بریکنگ نیوز
Home / کالم / یوسفی صاحب ‘ زہر نگاہ اور تکیہ تارڑ

یوسفی صاحب ‘ زہر نگاہ اور تکیہ تارڑ


کراچی لٹریری فیسٹول میں اس بار اتنا ہجوم تھا کہ اگر یہ سارا ہجوم سمندر میں اترجاتا ہے تو وہاں لوگوں کا ایک جزیرہ نمودار ہوجاتا اور یہ سب لوگ صرف ادب کے شیدائی نہیں ہوتے، سمندر کنارے پکنک منانے اور کچھ مشہور چہروں کو بھی دیکھنے کیلئے چلے آتے ہیں، خوراک کے سٹال درجنوں کی تعداد میں اور منرل واٹر کی بوتلیں اور پیپسی کولا مفت میں، اس دوپہر کراچی کے میئر نے مندوبین کیلئے لنچ کا اہتمام کیا، وسیم اختر پچھلے برسوں کی نسبت بوڑھے لگ رہے تھے، میں نے سبب پوچھا تو کہنے لگے انہوں نے جیل میں میرے ساتھ براسلوک کیا، یہاں مجھے ایک بڑی شرمندگی سے دوچار ہونا پڑا، پاکستان سینٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے مجھ سے رابطہ کیا، وہ اپنے انگریزی کے افسانوں کے حوالے سے ایک فلیپ چاہتے تھے، جو میں نے لکھوایا کہ افسانے خاصے معیاری تھے، ازاں بعد انہوں نے فرمائش کی کہ اسلام آباد میں منعقد ہونیوالی افتتاحی تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شامل ہوجاؤں، چونکہ انہوں نے ذاتی طورپر فون کرکے نہایت تحمل اور محبت سے فرمائش کی تھی اس لئے میں انکار نہ کرسکا، ان کا کہنا تھا کہ ان کی ذاتی گاڑی مجھے لاہور سے لے جائیگی، بعد ازاں میں نے اس سفر صعوبت کے بارے میں سوچا کہ اب واقعی مجھے تھکن ہوجاتی ہے، ہمت اتنی کم ہوگئی ہے کہ اپنے گھر ڈیفنس میں سنگ میل کے شورروم تک جاتا ہوں تو نڈھال ہوجاتاہوں،چنانچہ میں نے ایک مختصر مضمون لکھ کر انہیں روانہ کردیا اور اسلام آباد آنے سے معذرت کرلی، مجھے خبر ملی کہ مضمون پسندیدہ ہوا اور ربانی صاحب نے یہ جاننے کے باوجود کہ میں نہیں آرہا، سٹیج پر میرے لئے مخصوص ایک کرسی خالی رکھی، اب ہوا یہ کہ وسیم اختر کے لنچ کے دوران کیا دیکھتا ہوں کہ رضا ربانی چلے آرہے ہیں اور سیدھے میری طرف چلے آرہے ہیں، سخت خجل ہوا کہ وہ کیا سوچیں گے کہ اسلام آباد نہیں آیا کہ تھکن ہوجاتی ہے اور کراچی پہنچ گیا، بہر حال جب میں نے بہت معذرت کی تو میرے گھٹنوں کو ہاتھ لگا کر بولے ، جانے دیجئے تارڑصاحب، یہ بھی میرے لئے کافی ہے کہ آپ نے مضمون بھجوایا، اس پر مجاہدبریلوی نے کہا اور وہ اس تقریب میں شامل تھے کہ تارڑ کا مضمون بہت ’’شرارتی‘‘تھا۔

زہرہ نگاہ کے سیشن کیلئے مشتاق احمد یوسفی صاحب چلے آئے وہ اب کچھ کہتے نہیں ہیں، چپ بیٹھے رہتے ہیں بلکہ پچھلے برس کراچی آرٹس کے لٹریری فیسٹول میں ہم دونوں سٹیج پر بیٹھے ایک تقریب کی صدارت کررہے تھے تو انہوں نے مجھے بھی نہیں پہچانا، مسکراتے رہے لیکن زہر نگاہ کے فنکشن میں تو وہ باقاعدہ گئے، زمانوں کے فقرہ باز اورپر مزاح یوسفی ہوگئے، اس تقریب کی میزبانی کراچی لٹریری فیسٹول کی روح بے حد رواں آصف فرخی کررہے تھے، زہر نگاہ نے اپنی کسی نظم کانام لے کر یوسفی صاحب سے اجازت چاہی کہ یہ پڑھ دوں، اس پر یوسفی کہنے لگے ’’زہرہ یہ نظم تم ہر بار پڑھتی ہو، میں اجازت نہ دوں تب بھی تم پڑھو گی تو پڑھ لو‘‘ ایک اور موقع پر بات ہوئی کہ مائیں اپنی اولاد کیلئے زیادہ قربانی دیتی ہیں، باپ نہیں تو یوسفی کہنے لگے کیا ہم مردوں کو ماؤں کے برابر آنے کیلئے زچگی کے عمل سے بھی گزرنا پڑے گا؟

