بریکنگ نیوز
Home / کالم / شمیم شاہد / نا مناسب سلوک

نا مناسب سلوک


جب بھی ملک میں دہشت گردی یاتشددکاکوئی بڑا واقعہ رونماہوتاہے توگھتیاں سلجھانے والے اسے مزیدپیچیدہ بنادیتے ہیں اوریہی وجہ ہے کہ ابھی تک بڑے بڑے سانحات اورحادثات میں کی جانیوالی تحقیقات بے نتیجہ ثابت ہوئی ہیں چند روز قبل ملک بھرمیں تشدداور دہشت گردی کے چند واقعات رونماہوئے ان واقعات میں سندھ کے تاریخی شہرسیہون شریف میں حضرت لعل شہباز قلندرکے مزارپرہونیوالا سانحہ بہت بڑاتھا ۔ اس سانحے میں لگ بھگ 90 افرادشہید جبکہ 250 سے زائدزخمی ہوئے اسی طرح لاہورمیں صوبائی اسمبلی کے قریب ہونے والے بم دھماکے میں بھی پندرہ افرادشہیدہوگئے جن میں دواعلیٰ پولیس عہدیداربھی شامل تھے‘ پشاورمیں ججوں کولے جانیوالی گاڑی پرہونیوالے خودکش حملے میں ڈرائیورشہیدہوگیااوراسی طرح کوئٹہ میں ہونیوالے بم دھماکے میں دو پولیس اہلکارجبکہ چارسدہ کی تحصیل تنگی میں ہونیوالے خودکش حملوں میں ایک وکیل سمیت آٹھ افراد شہید ہوگئے ان تمام واقعات کے بارے میں ملک بھرکی تمام سیاسی جماعتوں ‘ سیاسی رہنماؤں اورسیاسی تجزیہ کاروں کا ایک جیسا موقف سامنے آیاہے اورتمام کامشترکہ موقف یہ ہے کہ دہشت گرد دوبارہ منظم ہورہے ہیں اوراس کی اصل وجہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے وضع کئے جانیوالے قومی لائحہ عمل کے سفارشات کوردی کی ٹوکری میں ڈالناہے ان واقعات کے بعد پنجاب میں بالخصوص اورسندھ میں بالعموم پختونوں کیساتھ جوسلوک روا رکھاجا رہا ہے وہ کسی وقت بنگالیوں کیساتھ روارکھاگیاتھا پنجاب بھرمیں آپریشن کے نام پرپختونوں کو گرفتار اوران کوعلاقہ بدرکرنے کے علاوہ ان کی جس طریقے سے تضحیک کی جارہی ہے ۔

تمام پختون سیاسی جماعتوں نے نہ صرف اسکی مذمت کی ہے بلکہ اس کے خلاف موثرطریقے سے آوازاٹھانے کابھی فیصلہ کیاہے جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے قائدین نے قومی سطح پرفوجی عدالتوں میں توسیع کے معاملے پرپاکستان پیپلزپارٹی کی کل جماعتی کانفرنس کے بائیکاٹ کااعلان کردیاہے خیبر پختونخوااسمبلی میں عوامی نیشنل پارٹی ،قومی وطن پارٹی اورجماعت اسلامی نے تحریک التوا کے ذریعے پنجاب میں پختونوں کیساتھ ہونے والے سلوک کوزیربحث لانے کااعلان کررکھاہے پاکستان ہی کے شہریت رکھنے والے پختونوں کے علاوہ دہشت گردی کے ان واقعات کے بعد افغانستان اور پاکستان میں رہنے والے یا پاکستان آنیوالے افغان باشندوں کیساتھ جوکچھ کیاجارہا ہے وہ اس سے پہلے کسی بھی دور یا دنیاکے کسی بھی ملک میں نہیں دیکھاگیا ہے حتیٰ کہ پاک افغان سرحد پر جمع ہونیوالے ان افغان باشندوں کوواپس دھکیلا جا رہاہے جوقانونی دستاویزات کیساتھ ایک قانونی گزرگاہ کے ذریعے اپنے وطن واپس جارہے ہیں‘ حتیٰ کہ ان ہزاروں پاکستانی باشندوں کوبھی وطن نہیں آنے دیا جا رہا جو کام کاج ،تجارت یامزدوری کیلئے سرحد کے اس پار گئے ہیں‘ علاقائی سطح پرحکمرانوں کی غلط پالیسیوں اوراقدامات سے مملکت عزیزکوپہلے ہی سے مشکلات کاسامناہے اس میں کوئی شک نہیں کہ افغان حکومت کیساتھ تعلقات پچھلے دوتین سال سے کشیدہ ہیں مگران کشیدہ تعلقات کے باوجودعام افغان لوگ نہ صرف پاکستان اور پاکستان کے لوگوں کے مشکورتھے بلکہ پچھلی چاردھائیوں کے دوران مہمان نوازی کے معترف بھی تھے۔

مگرپچھلے ایک سال سے افغان مہاجرین کیساتھ جوسلوک روارکھاجارہاہے اسکے نتیجے میں اب افغان عوام بھی افغان حکومت کاساتھ دے رہے ہیں افغانستان اورپاکستان نہ صرف دو ہمسایہ ممالک ہیں بلکہ دونوں ممالک کے لوگوں میں نہ ٹوٹنے والے رشتے ہیں‘دہشت گردی کو اگرحقیقی معنوں میں جڑسے اکھاڑناہے تواس مقصد کیلئے نہ صرف سیاسی جماعتوں بلکہ سول اور ملٹری اداروں نے تقریباً دو سال قبل 20دسمبر 2014 کو ایک قومی لائحہ عمل متفقہ طورپر منظور کروایاتھا‘اس قومی لائحہ عمل پر بلاتفریق عمل درآمد کرکے مسئلے کا دیرپاحل نکالا جاسکتاہے مگر افغانستان کے بارے میں توسیع پسندی کی پالیسی کوختم کرنا ہوگاپاکستان اور افغانستان کوایک دوسرے کی آزادی اورخودمختاری تسلیم کرنے کیساتھ ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ ملکردہشت گردی کے خاتمے کیلئے اقدامات اٹھانے ہونگے ایک دوست افغانستان‘پاکستان کو بہت سی مشکلات میں مددفراہم کرسکتاہے افغانستان کوایک دوست ملک کی حیثیت سے بہت آسانی سے غمخوار اور وفادار بنایاجاسکتاہے جبکہ پختونوں کودیوارسے لگانے کے بجائے سینے سے لگاکرملک وقوم کودرپیش مشکلات اورخطرات سے نمٹاجاسکتا ہے ۔