بریکنگ نیوز
Home / کالم / عتیق صدیقی / امریکہ کی نئی خارجہ پالیسی

امریکہ کی نئی خارجہ پالیسی


دسمبر میں صدر ٹرمپ نے تائیوان کی صدر سائی انگ وین سے کہا تھا کہ وہ صرف ایک چین کی پالیسی پر یقین نہیں رکھتے اور وہ انکے ملک کے ساتھ دو طرفہ سفارتی تعلقات قائم کریں گے اس پر امریکی میڈیا نے انہیں یاد دلایا کہ واشنگٹن گذشتہ چوالیس برس سے ون چائنا پالیسی پر کاربند ہے اور چین کسی بھی ایسے ملک سے تعلقات نہیں رکھتا جو تائیوان کی جداگانہ حیثیت کو تسلیم کرتا ہو چین نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید رد عمل کا اظہار کیا تھا اب چند روز پہلے صدر ٹرمپ نے چین کے صدر ژی جن پنگ سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک چین کی پالیسی کو بر قرار رکھیں گے ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر بننے کے بعد پانچ ہفتوں میں خارجہ معاملات کے بارے میں کئی ایسے بیانات دےئے ہیں جو انکی انتخابی مہم کے وعدوں کی نفی کرتے ہیں دو ہفتے قبل اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو صدر ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کرنے آئے تو انہیں توقع تھی کہ صدر امریکہ اپنے انتخابی وعدوں کے مطابق اسرائیل کے دارلخلافے کو تل ابیب سے بیت لمقدس تبدیل کرنے کے علاوہ انکی ویسٹ بینک پر بننے والی نئی آبادیوں کی بھی حمایت کریں گے مگر وائٹ ہاؤس کے نئے مکین نے دارلخلافے کی تبدیلی کا ذکر تک نہ کیا بلکہ یہ کہا کہ انکے خیال میں نئی آبادیاں امن کیلئے اچھی بات نہیں صدر ٹرمپ نے اپنے ووٹروں سے ایران کے ساتھ براک اوباما کے کئے ہوے ایٹمی معاہدے کو منسوخ کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا اب انکے ایک مشیر نے یورپی یونین کے خارجی امور کے ایک سینئر افسر Federica Mogherini کو یقین دلایا ہے کہ امریکہ اس معاہدے کی پابندی کرے گا ان تبدیلیوں کے بعد اب یہ تاثر عام ہو رہا ہے کہ نئے صدر اپنے انتہا پسند انتخابی وعدوں پر عمل کرنے کی بجائے میانہ روی سے کام لیں گے۔

ان تبدیلیوں سے کیا یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ صدر ٹرمپ اپنے انتخابی مہم والے خارجہ پالیسی کے ایجنڈے سے انحراف کا فیصلہ کر چکے ہیں وہ اگرا س میانہ روی پر کاربند رہتے ہیں تو پھر یہ کہنا درست ہو گا کہ واشنگٹن کی ڈیفنس اسٹیبلشمنٹ انہیں قوم پرستوں کی تحریک کے تسلط سے آزاد کرانے میں کامیاب ہو گئی ہے اس صورت میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ امریکہ کے دفاعی حکمت کاروں کی خارجہ پالیسی کے خدوخال اور ایجنڈا کیا ہے اس کا اندازہ لگانا اسلئے مشکل نہیں کہ ری پبلکن پارٹی اور دفاعی ماہرین گزشتہ بہتر برسوں سے دوسری جنگ عظیم کے بعد لاگو ہونے والے عالمی نظام کو بر قرار رکھنے کی کوشش کرتے رہے ہیں یہ عالمی نظام امریکہ کی سربراہی میں چلنے والے اتحادوں‘ اداروں‘ تنظیموں اور جمہوریتوں پر مشتمل ہے یہ ماہرین اور امریکی خفیہ ایجنسیاں اس بات پر متفق ہیں کہ اس نظام کو سب سے زیادہ خطرہ روس سے ہے ماسکو کیساتھ اڑتالیس برس تک سرد جنگ میں الجھے رہنے کے بعد وہ اس سے کسی بھلائی کی توقع نہیں رکھتے صدر ٹرمپ اس وقت ایک طرف ری پبلکن پارٹی اور دفاعی ماہرین اور دوسری طرف اپنی پاپولسٹ تحریک کے نظریاتی مفکرین کے جھرمٹ میں پھنسے ہوئے ہیںیہ مفکرین عصر حاضر موجودہ عالمی نظام کو از کار رفتہ سمجھتے ہیں اور ولادی میرپیوٹن کواپنا ممدو معاون کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے یہ گروہ جس نئے نظام کی داغ بیل ڈالناچاہتا ہے اسے سمجھنے کیلئے ہمیں اس نسل پرست تحریک کے ایک معمار Steve Bannon کے افکار سے رجوع کرنا پڑیگا۔

