Home / اداریہ / پی ایس ایل اور ای سی او

پی ایس ایل اور ای سی او

پنجاب حکومت نے پاکستان سپر لیگ کا فائنل قذافی سٹیڈیم لاہور میں کرانے کا اعلان کیا ہے‘ خبر رساں ایجنسی کے مطابق فیصلہ وزیر اعظم نواز شریف کی مشاورت سے ہوا ‘ کرکٹ کے اس بڑے مقابلے کیلئے سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کئے جا رہے ہیں مہیا تفصیلات کے مطابق 5 حفاظتی حصار قائم ہونگے اور 10 ہزار سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا جائیگا میچ سے دو روز قبل قذافی سٹیڈیم سیل کر دیا جائیگا پی ایس ایل کے چیئرمین نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ آٹھ سکیورٹی ماہرین نے اس موقع پر لاہور آنے کی حامی بھری ہے ‘ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان آنیوالے غیر ملکی کھلاڑیوں کی تفصیل 3 مارچ تک سامنے آ جائیگی وطن عزیز میں کرکٹ کا بڑا ایونٹ 8 سال بعد ہو رہا ہے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ کوئی انہونی ہوگئی تو کرکٹ پاکستان سے 10 سال کیلئے دور ہو جائیگی ۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سخت سکیورٹی سے پاکستان کا کیا امیج جائے گا اطلاعات و نشریات کی وزیر مملکت مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ عمران خان بال ٹھاکرے نہ بنیں حکومت نے سکیورٹی کے انتظامات مکمل کئے ہیں دوسری جانب اقتصادی تعاون تنظیم کا اہم اجلاس آج اسلام آباد میں ہو رہا ہے اجلاس کے خصوصی انتظامات میں راولپنڈی اور اسلام آباد میں مقامی سطح پر تعطیل بھی شامل ہے‘ 1964ء میں قائم ہونیوالی اس اہم تنظیم کو مختصر وقفے کے بعد 1985ء میں دوبارہ فعال بنایا گیا۔

ای سی او کا بنیادی مقصد رکن ممالک کی پائیدار ترقی کو ان ممالک کے درمیان تجارت اور معاشی سرگرمیوں کے ذریعے فروغ دینا ہے اس اجلاس کے انعقاد سے پاکستان کوتنہا کرنے کی بھارتی کوششوں کی بری طرح ناکامی کا تسلسل جاری ہے ایک جانب ای سی او کا اجلاس اور دوسری طرف کرکٹ کا بڑا ایونٹ قابل اطمینان ہے تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ اس اہم مرحلے پر نفرت کی فضاء سے گریز کیا جائے اور پنجابی پختون کے حوالے سے تناؤ کی کیفیت ہر صورت ختم کی جائے‘ اس ضمن میں خیبرپختونخوا اسمبلی کی گزشتہ روز منظور ہونے والی قرار داد کا احترام کرتے ہوئے اقدامات اٹھانا ہونگے‘ وزیراعظم کے مشیر انجینئر امیر مقام نے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے بھی ملاقات میں یہ سوال اٹھایا ہے جس پر کرائی جانے والی مثبت یقین دہانی عملی ثبوت کے ساتھ ہی ثمر آور ثابت ہو گی ۔

صرف تھانے بہتر بنانا کافی نہیں

پشاور میں پولیس تھانوں کی حالت بہتر بنانے ‘ اہلکاروں کی رہائش اور خوراک کے ساتھ دیگر سہولیات کی فراہمی کے منصوبے کا آغازقابل اطمینان ہے‘ کسی بھی شعبے کے اہلکاروں کو سہولیات کی فراہمی فرائض کی بہتر انجام دہی میں معاون ہو تی ہے‘ پولیس تھانوں کی عمارتوں سے لیکر سٹیشنری کرسیوں اور پینے کے پانی تک سے متعلق شکایات عام ہیں جن کا ازالہ اعلیٰ سطح پر صورتحال کے ادراک کا عکاس ہے ‘اس سب کیساتھ اس حقیقت سے چشم پوشی ممکن نہیں کہ سروسز کی فراہمی صرف عمارتوں سے ممکن نہیں اس ضمن میں ہسپتال ہو یا تھانہ سکول ہو یا خدمات کی فراہمی کا کوئی دفترشہریوں کو اگر یہاں سروسز مہیا نہیں ہوتیں تو وہ عمارتوں کی بہتری سے کسی طور مطمئن نہیں ہوتے لہٰذا ضرورت پولیس اور شہریوں کے درمیان فاصلے کم کرنے اور تھانوں کو عوام دوست بنانے کیلئے عملی اقدامات کی ہے جن کے بغیر سب کچھ بے فائدہ ہی رہے گا اس مقصد کیلئے تھانوں کی سطح پر ہیلپ ڈسک موثر بنانا ہو گا۔