بریکنگ نیوز
Home / کالم / فوجی کاروائی : ممکنہ ممکنات !

فوجی کاروائی : ممکنہ ممکنات !

ماہِ فروری میں پورے ملک میں ہونیوالے خود کش دھماکوں کے بعد ملک سے دہشت گردی کا صفایا کرنے کیلئے سکیورٹی فورسز غالباً ایک دوسرے آپریشن کا آغاز کر چکی ہیں‘ جس میں چاروں میں سے ایک بھی صوبے کو استثنیٰ نہیں دیا گیا تازہ ترین آپریشن میں فوج کے ماتحت‘ نیم عسکری ادارے رینجرز کو پنجاب بھر میں کاروائیاں کرنے کے بھی اختیارات دیئے گئے ہیں دیگر صوبوں میں رینجرز کے جارحانہ کردار کے برعکس یہ صوبہ گزشتہ کافی عرصے سے نیم عسکری فورسز کی کاروائیوں سے محفوظ تھا ایسا مانا جا سکتا ہے کہ آئندہ سال عام انتخابات منعقد ہونے جا رہے ہیں‘ لہٰذا مسلم لیگ نواز کو خدشات لاحق تھے کہ کہیں رینجرز اس کے ممبران یا شدت پسند مذہبی جماعتوں میں موجود اتحادیوں کو نشانہ نہ بنا دیں‘ جنکی حمایت نہایت اہم اور انتخابی حلقوں کے حساب سے سب سے زیادہ اکثریت رکھنے والے صوبہ پنجاب میں فتح دلوانے کیلئے اشد ضروری محسوس ہوتی ہے مگر حالیہ بم دھماکوں سے بگڑتی ہوئی صورتحال نے حکومت کو متحرک کرنے پر مجبور کر دیا کیونکہ اب زیادہ خاموش رہنے کا کوئی آپشن باقی نہ تھا ایسے ہر آپریشن کا آغاز امیدیں پیدا کرتا ہے کہ آپریشن کے ختم ہونے کیساتھ اس ملک میں موجود دہشت گردی کا بھی خاتمہ ہو جائیگا۔ آپ کسی بھی سکیورٹی ماہر سے پوچھیں گے تو وہ آپ کو بتائیں گے کہ ایسی توقعات‘ خاص طور پر ملک کو درپیش کثیر الجہتی دہشت گردی کو دیکھا جائے تو حقیقت میں تبدیل نہیں ہو پاتیں۔ بہتر عمل یہ ہوگا کہ پہلے سے بہتر خفیہ معلومات کے نیٹ ورک اور بہتر تربیت رکھنے والی انسداد دہشت گردی فورسز سے کسی حد تک دہشت گردی پر قابو پا لیا جائے اور دہشت گردی کے واقعات اور ان میں ہونیوالی اموات میں کمی واقع ہو جائے

‘ مگر اس مقام پر پہنچنے میں ابھی کافی عرصہ درکار ہیں۔ پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل راحیل شریف کی سربراہی میں شمالی وزیرستان میں ہونیوالے آپریشن کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں کمی دیکھنے کو ملی‘ اس آپریشن نے دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو جڑ سے اکھاڑ دیا اور ان کے منصوبہ کاروں اور گروہوں کو پاکستان کی سر زمین پر قائم انکی آخری پناہ گاہ سے دھکیل دیا یوں لگتا ہے کہ ’ڈیورنڈ لائن‘ کے ساتھ قانونی رٹ سے عاری ایک بڑے علاقے میں نئے ٹھکانے بنا کر دہشت گرد اپنی مرضی سے ہمارے ملک کے ہر علاقے میں کاروائی کر رہے ہیں کیونکہ پاکستان میں موجود انکے نظریاتی اتحادی یا پھر انکے اس جبر و بربریت میں شراکت دار یا تو ان سے رابطے میں ہوتے ہیں یا پھر خود کو دوبارہ پیدا کر چکے ہیں اس چیلنج کی سنگینی کا اندازہ سکیورٹی حکام کی جانب سے بتائی گئی دہشتگردوں کے کامیاب حملوں کی تعداد اور ناکام بنا دیئے جانے والے حملوں کی تعداد کا موازنہ کر کے لگایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کوئی مخصوص تعداد تو نہیں بتائی‘ مگر افسران کا کہنا ہے کہ درجنوں دہشت گرد حملے ناکام بنائے جاتے ہیں تو ہی کوئی ایک واقعہ وقوع پذیر ہوتا ہے اور اگر یقینی طور پر ہماری مخالف بیرونی طاقتیں بھی اس صورتحال کا فائدہ اٹھا رہی ہیں اور کشمیر جیسے اہم معاملات پر راولپنڈی و اسلام آباد کی خارجہ پالیسی میں تبدیلیاں لانے کی خاطر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تو پھر یہ مسئلہ اور بھی بڑی نوعیت کا ہے۔ ایسی صورتحال میں بھی‘ ہماری اپنے ہاتھ سے بنائی گئی فالٹ لائنز کے بارے میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہئے اسکے ساتھ ریاستی اداروں کو اپنے متبادل‘ غیر ریاستی عناصر کو ترک کرنا ہوگا۔ اِس صورتحال کا خلاصہ یہ ہے کہ کوئی فوجی آپریشن یہ اہداف پورے نہیں کر سکتا۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: افتخار احمد۔ ترجمہ: اََبواَلحسن اِمام)