صدر ٹرمپ کے مشیر خاص سٹیو بینن نے 2014 میں روم میں ہونے والی ایک مذہبی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا ’’ کسی زمانے میں مسیحی اور یہودی ریاستوں کا ایک گروپ سرمایہ دارانہ نظام کی ایک انسان دوست تعبیر پر یقین رکھتا تھا ان ریاستوں نے باہم مل جل کر مربوط اور ہم آہنگ معاشروں کی تخلیق اور تعمیر کی کوشش کی تھی مگر گذشتہ چند دہائیوں میں عالمی اشرافیہ نے آزاد خیالی اور کھلی سرحدوں کے ایجنڈے پر عمل کر کے مسیحی اور یہودی طرز زندگی کی اخلاقی بنیادوں کو منہدم کر دیا ہے‘‘ بینن نے اس خطاب میں کہا تھا’’ اب معتدل اور انسان دوست سرمایہ دارانہ نظام کی جگہ ایک ایسا وحشت ناک نظام مسلط کر دیا گیا ہے جس نے ہمیں تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے قومی ریاستوں پر عالمی اشرافیہ کے ایک طاقتور گروہ نے قبضہ کر لیا ہے ان نیشن سٹیٹس کو یورپی یونین جیسے بے سروپا اتحادوں میں جکڑ کر رکھ دیا گیا ہے ہم جنس پرستوں کی شادیوں اور اسقاط حمل کی کھلی چھوٹ نے ہماری اخلاقی اقدار کے تانے بانے کو بکھیر کر رکھ دیا ہے‘‘ سٹیو بینن نے کھلے لفظوں میں کہا کہ ’’مغرب کی ان اخلاقی اور اقتصادی کمزوریوں کے نتیجے میں آج ایک پر اعتماد مگر سزا یافتہ اسلامو فاشزم ایک بہت بڑا خطرہ بن چکا ہے‘‘
سٹیو بینن کے خیال میں ولادی میر پیوٹن مغرب کا ایک ایسا قیمتی اتحادی ہے جو کثیر القومی’ کثیرا للسانی اور کثیرا لکلچرل عالمی نظام کی جگہ مضبوط قومی ریاستوں کے نئے نظام کو لانا چاہتا ہے ویٹی کن میں ہو نے والی اس مذہبی کانفرنس میں سٹیو بینن نے کہا تھا ” We, the Judeo Christian west, really have to look at what Putin is talking about, as far traditionalism goes. ” اس تقریر سے یہ نتیجہ اخذ کرنا غلط نہ ہو گا کہ پیوٹن اور بینن تہذیبوں کے تصادم کی تھیوری پر یقین رکھتے ہیں بینن کے خیالات اور پیوٹن کی ریاستی حکمت عملی سے پتہ چلتا ہے کہ دونوں اپنے آپ کو روس سے امریکہ تک جاری و ساری نسل پرست تحریک کا ر ہبر سمجھتے ہیں امریکہ کی نئی خارجہ پالیسی کے حوالے سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ تحریک اتنی طاقتور ہے کہ یہ ری پبلکن پارٹی اور واشنگٹن کی دفاعی اسٹیبلشمنٹ کو دیوار سے لگا دے سٹیو بینن کو دنیا بھر میں ایک نیا عالمی نظام نافذ کرنے کیلئے وائٹ ہاؤس میں پیوٹن جیسا نظریاتی‘ باخبر‘ مذہب پرست اور ڈسپلن کا پابند صدر چاہئے ڈونلڈ ٹرمپ ولادی میر پیوٹن نہیں بن سکتا ان حالات میں سٹیو بینن اگر خارجہ معاملات میں کوئی انقلابی تبدیلی لانیکی کوشش کریگا تو اسے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑیگا اور یہ جنگ اسے ایک ایسے لیڈر کی قیادت میں لڑنا پڑیگی جو بلندوبالا مقاصد پر نہ صرف یقین نہیں رکھتا بلکہ اسے اس قسم کی کسی جنگ سے کوئی دلچسپی بھی نہیں ہے۔

