بریکنگ نیوز
Home / کالم / نئی نسل کی الگ سوچ

نئی نسل کی الگ سوچ


پی پی پی پر جب برے دن آئے تو اس کے لئی نامور ہنما ا س سے منہ موڑ گئے آج ہو ا کا رخ دیکھ کران میں سے چند دوبارہ کر واپس پی پی پی میں شامل ہو ہے ہیں فیصل صالح حیات اورنبیل گبول کے نام مثال کے طور پر لئے جا سکتے ہیں آئندہ چند روز میں مزید کئی بگھوڑے اپنے کئے پر شاید ندامت کا اظہار کر کے زرداری صاحب کی بینڈ ویگن پر دوبارہ چڑھ جائیں پی پی پی کی قیادت کو بھی ان بگھوڑوں کی پارٹی میں واپسی پر کوئی انکار نہیں اس کو پتہ ہے کہ جو رہنما واپس پی پی پی کا رخ کر رہے ہیں وہ الیکشن کی ریس میں جیتنے والے گھوڑے ہیں جنہیں پولٹیکل سائنس کی زبان میں ؑ Electableکہا جاتا ہے پی پی پی کی قیادت اچھی طرح جانتی ہے کہ جب تک اس ملک میں برادری ‘ لسانیت اور ذات پات کی بنیاد پر سیاست ہوتی رہے گی کہ جس کے ختم ہونے کے فی الحال کوئی آثا ر نہیں فیصل صالح حیات یا نبیل گبول یا ان جیسے دیگر کئی سیاست دان اسمبلیوں میں آتے رہیں گے پی پی پی کو الیکشن کی ریس جیتے والے گھوڑوں کی اشدضرورت ہے جو سیاست دان پی پی پی چھوڑ گئے تھے اور اب واپس آنے کے لئے ہاتھ پیر مار رہے ہیں وہ بھی جانتے ہیں کہ دوسری کسی سیاسی پارٹی میں جگہ بنانے کے لئے شاید انہیں کافی وقت لگے جبکہ پی پی پی کی قیادت انہیں اور وہ قیادت کو اچھی طرح اوپر سے نیچے تک جانتے ہیں اور پھر ان کا یہ بھی گمان ہے کہ شاید بلاول بھٹو کے منظر عام پر آنے اور پارٹی کی قیادت سنبھالنے سے 2018ء کے الیکشن میں پی پی پی کافی حد تک اپنی عظمت رفتہ کو بحال کر سکے عرفان اللہ مروت البتہ اس معاملے میں بدقسمت نکلے جونہی زرداری صاحب کی اشیر باد سے انہوں نے پی پی پی جائن کی زرداری صاحب کی دونوں صاحبزادیوں نے سوشل میڈیا پر ٹویٹر کے ذریعے جیسے سر پر آسمان اٹھا لیا۔

انہوں نے اپنے والد محترم کے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا اور یہ دلیل دی کہ چونکہ عرفان اللہ مروت صاحب ماضی میں ایک بدنام قسم کے مقدمے میں مبینہ طو پر ملوث بتاتے جاتے ہیں اس لئے ایسے شخص کو پی پی پی میں اپنی جگہ بنانے کی کوئی ضرورت نہیں اور پی پی پی کو اس قسم کے انسانوں سے دوررہنا چاہئے انہوں نے یہاں تک لکھ دیا کہ ان کو تو جیل میں ہونا چاہئے ہمیں یہ تو پتہ نہیں کہ جس بدنام مقدمے کا ان دو صاحبزادوں نے ذکر کیا ہے اس کا آخربنا کیا؟ کیا اس میں سے عرفان اللہ مروت صاحب با عزت بری ہو گئے تھے یا جس طرح کہ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے مقدمات میں ملوث افراد کے مقدمات کو اکثر قالین کے نیچے چھپا دیا جاتا ہے عرفان اللہ مروت کا کیس بھی Hush up کر دیا گیالیکن عام اصول تو یہی ہے کہ جن سیاست دانوں پرسنگین نوعیت کے فوجداری مقدمات ہوں وہ رضا کارانہ طور پر اپنے آپ کو سیاست سے دور رکھتے ہیں اور سیاسی پارٹیوں کا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ وہ کسی ہائی پروفائل شخص کو اپنی پارٹی کارکن بنانے سے پہلے دو مرتبہ سوچیں کہ کیا اس کا ماضی داغدار تو نہیں رہا ‘ خدا لگتی یہ ہے کہ آج کل کون ان باریکیوں میں جاتا ہے اور پھر اس ملک میں تو گھوڑے اور گدھے لائق اور نالائق ‘ دیانت دار اور بد دیانت میں کوئی تمیز کرتا ہی نہیں سیاسی پارٹیوں کے سربراہ بس یہ دیکھتے ہیں۔

کہ ان کی پارٹی جائن کرنے والا کوئی خواہشمند اگر بے دریغ اندھی دولت کا مالک ہے یا کوئی ڈان قسم کے شئے ہے تو وہ اسے سر آنکھوں پر بٹھا کراپنی پارٹی میں قبول کر لیتے ہیں ضیاء الحق سے بھلے کوئی لاکھ اختلاف کرے لیکن آئن میں آرئیکل 62 اور 63 کا اضافے کا مطلب ہی یہی تھا کہ الیکشن کے وقت جب کوئی امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تو ریٹرننگ افسر کا فرض بنتا ہے کہ وہ سو فیصد تسلی کرے کہ کیا وہ امیدوار صادق اور امین رہا ہے؟کیا وہ کسی ایسے فعل میں ملوث تو نہیں رہا کہ جس کی اسلام ممانعت کرتا ہے ؟ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہر شخص میں کوئی نہ کوئی نقص تو ہوتا ہے اور اگرآرٹیکل62 اور63 کے نفاذ میں سختی کی جاتی ہے تو پھر تو اسمبلیوں کے لئے کوئی فرد ملے گا ہی نہیں؟ اس موقف سے کئی لوگ اتفاق نہیں کرتے ان کی دانست میں یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ سیاسی پارٹیوں میں ایسے شخص سرے سے موجود ہی نہ ہوں کہ جو صادق اور امین نہ ہوں ‘ بہرحال الیکشن کے سارے عمل میں کاغذات نامزدگی کی صحیح جانچ پڑتال سب سے اہم چیز ہوتی ہے وہ حکومت کی عمارت کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے اگر وہ ٹیڑھی رکھ دی جائے تو پھر عمارت کا جو حشر ہو گا وہ سب لوگ جانتے ہیں زرداری صاحب کی صاحبزادیوں کی مندرجہ بالا تنقید کی خبر پڑھ کر ایک منچلے نے بہت کام کی بات کی اس نے کہا کہ فرعون کے گھر کبھی کبھی موسیٰ پیدا ہو جاتا ہے ۔