بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / ڈگری تعلیم اور اصلاحات

ڈگری تعلیم اور اصلاحات


تعلیمی نظام کسی بھی ملک کے نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں اس شعبے کو ہمیشہ سے نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ہمارے ہاں اعلیٰ تعلیم یعنی جامعات اور ثانوی واعلیٰ ثانوی تعلیمی درجات کے درمیان ایک درجہ ایسابھی ہے جو اب تک سب سے زیادہ متاثر چلا آ رہا ہے۔تعلیم کا یہ شعبہ ڈگری لیول یا کالجز کی سطح کی تعلیمی سرگرمیوں پر مشتمل ہے‘ خیبر پختونخوا میں اس وقت سینکڑوں انٹر،ڈگری اور پوسٹ گریجویٹ کالجز قائم ہیں جن میں سے بعض محدود سطح پر انٹرکی تعلیم دے رہے ہیں،بعض بی اے بی ایس سی کی سطح پر ڈگری تعلیم دے رہے ہیں جبکہ کچھ پوسٹ گریجویٹ کالجز ہیں جہاں انڈر گریجویٹ تعلیم کی سہولیات کے ساتھ ساتھ ایم اے ایم ایس سی کی تعلیم بھی دی جا رہی ہے۔ بدقسمتی سے کالجز کی حد تک ہمارا تعلیمی نظام آج بھی آدھا تیتر آدھا بٹیر کا منظر پیش کر رہا ہے۔ ہمارے ہاں بعض ایسے انٹر میڈیٹ کالجز قائم ہیں جہاں صرف ایف اے ایف ایس سی یعنی فرسٹ ایئر اور سیکنڈ ایئر کی کلاسیں ہوتی ہیں۔ بعض ہائر سیکنڈری سکولز ایسے ہیں جہاں مڈل اور میٹرک کی تعلیم کے ساتھ گیارہویں اور بارہویں جماعتوں کی تعلیم بھی دی جاتی ہے جبکہ بعض بلکہ اکثر ڈگری کالجز ایسے ہیں جہاں ایف اے ایف ایس سی کیساتھ ساتھ تھرڈ ایئر اور فورتھ ایئر یعنی بی اے بی ایس سی کی کلاسیں بھی ہو رہی ہیں۔ان ہی ڈگری کالجز میں بعض کو پوسٹ گریجویٹ کالجز کا درجہ دیا گیا ہے جہاں ایم اے ایم ایس سی کی تعلیم بھی دی جاتی ہے جو بنیادی طور پر جامعات کا مینڈیٹ ہے۔اس تقسیم در تقسیم اور تعلیم کو غیر مربوط اور پیچیدہ انداز میں تقسیم کرنے کا زیادہ تر نقصان ہماری نوجوان نسل اور انکے ٹیلنٹ کو پہنچ رہا ہے۔

موجودہ صوبائی حکومت جو تبدیلی کے ایجنڈے کے تحت برسراقتدار آئی تھی اور جس نے زندگی کے مختلف شعبوں میں اصلاحات کے ایک جامع عمل پر کام کا آغاز کیا ہے سے بجا طور پر توقع رکھی جا سکتی ہے کہ وہ اپنی دو ترجیحات یعنی تعلیم اور صحت میں اصلاحات کے جس ایجنڈے کا نفاذ چاہتی ہے اس ضمن میں اس کی جانب سے ایک خصوصی توجہ کالجز کے نظام کو درست کرنے اور اس نظام کو قومی امنگوں اور جدید رجحانات کے تحت منظم کرنے کی ضرورت کو بھی شدت کیساتھ محسوس کیا جارہاہے ۔موجودہ حکومت کی جانب سے کالجز کے نظام میں اصلاحات کے جس ایجنڈے پر کام کا آغاز کیا گیا تھا اس میں ڈگری کالجز میں چار سالہ بی ایس پروگرام کے اجراء کے علاوہ ان کالجز کو مرحلہ وار خود مختاری دینے کا فیصلہ شامل تھا لیکن چونکہ ان اصلاحات پر تمام سٹیک ہولڈرز بالخصوص کالجز کے ٹیچرز سے مشاورت نہیں کی گئی تھی اس لئے حکومت نے اس نظام کے نفاذ کا جیسے ہی اعلان کیا حسب توقع اساتذہ برادری اس کے خلاف میدان میں نکل آئی وہ دن اور آج کا دن ان دونوں منصوبوں کے حوالے سے کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ یہ بات ایک ایسی تلخ زمینی حقیقت ہے جس کا انکار شاید ممکن نہیں ہوگا کہ من حیث القوم ہم چونکہ روایت پسند واقع ہوئے ہیں اور ہم تبدیلی اور اصلاحات پر کم ہی یقین رکھتے ہیں اس لئے جب بھی کوئی حکومت کسی جمے جمائے نظام کی اصلاح کی کوشش کرتی ہے تو ایک مخصوص طبقہ اس کے خلاف میدان میں نکل آتا ہے۔

ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ڈگری کالجز کا موجودہ نظام جو چند مخصوص روایتی مضامین میں بی اے بی ایس سی اور آگے جا کر ایم اے ایم ایس سی کی صورت میں محض ڈگریاں بانٹ رہا ہے آخر ان ڈگریوں اور اس نظام کا حاصل کیا ہے اور کیا یہ نظام معاشرے کو ہر سال ہزاروں یا شاید لاکھوں کی تعداد میں غیر ہنرمند نوجوانوں کی فوج ظفر موج کی فراہمی کا ذریعہ نہیں ہے جن کی معاشرے میں سوائے اساتذہ بننے کی اور کوئی خاص کھپت نہیں ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہمیں اپنے سارے تعلیمی نظام کا از سر نو تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے اپنی ضروریات اورجدید تقاضوں سے ہم آہنگ ایک موثر اور جاندار تعلیمی نظام وضع کرنا ہوگا جس میں ہر طالب علم کو اس کی قابلیت اور رجحان کے مطابق انٹر میڈیٹ کے بعد چار سالہ تعلیم کے مواقع دستیاب ہوں‘ ان شعبوں میں چارسالہ تعلیم کے بعد جو طلباء وطالبات ان ہی شعبوں میں مزید اعلیٰ تعلیم کے خواہشمند ہوں انہیں دوسالہ ایم ایس اور ایم فل کے علاوہ پی ایچ ڈی کی سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں‘اس طرح نہ صرف ہمارے لاکھوں طلباء وطالبات کو اپنی تعلیمی استعداد اور رجحان کے مطابق بہتر اور موزوں شعبوں کے انتخاب کے مواقع بھی دستیاب ہو سکیں گے‘اگر ایک جانب نوجوانوں کو بہتر تعلیمی چوائس اور بعدازاں بہتر روزگار کی صورت میں ملے گا تو دوسری طرف اس سے ملک وقوم کو بھی یقیناًاجتماعی فائدہ ہوگا۔