اسوقت تک صدر ٹرمپ خاصی حد تک واشنگٹن کی دفاعی اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں کے مطابق فیصلے کر رہے ہیں گذشتہ ہفتے انکے نائب صدر مائیک پنس ‘ وزیر دفاع جم میٹس اور وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن مختلف یورپی ممالک میں پرانے اتحادیوں سے ملاقاتیں کر کے انہیں یقین دلا چکے ہیں کہ نیٹو اتحاد برقرار رہے گا اور امریکہ اس سے دستبردار ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا امریکہ کی نئی خارجہ پالیسی کے تناظر میں ایک اہم بات یہ ہے کہ افغانستان میں آج بھی واشنگٹن کے دفاعی بجٹ کا بہت بڑا حصہ خرچ ہو رہا ہے کابل میں آجکل صرف نوہزار چار سو امریکی سپاہی اور ایڈوائزر متعین ہیں مگر اس ملک کو مکمل طور پر طالبان کے نرغے میں جانے سے بچانے کیلئے اور اسکی حکومت کو قائم و دائم رکھنے کیلئے امریکہ کو ہر سال اربوں ڈالر خرچ کرنے پڑ رہے ہیں اسکے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ نے آج تک افغانستان کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا صدر امریکہ نے چند روز پہلے صدر اشرف غنی سے فون پر بات چیت کی تھی مگر انہوں نے آج تک افغانستان اور پاکستان کے بارے میں کوئی پالیسی بیان نہیں دیا اس مسئلے کو زیادہ دیر تک ملتوی نہیں رکھا جا سکتا فی لحال یہی کہا جا سکتا ہے کہ صدر ٹرمپ کے سامنے جو آپشنز پڑے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ براک اوباما کی پالیسی کو جاری رکھتے ہوئے موجودہ فوج کی مدد سے کابل میں حکومت بھی قائم رکھی جائے ۔

اور آس پاس کے ممالک پر نگاہ بھی رکھی جائے دوسرا یہ کہ پرانی پالیسی تبدیل کرتے ہوئے پاکستان کو اعتماد میں لیکر امریکی تاریخ کی اس طویل ترین جنگ کو اختتام پذیر کر دیا جائے اسوقت دوسرے آپشن کے نافذالعمل ہونے کے امکانات اسلئے زیادہ ہیں کہ ری پبلکن پارٹی ہمیشہ سے پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کیساتھ مل کر افغانستان کے معاملات چلانے کی پالیسی پر کاربند رہی ہے اب یقیناًصورتحال بہت بدل چکی ہے افغانستان ایک آزاد جمہوری ملک بن کر اپنے قدموں پر کھڑا ہونا چاہتا ہے اس جہدوجہد میں اسکی کامیابی پورے خطے کے امن و امان کیلئے سود مند ہو گی مگر اس منزل تک پہنچنے کیلئے امریکہ کو پاکستان کے تعاون کی ضرورت ہو گی یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے اس میں پاکستان کو چین کے اور امریکہ کو انڈیا کے تحفظات کو ملحوظ خاطر رکھنا پڑیگا اس جنگ کے تمام سٹیک ہولڈر سوائے انڈیا کے اس فساد کو ختم کرنا چاہتے ہیں اسلئے اسکے کسی حل کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا دوسری طرف اگر وائٹ ہاؤس میں بیٹھے ہوئے پاپولسٹ نسل پرست خارجہ پالیسی اپنے قبضے میں لے لیتے ہیں تو وہ ولادی میر پیوٹن کی مدد سے اس جنگ کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے دیکھئے کیا گذرتی ہے قطرے پہ گہر ہونے تک۔