بریکنگ نیوز
Home / کالم / آصف نثار / مجسٹریسی نظام اور نیشنل ایکشن پلان

مجسٹریسی نظام اور نیشنل ایکشن پلان


موجودہ حالات میں کہ جب ایک مرتبہ پھر بدامنی کاجن بوتل سے نکلنے کی کوشش میں مصروف ہے پھر سے اسی آزمود ہ نظام کی بحالی کیلئے صدائیں بلندہورہی ہیں جوانگریزوں نے ہندوستان پر قبضہ کے بعدنافذ کرکے پھر کم و بیش ایک صدی تک چلاکردکھایا اور اس کی مدد سے انگریزوں نے محض چند سو افسران کے ساتھ برصغیر پر کامیابی کیساتھ راج کیا ا س نظام کی افادیت کا اندازہ ا س امرسے لگایا جاسکتاہے کہ کانگریس اورمسلم لیگ دونوں نے انگریزوں کیخلاف آزاد ی کی جدوجہد کی مگر آزادی کے حصول کے بعددونوں انگریز مخالف جماعتوں نے بھارت اورپاکستان دونوں ممالک میں اس آزمودہ مجسٹریسی نظام کو پھربرقرار رکھا گویا قائد اعظم محمد علی جناح اور پنڈت جواہر لال نہرو جیسے رہنما بھی اس نظام کی افادیت کے قائل تھے اوراسی لئے ابتدائی ادوار میں امن وامان کی صورت حال بے قابو ہونے نہیں پائی تھی مگرپھر یکلخت اس سسٹم کی چھٹی کردی گئی جسکے ساتھ ہی بدانتظامی ،بدامنی ،مہنگائی ،ملاوٹ اورچور بازاری کا جن بے قابو ہوکر پوری قوم کو نگلنے لگا مگر افسو س کہ حکمرانوں نے آنکھیں اورکان بندکئے رکھے اگر دیکھاجائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اس سسٹم میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا عہدہ درحقیقت سیفٹی والووکی حیثیت رکھتا تھا آج بھی اگر ایگزیکٹو مجسٹریسی کا نظام بحال کیاجائے تو صورتحال بہتر ہو سکتی ہے یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ صرف قیمتیں چیک کرنے سے کچھ نہیں ہوگا گورننس کنٹرول کرنے کیلئے مجسٹریسی رول انتہائی ضروری ہے موجودہ حالات میں پولیس‘ مجسٹریٹس ‘ انجینئر‘ ڈیپارٹمنٹس اور سول سوسائٹی کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا کچھ حلقے مجسٹریٹس کے اختیارات پر معترض رہتے تھے لیکن یہ لوگ کیوںیہ بھول جاتے ہیں ۔

اگر مجسٹریٹس کے پاس عدالتی اختیارات تھے تو آئین اورقانون کے مطابق ہی تھے مجسٹریل سسٹم کی بدولت اوورسائٹ کا نظام موجود تھا جب یہ نظام ختم ہوا تو گورننس خراب ہوتی چلی گئی مجسٹریٹ عدالتوں میں بیٹھ کر فیصلے کرنے کیساتھ ساتھ انتظامی معاملات میں بھی اہم کردار ادا کیا کرتے تھے امن وامان کامسئلہ جب پیدا ہوتا تو مجسٹریٹ پولیس کے ساتھ ساتھ رہتا اور پولیس اس کی ہدایات پر عملدرآمد کی پابند ہوا کرتی تھی وہ ایک پورا ضلعی نظام تھا ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ہوتے تھے پھر سی آر پی سی کے تحت تھانہ مجسٹریٹ تھے یہ افسران عدالتی اختیارات کے معاملہ میں ہائی کورٹ کو جواب دہ تھے جبکہ انتظامی اختیارات کے معاملہ میں ڈپٹی کمشنر کے سامنے پابند تھے ڈپٹی کمشنر پھر بھی ان سے پوچھ گچھ کر سکتا تھا آپکے تھانے کی حدود میں بدامنی کیوں ہے؟ گویا ایک مکمل نظام تھا‘ اب صرف ایک پہیہ چلانے سے کچھ نہیں ہوگا بھارت میں یہ نظام آج بھی چل رہا ہے اگر موجودہ صورتحال میں اس کو من وعن بحال کر دیا جائے تو کچھ نہ کچھ بہتری کی امید رکھی جانی چاہئے کہ اس سسٹم کے خاتمہ سے کافی مسائل پیدا ہوئے کیونکہ ڈی سی کا کردار بہت مضبوط تھا وہ نہ صرف ایک منتظم ہوا کرتا تھا بلکہ ریونیو کلکٹر کے فرائض بھی انجام دیا کرتا تھا پھر بحیثیت ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اس کے پاس انتظامی اختیارات بھی ہوا کرتے تھے۔

یوں امن وامان کنٹرول کرنا اسکی ذمہ داری تھی بہت سے سینئرافسران اس وقت حکومتی رٹ کی بحالی اور نفاذ کیلئے کوئی سنٹرل کوآرڈینیٹر ہی نہیں پولیس کا کردارPreventive ہر گز نہیں وہ تو واقعات کے بعد حرکت میں آتی ہے اسی مقصد کیلئے ڈپٹی کمشنر کا ادارہ تھا اس ادارے کو جب راتوں رات ختم کردیاگیا تو وطن عزیز نے اس کی بھاری قیمت بھی ادا کی اس وقت جبکہ نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عملدرآمدکے مطالبات میں شدت آتی جارہی ہے اورساتھ ہی آپریشن ردالفسادبھی شروع کردیاگیا ہے تو ضرورت اس امرکی ہے کہ تمام صوبے مل کروفاقی حکومت پردباؤڈالیں کہ وہ اس سسٹم کی فوری بحالی کیلئے آئینی ترمیم لیکرآئے کیونکہ اس کیلئے سی آر پی سی کی بعض دفعات میں ترامیم کرنی پڑیں گی اگر فوجی عدالتوں کی توسیع کے معاملے پر وفاقی حکومت چاروں صوبوں اور تمام بڑی جماعتوں کو متحد کرسکتی ہے تو مجسٹریسی نظام کی بحالی پر تو اس وقت اتفاق رائے کاحصول انتہائی آسان ہوچکاہے لہٰذا اگر حکومت اس حوالے سے بھی سنجیدگی کامظاہرہ کرتے ہوئے مجسٹریسی نظام کو بحال کرتی ہے تو نہ صرف بدانتظامی کے بطن سے پیداہونے والی برائیاں یعنی چوربازاری ،تجاوزات ،ملاوٹ ،مہنگائی وغیرہ پر قابو پایاجاسکتاہے بلکہ موجودہ بدامنی کاگلہ بھی کامیابی کیساتھ گھونٹا جاسکتاہے چنانچہ مجسٹریسی نظام کی بحالی نیشنل ایکشن پلان کی کامیابی کیلئے بھی بہت ہی ضروری ہوچکی ہے اگروفاقی حکومت اس معاملے میں کوتاہی سے کام لے گی تو یہ اس قوم کیساتھ بہت بڑی زیادتی ہوگی اس سلسلے میں میڈیاکو بھی کرداراداکرناچاہئے نان ایشوزپروقت ضائع کرنے کے بجائے میڈیا کو اس اہم ترین ایشو پررائے عامہ بیدارکرنے کے ساتھ ساتھ حکومت پر بھی دباؤ ڈالناچاہئے ۔