بریکنگ نیوز
Home / کالم / ڈاکٹر حفیظ / تیرے رخسار پہ تل کا مطلب

تیرے رخسار پہ تل کا مطلب


ایک شاعر نے محبوب کے چہرے پر تل کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے کہ ’’ اب میں سمجھا تیرے رخسار پہ تل کا مطلب۔ دولت حسن پہ دربان بٹھا رکھا ہے۔‘‘ تل کے دلدادہ ایک شاعر نے تو حد ہی کردی۔ کہنے لگے کہ میرے محبوب کے چہرے پر تل سمرقند اور بخارا کے شہروں سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔ مشرقی ادب میں تل کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ تل کو حسن کی نشانی قرار دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ خواتین اپنے چہرے پر تل کندہ کرواتی ہیں اور بعض بناؤسنگھار کے ذریعے نقلی تل چہرے پر سجاتی ہیں۔ماتھے، ٹھوڑی یا پنکھڑی پر چھوٹے سے تل کو لازوال حسن کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ہماری اردو شاعری اور نثر میں بھی تل کی تعریف و توصیف میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے گئے ہیں۔ تل کی خوبیاں گنوائی گئی ہیں۔ اور اس پر نظمیں، گیت، غزلیں، مضامین اور کتابین تک لکھی گئی ہیں۔ مقامی، قومی اور بین الاقوامی ادب میں بھی تل کا اہم مقام ہے۔ ادب سے تعلق رکھنے والے سبھی لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ چہرے پر تل کا نشان حسن کی رعنائی کو چار چاند لگادیتا ہے۔ گوری رنگت پر تل کا نشان بہت جچتا ہے۔ اور اسے نسوانی حسن کے نکھار کا ضامن سمجھا جاتا ہے۔ اسے ادیبوں نے ہی نہیں بلکہ نجومیوں، ستارہ شناسوں اور دست شناسوں نے بھی اپنا موضوع بحث بنایا ہے۔ تل سے موافق زیورات اور قیمتی پتھر کا چناؤ کیا جاتا ہے۔ ہونٹوں کے قریب تل والی کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ تیز طرار اور جھگڑالو ہوتی ہے۔

کچھ لوگ اسے خواہش، استقامت اور جذبات کا عکاس بھی قرار دیتے ہیں۔ سینے پر سرخ رنگ کا تل ہو۔ تو اسے خوش بختی کی علامت قرار دیا جاتا ہے۔ ایسے تل والے لوگ بہت زیادہ پیار، شفقت اور محبت کرنیوالے اور بچوں کیساتھ گھل مل جانیوالے ہوتے ہیں۔ ٹانگ پر تل کا نشان جفاکش اور ذمہ دار شخصیت کی علامت بتائی جاتی ہے۔ ہتھیلی پر تل والے کو قسمت دار تصور کیا جاتا ہے۔ گردن پر سامنے کے حصے میں تل کا نشان والا آدمی بات بات پر بحث و تکرار کرتا ہے۔ اس کی خاندان اور دوستوں کیساتھ بھی ان بن رہتی ہے۔ کندھے پر جس کا تل ہو۔ اسے سماجی طور پر اپنا مقام بنانے میں سخت محنت کرنی پڑتی ہے۔چین کے لوگ خود کو تل شناسی میں یکتا قرار دیتے ہیں۔ ماہر فکلیات تنگ شو کوانسانی جسم کی علامات، پتھروں کی پہچان اور لکیرشناسی میں اتھارٹی کا درجہ حاصل ہے۔انہوں نے انسانی چہرے کو پچیس مختلف حصوں میں تقسیم کیا ہے اور ہر حصے کا الگ نام رکھا گیا ہے۔ ان کے مطابق پیشانی کے وسط میں تل کا نشان والے لوگ باغیانہ مزاج کے حامل ہوتے ہیں۔وہ کسی کی بات نہیں مانتے‘ جو جی میں آئے وہ کرگزرتے ہیں۔ چہرے کے مختلف حصوں کے درمیان تل والے لوگ آزاد منش ہوتے ہیں اور کاروبار میں بہت ترقی کرتے ہیں۔ آبرو کے بالائی حصے میں تل والے لوگ خوش قسمت ہوتے ہیں لیکن انہیں آسانی سے دھوکہ دیا جاسکتا ہے۔ آنکھ کے پپوٹوں پر تل کا نشان والے لوگ اعلیٰ پائے کے فنکار، ذہین اور تخلیقی صلاحیتوں کے حامل ہوتے ہیں دولت اور شہرت ان کے قدم خود چومتی ہے۔ ناک کے اوپر جس کے تل ہو۔ تو وہ مالی مشکلات کا شکار رہتا ہے اور فضول خرچ ہوتا ہے۔ ناک کے نیچے بالائی ہونٹ پر تل والے لوگ حقیقت پسند اور وعدہ نبھانے والے ہوتے ہیں تاہم وہ زیادہ جذباتی نہیں ہوتے۔ نچلی ہونٹ اور ٹھوڑی کے نیچے تل والے لوگ بیسیار خور ہوتے ہیں ۔ گالوں پر تل والے لوگ خوش اخلاق اور تعلق بنانے میں ماہر ہوتے ہیں۔ وہ ہر ایک سے گرم جوشی سے ملتے ہیں اور دوست بنانا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہوتا ہے۔