میرے سیشن کیلئے مین گارڈرن مخصوص کیا گیا تھا اور اس کے باوجود جگہ کم پڑگئی، لوگ کناروں پر کھڑے ہوتے گئے، میزبانی محترمہ زاہدہ حنا کی تھی اور انہوں نے خوب نبھائی، میرے تین تازہ ترین سفرنامے ’’اور سندھ بہتا رہا۔ پیار کا پہلا پنجاب اور لاہور آوارگی‘‘زیر بحث آئے لیکن زاہدہ بار بار میرے ناول ’’اے غزال شب‘‘کی جانب لوٹتی رہیں کہ یہ ان کا بہت پسندیدہ ہے اور ہاں اس دوران محترمہ دُردانہ سومرو سے بھی ملاقات ہوئی جنہوں نے ’’لینن فارسیل ‘‘کے عنوان سے اس کا انگریزی میں ترجمہ کیا ہے جو اشاعت کے مرحلوں میں ہے، میں پہلے بھی تذکرہ کرچکا ہوں کہ میرے نام کی ایک ریڈرز کلب قائم ہے جس میں تقریباً بارہ ہزار لوگ ایسے شامل ہیں جنہوں نے میرا ایک ایک حرف پڑھ رکھا ہے اور یہ لوگ نہایت باقاعدگی سے ملک کے مختلف حصوں میں ’’تکیہ تارڑ‘‘کے نام سے تقریبات کا اہتمام کرتے ہیں جہاں میری تحریروں کے اقتباس پڑھتے ہیں اور میرے بارے میں گفتگو کرتے ہیں اور یہ نشستیں عجب جگہوں پر منعقد کی جاتی ہیں، کبھی کسی برف پوش پہاڑی، کبھی ہڑپہ کے کھنڈروں، لاہور کی کسی قدیم حویلی میں اور کبھی کسی جزیرے میں، چنانچہ اس بار بھی انہوں نے ہمدرد یونیورسٹی کے تعاون سے میرے لئے ’’تکیہ تارڑ‘‘منعقد کیا اور میری سالگرہ ان ایڈوانس منالی، میں خاص طورپر ڈاکٹر نازش، تہمینہ صابر، رفعت بخاری ،ہاجرہ ریحان، باریش قادری، عثمان اور ایسے بہت سے چاہنے والوں کا شکر گزارہوا، سالگرہ کیک پر میری ایک تصویر نقش تھی جو تہمینہ صابر کا کمال تھا اور میں ایک مرتبہ پھر عرض کرتا ہوں کہ کون کہتا ہے ہمارے ملک میں ادیبوں کی پذیرائی نہیں ہوتی؟ ان کی قدر نہیں ہوتی؟ میری تو میری اوقات سے بڑھ کر ہوتی ہے، سالگرہ کے تحفوں کا ایک ڈھیر لگ گیا اور ان دوستوں میں اقبال خورشید کی آمد نے مجھے خوش کردیا، یوں بھی اس کی شکل بہت دل ربا ہے۔

ناول نگار محمد حنیف اور ایچ ایم نقوی نے اپنی رہائش گاہ پر میرے اعزاز میں پرتکلف ضیافتوں کا اہتمام کیا، فیسٹول کے دوران میری صحت اچھی نہ رہی، اتنے سینکڑوں لوگوں کی محبت نے مجھے نڈھال کردیا تو کیا آئندہ برس، اگر میرے نصیب میں ایک اور برس ہوا تو کیا میں ایک مرتبہ پھر کراچی آسکوں گا؟
آخری شب جب فیسٹول کا اہتمام ہوچکا تو میں نے اپنے کمرے کی کھڑی کھولی اور وہ سمندر پر کھلتی تھی اور ایکدم مجھے یوں محسوس ہوا جیسے چاندی رنگ کے درجنوں سمندری بگلے میرے کمرے میں چلے آتے ہیں اور وہ کائیں کائیں کرتے کہتے ہیں ’’تم آؤ گے ۔۔۔نہ آئے تو ہم تم سے اداس ہوجائیں گے‘‘