور پھر دادیال والوں کی فہرست بناتی ہے۔ فرسٹ کزنز کو ترجیح دی جاتی ہے۔ سیکنڈ اور تھرڈ کزنز میں بھی اہم شخصیات کا چناؤ کرنا پڑتا ہے۔ پھر طرفین میں توازن بھی رکھنا پڑتا ہے‘ پھر بھتیجوں، بھانجوں، نواسوں اور پوتوں کا بھی انتخاب کرنا پڑتا ہے‘ جب دوستوں کے چناؤ کی باری آتی ہے تو پسینے چھوٹتے ہیں۔ دوستوں میں سے عام طور پر ان لوگوں کو دعوت نامے جاری کئے جاتے ہیں جو دوستی کی بین الاقوامی تعریف کے زمرے میںآتے ہیں۔ پھر یہ بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ ماضی میں انہوں نے دعوت میں شرکت کرکے کتنے اور کیسے تحائف دیئے تھے۔ یہ بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ فلاں سے مستقبل میں کیا فائدہ اور کیا نقصان پہنچنے کا احتمال ہوسکتا ہے۔خاندان اور قریبی دوستوں کے بعد شہر سے باہر اور ملک کے مختلف شہروں میں رہنے والے احباب اور دوستوں کی الگ فہرست بنانی پڑتی ہے۔ بیرون ملک رہنے والوں کی بھی ایک لسٹ بنتی ہے۔ پھر سکول، کالج اور یونیورسٹی کے ہم جماعت اور پیشے سے متعلق لوگوں کی فہرست بنائی جاتی ہے‘ پھر ایک اجتماعی لسٹ تیار ہوتی ہے‘ فہرست پر دوبارہ نظر ثانی کی جاتی ہے اور ان لوگوں کے نام نکال دیئے جاتے ہیں جن کا ایسی دعوتوں میں ماضی میں طرز عمل قابل اعتراض یا ناقابل برداشت رہا ہے۔ اپنے دفتر یا کام کی جگہ پر قریبی دوستوں کے علاوہ ان بڑوں کو بھی بادل نخواستہ مدعو کرنا پڑتا ہے جس سے اکثر کام پڑتا ہے یا جن سے ایذا رسانی کا خدشہ ہوتا ہے۔ پھر ساتھ گاف، کرکٹ، فٹ بال، شکار کھیلنے والوں میں سے دو چار کو بلانا پڑتا ہے۔ فہرست کو دوبارہ دیکھنے کے بعد کچھ نام مزید یاد آتے ہیں انہیں بھی شامل کیا جاتاہے۔ دعوت پر لوگوں کو بلانا ایک فن ہے جس پر سیاسیات، ریاضی یا شماریات میں ایک الگ مضمون ہونا چاہئے۔

ایک خاندان کے دس افراد میں سے چار کا انتخاب کرنا بھی کوئی آسان کام نہیں‘اس لئے ہوشیار لوگ گھریلو تقریب میں مدعو کئے جانیوالے مہمانوں کی فہرست ایک مہینہ پہلے تیار کرتے ہیں پھر روزانہ کی بنیاد پر اس پر نظر ثانی کرتے ہیں کچھ نام خارج کچھ اندراج کرتے ہیں اور تقریب کے دن تک یہ معمول بنالیتے ہیں۔سرکاری افسروں کو ایسی تقریبات میں کم ہی بلایا جاتا ہے۔ سرکاری افسر ان اپنے محکمے کے لوگوں کو ہی مدعو کرتے ہیں۔ پولیس اور فوجی افسروں کا اپنا سرکل ہوتا ہے وہ اپنے ہی ہم پیشہ لوگوں کو دعوت دیتے ہیں۔ دعوتیں اڑانے کے زیادہ مواقع ڈاکٹروں کو ملتے ہیں خاندان میں کوئی دل کا مریض ہو۔ یا کسی کا بائی پاس آپریشن ہوا ہو‘ وہ لازمی طور پر کارڈیالوجسٹ کو بلاتا ہے‘ معدے کی تکلیف والے گیسٹروانٹرالوجسٹ کو ضرور مدعو کرتے ہیں سینے کی تکلیف والے چیسٹ سپشلسٹ کو ہی دعوت پر بلائیں گے تاہم سائیکاٹرسٹ یا سائیکالوجسٹ کو خال خال ہی کسی دعوت پر بلایا جاتا ہے کیونکہ دماغی امراض کے ماہر کو دعوت پر بلانے سے بہت سے رازوں سے پردہ اٹھنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔کچھ لوگ سوشل میڈیا پر دعوتی کارڈ اپ لوڈ کرتے ہیں۔ لوگ خود سمجھ جائیں گے کہ کس کس نے اس تقریب میں جانا ہے۔ جس کیلئے انگریزی میں’’ ٹو ہوم اٹ مے کانسرن‘‘ والا فارمولہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ بعد میں کسی کا گلہ نہیں رہتا اور کارڈ چھاپ کر تقسیم کرنے کی مصیبت سے بھی جان چھوٹ جاتی ہے۔ تاہم اس صورت میں بعض ناپسندیدہ عناصر کی دعوت میں شرکت کا احتمال بھی رہتا ہے۔ان تمام مشکلات اور ذہنی کوفت کے باوجود تقریبات اور دعوتوں کا انعقاد خوشی کا مواقع ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے۔ مہینے بھر کی محنت کا اختتام تین چار گھنٹے کی تقریب کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس دوران بہت سے لوگ آپ کی مدد اور معاونت کرتے ہیں۔ اور پتہ چل جاتا ہے کہ آزمائش کی گھڑی میں کون آپ کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ اور ایسے مدد گار لوگ معاشرے کیلئے رحمت ہوتے ہیں۔