طبی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو چہرے سمیت جسم کے کسی حصے میں تل پیدا ہونا جلد کی ساخت میں تبدیلی کی علامت ہے۔ کبھی کبھار تل اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ پہلی نظر ہی اس پر پڑتی ہے۔ بڑا تل شخصیت کو چھپا دیتا ہے۔ اور وقت کیساتھ اسکا سائز بڑھ جانا بھی خطرے کی علامت ہے۔ ناپسندیدہ اور بڑے تلوں سے نجات پانا لوگوں کے لئے درد سر بن جاتا ہے کچھ لوگ دیسی ٹوٹکے استعمال کرتے ہیں جن کے نتائج بسا اوقات حوصلہ افزاء نکلتے ہیں۔ کچھ لوگ سیب کا عرق، پکانے کا سوڈا، زیتوں کا تیل اور شہد ملاکر تل پر لگاکر باندھ دیتے ہیں ۔کبھی ادرک اور کیلے کے چھلکے ، ایوڈین اور اولوویرا کے پتوں کا رس آزمایا جاتا ہے۔ چائے کے درخت کا تیل بھی تل کو ختم کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان دیسی ٹوٹکوں سے کبھی کبھار فائدہ بھی ہوتا ہے۔ تاہم اس سے تمام تل ختم نہیں ہوتے ۔ بازار میں دستیاب کریمیں بھی زیادہ موثر ثابت نہیں ہوتیں۔بعض لوگ تل سے نجات حاصل کرنے کیلئے بلیڈ سے اسے کاٹ دیتے ہیں جو ایک خطرناک عمل ہے۔ اس عمل سے کوئی تکلیف دہ صورتحال پیدا نہ بھی ہوجائے تو تل کی جگہ بدنما داغ بن جاتا ہے۔ تل کو کاٹنے یا ہٹانے کے بارے میں کسی ماہر امراض جلد سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔ جو چار مراحل میں اس کا معائنہ کرنے کے بعد تل کو کاٹنے یا نہ کاٹنے کا فیصلہ کرسکتا ہے۔ سارے تل ایک جیسے نہیں ہوتے۔ تل کا ایک پہلو رنگت میں دوسرے سے مختلف ہوسکتا ہے۔ اس کے حلقے مختلف رنگ کے ہوسکتے ہیں۔

کبھی سیاہ، کبھی بھورا، کبھی سرخی مائل ہوجاتا ہے۔ اس کا سائز بڑھنے لگ جاتا ہے۔ اگر بایوپسی لے کر ٹیسٹ کئے بغیر اسے کاٹا گیا تو وہ پھیل سکتا ہے جو کینسر کی علامت ہے۔میڈیکل سائنس کی نظر سے دیکھا جائے تو تل کا علاج موجود ہے۔ پہلا علاج سرجیکل شیو کہا جاتا ہے جس کے ذریعے تل کو سائنسی طریقے سے ہٹایا جاتا ہے اور اس کا کوئی داغ بھی نہیں رہتا۔ دوسرا طریقہ آپریشن کے ذریعے تل کو جڑسے نکالنا ہے۔ اگر ڈاکٹر محسوس کرے کہ تل بڑا ہوکر کینسر کا سبب بن سکتا ہے تو اسے ابتدائی مرحلے میں ہی ختم کیا جاتا ہے۔تل کو جلا کر بھی ختم کیا جاسکتا ہے اور شعاعوں کے ذریعے بھی اسے ختم کیا جاسکتا ہے۔ تاہم بڑے سائز کے تل شعاعوں کے ذریعے نہیں مٹائے جاسکتے۔ تل کے سائز اور رنگت پر نظر رکھنی چاہئے اگر اس میں تغیر نظر آنے لگے۔ یا وہ غیر ضروری لگیں تو ڈاکٹر سے مشورہ کرکے انہیں ختم کرنے کے اقدامات ناگزیر ہیں۔